اپنا ضلع منتخب کریں۔

    انصاف کے انتظار میں گیس متاثرین نے گزاردئے 38 سال، اپنے حقوق کیلئے گیس متاثرین نے سپریم کورٹ سے کیا رجوع

    معروف سماجی کارکن شیلندر شیلی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس متاثرین کے حقوق کے لئے کمپونسٹ پارٹی کے ذریعہ اڑتیس سالوں سے احتجاج جاری ہے لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ سرکاروں کے ذریعہ گیس متاثرین کے مفاد کو چھوڑکر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کیا جارہا ہے ۔

    معروف سماجی کارکن شیلندر شیلی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس متاثرین کے حقوق کے لئے کمپونسٹ پارٹی کے ذریعہ اڑتیس سالوں سے احتجاج جاری ہے لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ سرکاروں کے ذریعہ گیس متاثرین کے مفاد کو چھوڑکر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کیا جارہا ہے ۔

    معروف سماجی کارکن شیلندر شیلی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس متاثرین کے حقوق کے لئے کمپونسٹ پارٹی کے ذریعہ اڑتیس سالوں سے احتجاج جاری ہے لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ سرکاروں کے ذریعہ گیس متاثرین کے مفاد کو چھوڑکر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کیا جارہا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ  بھوپال گیس سانحہ کو اڑتیس سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اتنے بڑے حادثہ کو سرکاروں کے ساتھ آپ بھلے ہی بھول گئے ہوں مگر گیس متاثرین کے لئے حادثہ کے اڑتیس سال بعد بھی حالات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دو اور تین دسمبر انیس سو چوراسی کی  درمیانی رات  بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانہ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے اس رات تو ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی ہی تھی مگر حادثہ کے اڑتیس سال بعد اب بھی لاکھوں لوگ زہریلی گیس کے مضر اثرات کے کرب سے گز رہے ہیں۔ ہماری سرکاروں نے اب اس پر بات کرنا بند کردیا ہے لیکن برٹین کی پارلیمنٹ میں گیس حادثہ پر گزشتہ ماہ ہی بحث ہوئی تھی ۔گیس حادثہ کی اڑتیسویں برسی پر بھوپال میں سماجی تنظیموں کے ذریعہ انیس مقامات پر جلسہ ،جلوس اور احتجاج کر کے اپنی آواز بلند کی گئی اور آخری دم تک حق کی لڑائی کے لئے تحریک کو جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیاگیا۔
    معروف سماجی کارکن شیلندر شیلی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گیس متاثرین کے حقوق کے لئے کمپونسٹ پارٹی کے ذریعہ اڑتیس سالوں سے احتجاج جاری ہے لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ سرکاروں کے ذریعہ گیس متاثرین کے مفاد کو چھوڑکر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کیا جارہا ہے ۔ یہ سرکاریں جس میں بی جے پی اور کانگریس دونوں شامل ہیں پارٹی فنڈ کے نام پر اسی کمپنی سے چندہ لیتی ہیں اور ان کے خلاف کاروائی کرنے سے کتراتی ہیں۔لیکن گیس متاثر تھک کر بیٹھنے والے نہیں ہیں ،جب تک انصاف نہیں مل جاتا ہماری تحریک جاری رہے گی۔
    بھوپال گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن کی صدر ندا شاہور کہتی ہیں کہ اڑتیس سال بہت ہوتے ہیں ۔ حکومتوں کی نیت صاف ہوتی تو ان سالوں میں گیس متاثرین کے زخموں پر نہ صرف مرحم رکھا گیا ہوتا بلکہ انہیں ہر طرح سے انصاف دیاگیا ہوتا ۔لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ،ہم غیروں سے کیا شکوہ کریں ہماری سرکاریں بھوپال کے قاتل وارن اینڈرسن کو عدالت میں بھی پیش نہیں کر سکیں ۔دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ کے ذمہ داروں کو آج تک ایک پل کی بھی سزا نہیں ٹل سکی ۔ہمارے بیچ جو لوگ بیٹھے ہیں ان میں خواتین کی تعداد زیادہ مرد کم ہیں ۔ یہ وہ خواتین ہیں جن کے شوہر اب اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ یہپ بیوہ ہیں مگر حکومت اعلان کے بعد بھی انہیں ایک ہزارروپیہ ماہانہ بیوہ پیشن کے پابندی سے نہیں ادا کر رہی ہے ۔ہم لوگوں نے آج اپنے مطالبات کو لیکر احتجاج کیااور گورنر صاحب کو میمورنڈم بھی پیش کیا ہے تاکہ گیس متاثرین کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
    وہیں بھوپال گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی مورچہ کے صدر بال کرشن نامدیو کہتے ہیں کہ گیس متاثرہ بیوہ خواتین کو بہت معمولی پینشن دی جاتی ہے وہ بھی کبھی وقت پر نہیں ملتی ہے ۔ہماری مانگ ہے کہ حکومت ان کی پینش کو بڑھا کر تین ہزار کرے اور ہر گیس متاثر شخص کو چھ لاکھ روپیہ کا معاوضہ ادا کرے۔

     

    دہلی فساد سے جڑے کیس میں عمر خالد اور خالد سیفی کو کورٹ نے کیا بری، جانئے پورا معاملہ

    آفتاب جو دکھا رہا ہے کیا وہی سچ ہے؟ پولیس کیلئے پہیلی بنا اس کا رویہ

    وہیں گیس متاثرین کے مسیحا سائرہ جبار کہتی ہیں کہ گیس متاثرین کو ہر طرف سے حکومتوں کے ذریعہ ٹھگنے کا کام کیاگیا ہے۔ کاربائیڈ فیکٹری میں آج بھی ہزاروں ٹن کیمیکل کچرا پڑا ہوا جس کے سبب یونین کاربائیڈ کارخانہ کے آس پاس کی بستوں کا زیر زمین پانی آلودہ ہوچکا ہے ۔ ان بستیوں میں اب تیسری اورچوتھی پیڑ’ھی میں بچے معذور پیدا ہورہے ہیں اور حکومت سارے مسائل سے آنکھ بند کرلینا چاہتی ہے جسے گیس متاثر افراد کبھی نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ سرکار خود بتائے انصاف کب ملے گا۔ اتنے بڑے صنعتی حادثہ کے لئے حکومت کو ابھی اور کتنے سال چاہیئے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: