உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادیبوں نے رشید قدوائی کی کتاب بھارت کے پردھان منتری، دیش دشا اور دشا کو اہم تاریخی دستاویز سے کیا تعبیر

    ممتاز صحافی و ادیب رشید قدوائی کی کتاب بھارت کے پردھان منتری دیش، دشااور دشا پر بھوپال میں مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔

    ممتاز صحافی و ادیب رشید قدوائی کی کتاب بھارت کے پردھان منتری دیش، دشااور دشا پر بھوپال میں مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔

    رشید قدوائی کی کتاب میں پندٹ جواہر لال نہرو سے لیکر اب تک جو بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کے عہد اور کارناموں کا باریک بینی کے ساتھ تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔

    • Share this:
    ممتاز صحافی و ادیب رشید قدوائی کی کتاب بھارت کے پردھان منتری دیش، دشااور دشا پر بھوپال میں مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ بھوپال انڈین کافی ہاؤس میں منعقدہ مذاکرہ میں اردو،ہندی اور انگریزی زبان کے  ممتاز ادیبوں نے شرکت کی اور رشید قدوائی کی کتابوں کو ہندستانی سیاست کے اہم تاریخی دستاویز سے تعبیر کیا۔ رشید قدوائی کی کتاب میں پندٹ جواہر لال نہرو سے لیکر اب تک جو بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کے عہد اور کارناموں کا باریک بینی کے ساتھ تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔ بھارت کے پردھان منتری ۔دیش،دشا اور دشا نامی کتاب کے مصنف رشید قدوائی کہتے ہیں کہ بھارت میں آزادی کے بعد جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کی اپنی شخصیت رہی ہے۔ انہوں نے اپنے عہد میں ملک کہ ہمہ جہت ترقی کے لئے کام کیا ہےلیکن آج ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جسے ہم وہاٹس اپ یونیورسٹی کے عہد سے تعبیر کرتے ہیں جہاں پر بہت ساری غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں کہیں شعوری طور پر تو کہیں پر لا شعوری طور پر کی جاتی ہیں۔تو اس کتاب میں بھارت میں ابتک جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کے عہد کے کارناموں کو دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور یہ بھی پیش کیا گیاہے کہ وہ حساس مسائل جیسے کشمیر اور گؤ کشی کے معاملے میں ان کی اپنی رائے کیا تھی اور انہوں نے ان حساس مسائل کو کس طرح حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    اس کتاب کو لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ آج کے عہد میں جب لوگ کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا جسے انہوں نے سب کچھ مان لیا ہے اور وہاں پر بہت سی غلط فہمیاں جان بوجھ کر پیدا کی جا رہی ہیں اور ایک طرح کا زہر سماج میں پھیلا جا رہا ہے اور ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے جو وزیراعظم ہوئے ہیں وہ نااہل تھے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں انکا کوئی کردار نہیں تھا اور انہوں نے حساس مسائل چاہے وہ چین کا معاملہ ہو،پاکستان کا معاملہ ہو ،کشمیر کا معاملہ ہو ان کو لیکر وہ بیدار نہیں تھے اور انہوں نے اپنے عمل سے سماج اور ملک کو کمزرو کیا ہے۔تو میرا ماننا یہ ہے کہ ملک کے جتنے بھی وزیر اعظم ہوئے ہیں ان کی پارٹی کوئی بھی رہی ہوملک کی تعمیر وترقی اور سرحدوں کی حفاطت کے لئے وہ صد فیصد وفادار رہے ہیں۔
    ممتاز ادیب رام پرکاش ترپاٹھی نے مذاکرہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس چھوٹی سے کتاب میں جس طرح سے تمام اہم پہلوؤں کو سمیٹا گیا ہے وہ اپنے آپ میں اہم ہے اور اس کے لئے رشید قدوائی صاحب کو مبارکباد پیش کی جانا چاہیئے کہ انہوں نے بیباک ہوکر اپنی کتاب میں سبھی وزیر آعظم کے عہد کا جس طرح سے جائزہ پیش کیا ہے وہ انکی عملی اور سیاسی بصرت کی دلیل ہے ۔
    ممتاز ادیب منوج شریواستو نے مذاکرہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رشید قدوائی نے جس میچوریٹی کے ساتھ کتاب کو لکھا ہے اس سے آزادی کے بعد ہندستان کے سیاسی منظر نامہ پر ہی نہیں بلکہ اس عہد کے لیڈران کی سیاسی سمجھ بھی سامنے آتی ہے اور اس کتاب کو میں ایک اہم سیاسی دستاویز سے تعبیر کرتا ہوں اور یہ کتاب طلبا کے لئے مفید ثابت ہوگی ۔

    مذاکرہ میں لجا شنکر ہردنیا،راجیش جوشی،سریش پچوری،راکیش دوبے،بادل سروج،چندر کانت نائیڈو،راجیش بادل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور رشید قدوائی کتا ب کو عہد حاضرکے لئے ایک ایسا آئینہ قرار دیا جس میں سماج کے ساتھ سیاست داں کا چہرہ بھی صاف نظر آتاہے۔
    بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
    Published by:Sana Naeem
    First published: