உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد ، کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد

    بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد

    بھوپال گیس سانحہ : متاثرین نے خشک آنکھوں سے اپنوں کو کیا یاد

    بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔

    • Share this:
    بپوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو یہ حادثہ پیش آیا تھا ۔ دو دسمبر کو جولوگ اپنی خواب گاہوں میں سوئے تو یہ انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس رات کی صبح نہیں ہوگی  اور جو اس رات کو قیامت صغرا کے شور سے بیدار ہوئے ، انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی اگلی منزل کہاں ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حادثہ کی رات پندرہ ہزار اموات اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زہریلی گیس کے اثرات سے متاثر ہوئے تھے۔ کہنے کو اس حادثہ کو چھتیس سال مکمل ہوگئے ہیں اور تین دسمبر کی صبح ستم کی ایک نئی صبح کے ساتھ سینتیسویں سال کا آغاز ہوگیا ۔ ان بیتے چھتیس سالوں پر گیس متاثرین جب نظر ڈالتے ہیں ، تو اپنے کو اپنی ہی حکومتوں کے ذریعہ ٹھگا ہوا پاتے ہیں ۔ ان چھتیس سالوں میں گیس متاثرین پر اتنے ستم ٹوٹے ہیں کہ اپنوں کو یاد کر کے ان کی آنکھیں خشک ہوگئی ہیں ۔

    بھوپال گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع برکت اللہ بھون میں کل مذاہب دعائیہ اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔ دعائیہ اجتماع میں سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔ پروگرام کے پہلے حصے میں سبھی مذاہب کے رہنماؤں نے اپنے مذاہبی عقائد کی روشنی میں گیس ساانحہ کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ پھر کل مذہبی دعائیہ اجتماع میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے گیس حادثہ کے مہلوکین  کو حراج عقید ت پیش کی گئی ۔

    مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دعائیہ اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے وہی کہا کہ جو وہ پندرہ سالوں سے کہتے آئے ہیں ۔ ہمیں ترقی اور ماحولیات کے بیچ اعتدال قائم کرنا ہوگا۔ بھوپال حادثہ جو ہوچکا ہے اب یہ نہیں دہرایا جائے اس کے لئے ہمیں انتظام کرنا ہوگا ۔ وزیر اعلی نے گیس متاثرین کی بیواؤں کی دوہزار انیس سے رکی ہوئی پینشن کو جاری کرنے کا اعلان کیا اور تاحیات جاری کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گیس حادثہ کی یاد میں گیس اسمارک بنانے کے لئے گیس راحت وزیر وشواس رانگ کو خاکہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔

    مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔
    مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے بھی کل مذاہب دعائیہ اجتماع میں شرکت کی ۔


    وہیں دعائیہ اجتماع میں شریک سینئر کانگریس لیڈر وسابق وزیر پی سی شرما نے کہا کہ اعلانات سے کچھ نہیں ہوتا ہے ، کام کرکے دکھانا ہوگا۔ گیس متاثرین اتنے سالوں سے اعلان ہی تو سن رہے ہیں ۔

    گیس سانحہ کی چھتیسویں برسی کے موقع پر ایم پی جمیعت علما نے قران خوانی کر کے گیس حادثہ کے شہیدوں کو خرج عقیدت پیش کی ۔ جبکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ، ایم پی سنیکت مورچہ نے چھتیسویں برسی پر احتجاج اور حکومت کا پتلہ ندر آتش کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ جبکہ گیس پیڑت مہیلا ادھوگ سنگٹھن ،گیس پیڑت نراشت پینشن بھوگی مورچے کے کارکنان نے یونین کاربائیڈ کارخانے کے سامنے انسانی زنجیر بناکر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

    جمعیت علما ایم پی کے سکریٹری محمد کلیم  ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ایم پی کے چھتیس سالہ اقتدار میں بی جے پی اور کانگریس ہی کی حکومتیں رہی ہیں اور دونوں ہی پارٹیوں نے گیس متاثرین کے مفاد کو نظر انداز کر کے کمپنی اور ملٹی نیشنل کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا کام کیا ہے ۔ راجیو گاندھی نے عدالت کے باہر علاج و معاوضہ کے نام پر ڈاؤ کیمکل سے جو سمجھوتہ کیا تھا ، اس میں تین ہزار موت اور ایک لاکھ دو ہزار زخمیوں کا معاوضہ شامل تھا ۔ جبکہ سپریم کورٹ نے جو فہرست جاری کی تو اس میں اس نے لکھا کہ اس سیاہ رات پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ باہتر ہزار چار سو چوہتر لوگ زیریلی گیس سے متاثر ہوئے تھے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت گیس متاثرین کو پانچ گنا معاوضہ دے ۔

    وہیں پرمود پردھان کہتے ہیں کہ ہمیں حکومتوں سے نہ پہلے امید تھی اور نہ ہی آج امید ہے ۔ گیس متاثرین کو جو کچھ ملا ہے وہ عدالت کی مداخلت سے ملا ہے۔ آج بھی حکومت نے گھڑیالی آنسو بہاکر رسم ادائیگی کی ہے ، لیکن ہم نے انسانی زنجیر بناکر حکومت کو بتا دیا کہ گیس متاثرین کا اتحاد قائم ہے اور ہم آخری دم تک اپنے حق کے لئے لڑتے رہیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: