உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    madhya pradesh: نواب شاہجہاں بیگم کےعہد میں تعمیر کئےگئے منٹو ہال کانام بدل کر رکھا گیا کشابھاؤ ٹھاکرے ہال

    واضح رہے کہ منٹو ہال کی تعمیر بھوپال ریاست کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں اس وقت کی گئی تھی جب لارڈ منٹو جنوری انیس سو دس میں بھوپال میں آئے تھے ۔

    واضح رہے کہ منٹو ہال کی تعمیر بھوپال ریاست کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں اس وقت کی گئی تھی جب لارڈ منٹو جنوری انیس سو دس میں بھوپال میں آئے تھے ۔

    واضح رہے کہ منٹو ہال کی تعمیر بھوپال ریاست کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں اس وقت کی گئی تھی جب لارڈ منٹو جنوری انیس سو دس میں بھوپال میں آئے تھے ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت ناموں کو تبدیل کرکے ترقی کی نئی عبارت رقم کرنے کی جانب گامزن ہے ۔ ایک عمارت کی تبدیلی کا شور کم بھی نہیں ہوتا ہے کہ دوسری عمارت یا مقام کا نام تبدیل کردیا جاتا ہے۔بیرا گڑھ کا نام بدل کر سنت ہردا رام نگر،کولار کا نام بدل کر شیاما پرسادمکھرجی نگر ،لال گھاٹی کا نام بدل کرمہنت چندرما داس تیاگی اور حبیب گنج اسٹیشن کا نام بدل کر رانی کملا پتی اسٹیشن کیا جا چکا ہے ۔حبیب گنج تھانہ ،اسلام نگر اور عید گاہ ہلس کا نام بدلنے کا شور ابھی جاری ہی تھا کہ وزیراعلی شیوراج سنگھ نے بھوپال کے تاریخی منٹو ہال کا نام بدل کر کشا بھاؤ ٹھاکرے کئے جانے کا اعلان کردیا ہے ۔
    واضح رہے کہ منٹو ہال کی تعمیر بھوپال ریاست کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں اس وقت کی گئی تھی جب لارڈ منٹو جنوری انیس سو دس میں بھوپال میں آئے تھے ۔ لارڈ منٹو نے اس عمارت میں قیام کیا تھا۔یہیں نہیں انیس سو چھیالیس میں جب بھوپال میں حمیدیہ کالج قائم کیاگیاتو اسی عمارت میں قائم کیاگیا تھا۔ اس عمارت میں گیان چند جین،جاں نثار اختر ،صفیہ اختر جیسے ممتاز ادیبوں نے اردو کی تدریس کا فریضہ انجام دیا تھا۔ اسی کے ساتھ جب ریاست مدھیہ پردیش کا قیام انیس سو چھپن میں عمل میں آیا تو اسی منٹو ہال کو مدھیہ پردیش کی پہلی اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور دوہزار ایک تک اسی عمارت میں اسمبلی سیشن کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ جب مدھیہ پردیش اسمبلی کے لئے نئی عمارت تعمیر کی گئی تو اس منٹو ہال کو کنونشن سینٹر میں تبدیل کیاگیا اب اس کا نام بدل کر بی جے پی لیڈر کشا بھاؤ ٹھاکرے ہال رکھنے کا اعلان کیاگیا ہے ۔


    مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ ہم جس جگہ پربیٹھے ہیں اس کا نام ہے منٹوہال ۔اب آپ بتاؤ یہ دھرتی اپنی ،یہ مٹی اپنی ،یہ پتھر اپنے یہ گٹی اپنی ،یہ چونا اپنا،یپہ گارا اپنا ،یہ بھون اپنا ،بنانے والے مزدور اپنے ،یہ پسینہ اپنا اورنام منٹو کا۔اس ودھان سبھا میں ،یہ ودھان سبھا بھون تھا اور اس ودھان سبھا بھون میں کئی لوگ بیٹھے تھے۔یہاں سندر لال پٹوا جی ،کیلاش جوشی جی ،وکرم ورماجی ،شیتلا سہائے جی ،جینت ملیا جی ،سکلیچا جی ،لکشمی نارائن شرما جی ،شیوراج سنگھ چوہان بھی بیٹھے،گوپال بھارگو بھی بیٹھے۔اس طرح سے ایک لمبی فہرست ہے ۔اور یہ جتنے نام میں نے بتائے ہیں ان کو اسمبلی اور لوک سبھا پہنچانے والے کون تھے ۔وہ شخصیت ہے کشابھاؤ ٹھاکرے جی کی ہے ۔اس لئے منٹو ہال کا نام کشا بھاؤ ٹھاکرے ہال رکھا جارہا ہے ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما نے حکومت کے ذریعہ تاریخی عمارتوں کے نام تبدیل کرنے پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔مدھیہ پردیش جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ حکومت اپنے کاموں سے وکاس کی نئی عبارت تو لکھ نہیں پا رہی ہے اس لئے ناموں کو تبدیل کرکے عوام کو گمراہ کرنے کا کھیل جا رہی ہے ۔ شیوراج جی میل کے پتھر بدلنے سے ترقی نہیں ہوتی ہے ۔ عوامی فلاح کا کام کیجئے تو عوام خود آپ کو یاد رکھیں گے۔منٹوہال سے غلامی دکھائی دیتی تھی تو کشابھاؤ ٹھاکرے کے نام سے کون سی آزادی معلوم ہوتی ہے ۔ملک کی آزادی کے لئے اگر ان کا کوئی کارنامہ یا بھوپال اور مدھیہ پردیش کی تعمیر و ترقی کے لئے کوئی کام ہو تو عوام کو ضرور بتایاجائے ۔ناموں کو تبدیل کرنا اچھا عمل نہیں ہے ۔



    آپ کو نام رکھنا ہے تو نئی عمارت کو تعمیر کرکے اس کا نام رکھئے اور یہ عمارت تو ایک نئی کئی تاریخوں حوالوں سے قائم ہے ۔جب بھوپال کا حمیدیہ کالج اس عمارت میں قائم ہوا تھا بھوپال کے سبھی لوگ جس میں سبھی مذاہب کے لوگ شامل ہیں اسی عمارت سے پڑھ کر باہر نکلے تھے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: