உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا وائرس قہر کے سبب بھوپال گیس سانحہ متاثرین کی شرح اموات میں اضافہ: جانیں پورا معاملہ

    گیس متاثرین پر ایم آئی سی کا عذاب تو ٹوٹا ہی تھا اب کورونا کی وبائی بیماری ان پر ایک نیا عذاب بن کر آئی ہے۔

    گیس متاثرین پر ایم آئی سی کا عذاب تو ٹوٹا ہی تھا اب کورونا کی وبائی بیماری ان پر ایک نیا عذاب بن کر آئی ہے۔

    گیس متاثرین پر ایم آئی سی کا عذاب تو ٹوٹا ہی تھا اب کورونا کی وبائی بیماری ان پر ایک نیا عذاب بن کر آئی ہے۔ بھوپال میں گیس سانحہ 2دو اور 3دسمبر1984 کی درمیانی رات کو پیش آیاتھا۔ 2دو اور 3 دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تو لاکھوں لوگ آج بھی اس کے مضر اثرات سے دوچار ہیں ۔

    • Share this:
    بھوپال گیس سانحہ کو گزرے ہوئے چھتیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس حادثہ کو دنیا کے لوگ بھلے ہی بھول گئے ہوں مگر گیس متاثرین آج گیس سانحہ اور اس کے مضر اثرات کے سبب زندگی اور موت کی کشمکش کے بیچ زندگی گزارنے کو مجبور ہیں۔ گیس متاثرین پر ایم آئی سی کا عذاب تو ٹوٹا ہی تھا اب کورونا کی وبائی بیماری ان پر ایک نیا عذاب بن کر آئی ہے۔ بھوپال میں گیس سانحہ 2دو اور 3دسمبر1984 کی درمیانی رات کو پیش آیاتھا۔ 2دو اور 3 دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تو لاکھوں لوگ آج بھی اس کے مضر اثرات سے دوچار ہیں ۔

    سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق اس رات گیس حادثہ سے پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ باہتر ہزاردو سو چوہتر لوگ زیلی گیس سے متاثر ہوئے تھے۔ گیس متاثرین کے علاج کے لئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے وعدے تو بہت کئے مگر دونوں ہی حکومتوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا یہی وجہ ہے کہ گیس سانحہ کے چھتیس سال بعد بھی گیس متاثرین خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں کورونا کی دستک سے پہلے ہی گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے کورونا کے وبائی قہر سے بچنے کے لئے حکومت سے گیس متاثرین کے لئے خصوصی توجہ دینے کے لئے مطالبہ کیا تھا مگر حکومت نے ان کے مطالبات پر عمل نہیں کیا ۔یہی وجہ ہے کہ گیس متاثرین کاگنریس اور بی جے پی دونوں حکومتوں سے ناراض ہیں ۔


    بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم بھوپال گروپ فار ایکشن اینڈ انفارمیشن کی رکن رچنا ڈھینگرا کہتی ہیں کہ کورونا کی وبائی بیماری نے گیس متاثرین کے ساتھ حکومت کی ناانصافی کو سامنے لاکر رکھدیا ہے۔جو لوگ کل تک یہ کہتے تھے کہ گیس حادثہ کااثر ختم ہوگیا ہے ایک رات کے بعد اب کوئی گیس متاثرین نہیں ہے انہیں رپورٹ نے بتادیا کہ کورونا کی وبائی بیماری کے سبب گیس متاثرین کی شرح اموات عام شہریوں کی شرح اموات سے چھ اعشاریہ پانچ فیصد زیادہ ہے۔


    بھوپال گیس پیڑت مہیلا اسٹیشنری کرمچاری سنگھ کی رشیدہ بی کہتی ہیں کہ بھوپال میں کورونا کی وبائی بیماری کے سبب ساڑھے چار سو اموات ہوئی ہیں ان میں چھپن فیصد اموات کا تعلق گیس متاثرہ بستیوں سے ہے ۔ جب کہ بھوپال میں گیس متاثرین کی آبادی کا تناسب کل سترہ فیصد ہے۔اس لئے ہماری حکومت سے مانگ ہے کہ حکومت کی عدم توجہی سے جن گیس متاثرین کی کورونا کی وبائی بیماری سے موت ہوئی حکومت انہیں معاوضہ دے ۔ ویسے بھی حکومتوں نے ہمیں ملٹی نیشنل کے لئے کام کیاہے انہیں کبھی بھوپال کے شہریوں کی فکر نہیں رہی ہے۔ بھوپال گیس متاثرین کو ابتک جو کچھ ملا ہے وہ عدالت کی مداخلت سے ملا ہے ۔ہم پھر عدالت سے رجوع کرینگے اور تب تک تحریک چلاتےرہیں گے جب تک گیس متاثرین کو انکا حق نہیں مل جاتا ہے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: