உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال گیس سانحہ کی 37ویں برسی پر مختلف پروگراموں کا کیاگیا انعقاد، نم آنکھوں کے ساتھ پیش کی خراج عقیدت

    Youtube Video

    بھوپال میں گیس سانحہ کی برسی کے موقع پر ہر سال کی طرح امسال بھی کئی پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ حکومت کی جانب سے بھوپال برکت اللہ بھون میں گیس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کو حراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سرو دھرم سبھا کا انعقاد کیاگیا۔

    • Share this:
    بھوپال گیس سانحہ کو سینتس سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ تین دسمبر کا سورج طلوع ہونے کے ساتھ گیس سانحہ کے اڑتیسویں سال کا آغاز ہوگیا ہے ۔ گیس سانحہ کی سینتسویں برسی کے موقعہ پر سرکاری،غیر سرکاری اور گیس متاثرین کے ذریعہ متعدد پروگرام کا انعقاد کیاگیا اور نم آنکھوں سے گیس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔
    بھوپال کے گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ گیس سانحہ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو پیش آیاتھا۔ بھوپال یونین کاربائیڈ سے نکلنے والی میتھائل آئیسو سائنائیڈ گیس کے مضر اثرات سے اس سیاہ رات جو سوئے وہ اٹھے ہی نہیں ۔ جو قیامت صغرا کا شور سن کر اٹھے بھی تو انہیں یہ ہوش نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے ۔ جو خوش نصیب تھے وہ موت کے منھ سے باہر تو نکل آئے لیکن زہریلی گیس کے اثرات نے ان کی زندگی کو موت سے بھی بدتر کردیا۔ گیس متاثرین کے احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے بھوپال میں ملٹی اسپیشلٹی اسپتال تو بنائے گئے ہیں لیکن ان اسپتالوں میں نہ تو کبھی ڈاکٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی دوائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گیس متاثرین  حادثہ کے سینتس سال بعد بھی اپنے علاج اور معاوضہ کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں ۔
    بھوپال میں گیس سانحہ کی برسی کے موقع پر ہر سال کی طرح امسال بھی کئی پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ حکومت کی جانب سے بھوپال برکت اللہ بھون میں گیس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کو حراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سرو دھرم سبھا کا انعقاد کیاگیا۔ سرو دھرم سبھا میں مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل نے خصوصی طور پر شرکت کی اور گیس سانحہ کے مہلوکین کو اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کیا۔پروگرام میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنما نے بھی شرکت کی اور اپنے اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام میں شیوراج کابینہ کے وزیر برائے گیس راحت وشواس سارنگ نے بھی شرکت کی لیکن انہوں نے گیس متاثرین نے مسائل پر لب کشائی کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
    وہیں دوسری جانب بھوپال کے گیس متاثرین اور سماجی تنظیموں کے ذریعہ گیس سانحہ کی برسی پر الگ الگ پروگرام کا انعقاد کرکے گیس متاثرین کے مسائل سے چشم پوشی کے لئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔گیس متاثرین کے مسیحا مرحوم عبدالجبار کی تنظیم بھوپال گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن کے زیر اہتمام بھوپال یادگار شاہجہانی پارک میں پروگرام کا انعقاد کیاگیا اور حکومت سے گیس متاثرین کے علاج،معاوضہ اور گیس حادثہ کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کیاگیا۔جبکہ سنیکت مورچہ کے ذریعہ حکومت کا پتلہ نذر آتش کرتے ہوئے گیس متاثرین کے نام پر دلالی کرنے والوں کے خلاف جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے احتجاج کرتےہوئے گیس متاثرین کے مسائل کے لئے کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔
    بھوپال گیس پیڑت مپیلا اسٹیشنری سنگھرش مورچہ اور گروپ فار ایکشن اینڈ انفارمیشن کے ذریعہ ریلی نکال کر گیس متاثرین کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیاگیا اور گیس متاثرین کے مسائل کو لیکر نئے عزم کے ساتھ تحریک چلانے کا اعلان کیاگیا۔
    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے گیس سانحہ کی برسی پر حکومت کی خاموشی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے گیس متاثرین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنےکا مطالبہ کیا۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ کانگریس کے عہد میں گیس متاثرین کے لئے جو سلائی سینٹر شروع کئے گئےتھے شیوراج سنگھ حکومت نے اسے بھی بند کر کے گیس متاثرین پر جبر کرنے کا کام کیا ہے شیوراج سنگھ کے ذریعہ گیس سانحہ کی بیوہ خواتین کو پینشن جاری کرنے کا گزشتہ سال اعلان تو کیاگیا تھا مگر اس پر آج تک عمل نہیں کیاگیا۔ بیس دسمبر سے اسمبلی سیشن شروع ہونے والا ہے گیس متاثرین کے مسائل کو لیکر اسمبلی میں بھی سوال لگایا جائے گا۔

    وہیں بھوپال گروپ فار ایکشن اینڈ انفارمیشن کی کنوینر رچنا ڈھینگرا کہتی ہیں کہ جب حکومتوں کی نطر اپنے مفاد اور پارٹی فنڈ پر ہو تو کاروائی کون کریگا۔ کاگنریس ہو یا بی جے پی دونوں پارٹیوں نے ڈاؤ کیمکل سے پارٹی فنڈ کے نام پر چندہ لینے کا کام کیا ہے ۔ حکومت کے ذریعہ گیس حادثہ کے ذمہ داران کو سزا دینے کے بجائے میموریل بنانے کی بات کی جارہی ہے او رجب تک یونین کاربائیڈ کارخانہ کیمپس میں پڑے ہزاروں ٹن کمیکل کو صاف نہیں کیا جاتا ہے گیس متاثرین اپنی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
    وہیں بھوپال سرو دھرم سبھا کے سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ گیس متاثرین کے سامنے سے بڑا مسئلہ ان کے بچوں کی تعلیم کاہے ۔ہماری حکومت سے مانگ ہے کہ گیس متاثرین کے بچوں کی مفت تعلیم اور ان کے روزگار کا انتظام کیا جائے اور اپنے اس مطالبہ کو لیکر ہم وزیر اعلی گورنر سے بھی ملاقات کرینگے ۔
    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: