உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بابری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہے گی : مولانا محمد قطب الدین رضوی

    بابری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہے گی : مولانا محمد قطب الدین رضوی

    بابری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہے گی : مولانا محمد قطب الدین رضوی

    ناظم اعلی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا عمل و کردار قابل رشک و تحسین ہے کہ بابری مسجد معاملہ میں عدالت عظمی کے فیصلہ آنے کے بعد امن ویکجہتی کا عظیم مظاہرہ کیا ۔

    • Share this:
    رانچی : تنظیم علماء عالم اسلام فی الھند کے جوائنٹ سکریٹری اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا محمد قطب الدین رضوی نے یوم شہادت بابری مسجد کے موقع سے کہا کہ بابری مسجد ایک تاریخی مذہبی اور وراثتی مسجد ہے ، جہاں پر چار سو سال سے زیادہ دنوں تک نماز پنجگانہ ، جمعہ ونماز عیدین ادا کی جاتی رہی مگر سیاست اور توڑو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت سیاسی فائدے کے لئے 1949 میں بابری مسجد میں رات کی تاریکی میں مورتی رکھ کر ہندوستان کی تاریخ، قومی یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کی تہذیب وتمدن کوپاش پاش کردیا گیا اور پھر چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا گیا ۔

    ناظم اعلی نے کہا کہ بابری مسجد اپنی زمین پر قائم تھی ۔ مسجد کی بنیاد سے پہلے یہاں نہ کوئی عمارت تھی نہ غیرمسلموں کی عبادت گاہ تھی بلکہ وہ زمین اور عمارت بابری مسجد ہی کی تھی ۔ چونکہ جب کوئی مسجد بنتی ہے تو پاک وصاف اور غیر متنازع زمین پر بنتی ہے اور یہی شان بابری مسجد کی تھی ۔

    ناظم اعلی نے کہا کہ بابری مسجد معاملہ میں ملک کے مسلمانوں نے ہمیشہ بہت ہی صبر و تحمل سے کام لیا اور گذشتہ سال جب فائنل فیصلہ عدالت عظمی کا آیا ، تب بھی مسلمانوں نے بہت ہی صبر و تحمل کیا اور آج بھی کررہے ہیں ۔ کیونکہ مسلمان امن پسند ہیں کبھی بھی نقص امن کو برداشت نہیں کرتے ۔ مسلمان اپنے ملک کی عظمت و وقار کے لئے جانوں کی بازی لگاتے رہے ہیں اور اپنے دین ، مذہب اور ملک کے لئے قربانی پیش کرتے رہیں گے ۔

    ناظم اعلی نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا عمل و کردار قابل رشک و تحسین ہے کہ بابری مسجد معاملہ میں عدالت عظمی کے فیصلہ آنے کے بعد امن ویکجہتی کا عظیم مظاہرہ کیا ۔ قطب الدین رضوی نے کہا کہ 6 دسمبر1992 کو صرف بابری مسجد ہی کو شہید نہیں کیا گیا بلکہ ہندوستان کے مضبوط سیکولرزم کی بنیادوں کو بھی ڈھا دیا گیا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: