உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال گیس متاثرین نے حکومت کے خلاف کھولا مورچہ، متاثرین نے گیس سانحہ کی برسی تک تحریک چلانے کا کیا اعلان

    ن تنظیموں کا الزام کا ہے کہ گیس سانحہ کے سینتس سالوں میں حکومتوں کی وعدہ خلافی کے سوا ان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا ہے ۔

    ن تنظیموں کا الزام کا ہے کہ گیس سانحہ کے سینتس سالوں میں حکومتوں کی وعدہ خلافی کے سوا ان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا ہے ۔

    گیس متاثرین کی مانیں تو اس سیاہ رات اور آج کی رات میں وہ کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں کرتے ہیں۔ تین دسمبر کی صبح حادثہ کے اڑتیسویں سال کا آغاز ہو جائے گا۔حکومتوں کے دعوی اور وعدے سے ناراض گیس متاثرین نے آج سے سینتس دن تک اپنے مطالبات کو لیکر مسلسل تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے ۔

    • Share this:
    بھوپال گیس سانحہ کو دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا گیس سانحہ  (Bhopal Gas Tragedy) کہا جاتا ہے ۔دو اور تین اور دسمبر انیس سو چوارسی کی درمیانی رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانہ سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے ہزاروں لوگوں کی اس سیاہ رات میں موت ہوئی تھی اور لاکھوں آج بھی گیس کے مضر اثرات سے موت اور زندگی کی کشمکش کے بیچ زندگی گزارنے کو مجبور ہیں۔ گیس سانحہ کے گزرے  ہوئے یوں تو سینتس سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن گیس متاثرین کی مانیں تو اس سیاہ رات اور آج کی رات میں وہ کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں کرتے ہیں۔ تین دسمبر کی صبح حادثہ کے اڑتیسویں سال کا آغاز ہو جائے گا۔حکومتوں کے دعوی اور وعدے سے ناراض گیس متاثرین نے آج سے سینتس دن تک  اپنے مطالبات کو لیکر مسلسل تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے ۔
    حکومت کی وعدہ خلافی سے ناراض بھوپال کے گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی چار تنظیمیں بھوپال گیس پیڑت مہیلا اسٹیشنری کرمچاری سنگھ، بھوپال گیس پیڑت مہیلا پروش سنگھرش  مورچہ،بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن  اور ڈاؤ۔کاربائیڈ کے خلاف بچے نامی تنظیموں نے ایک ساتھ مورچہ کھولا ہے۔ ان تنظیموں کا الزام کا ہے کہ گیس سانحہ کے سینتس سالوں میں حکومتوں  کی وعدہ خلافی کے سوا ان کے حصہ میں کچھ نہیں آیا ہے ۔ بھوپال گروپ فارانفارمیشن اینڈایکشن کی  کنوینر رچنا ،ڈھینگرا کہتی ہیں کہ حادثہ کے سینتس سالوں میں ہماری حکومتوں نے گیس متاثرین کو چھوڑکر ڈاؤ کیمیکل اور یونین کاربائیڈ کو پروٹیکٹ کرنے کاکام کیا ہے ۔ ہماری عدالتوں کے ذریعہ ایک دو بار نہیں بلکہ چھ بار سمن جاری کرنے کے بعد حکومتیں حادثہ کے ذمہ داران کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔بھوپال عدالت میں شیوراج سنگھ حکومت اور سابقہ منموہن حکومت نے معاوضہ کو لیکر وعدہ کیا تھا مگر آج تک اس سلسلہ میں گیارہ سال ہو گئے ہیں اور ایکسٹرا معاوضہ کے معاملے میں دونوں حکومتوں کے ذریعہ ایک بھی درخواست نہیں لگائی گئی ہے۔ بھوپال میں شیوراج سنگھ حکومت کے ذریعہ گیس حادثہ کی یاد میں میموریل بنانے کی بات کہی جارہی لیکن ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جس یونین کاربائیڈ کارخانہ کیمپس میں اٹھارہ ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ کیمکل کچرا پڑا ہواہے وہاں کی صفائی کے بغیر میموریل کیسے بنایا جا سکتا ہے ۔ یہی نہیں آج تک حکومتیں گیس متاثرین کے علاج کو یقینی نہیں بنا سکیں ہیں۔اب تو زہریلی گیس کا اثر چوتھی پیڑھی پر پہنچنے لگا ہے اور یونین کاربائیڈ سے متصل بستیوں میں بچے معذور پیدا ہوتے ہیں جن کی جانب حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ آج سے سینتس دن تک حکومت سے گیس متاثرین کے معاملات کو لیکر ہر روز ایک سوال پوچھا جائے گا اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا۔
    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے گیس راحت وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ کانگریس کی حکومتوں نے گیس متاثرین نے مسائل کو نطر انداز کیا تھا ۔ گیس متاثرین بیوہ خواتین کی پینشن بھی کمل ناتھ حکومت کے ذریعہ بند کی گئی تھی جسے شیوراج سنگھ حکومت نے جاری کرنے کا کام کیا ہے۔گیس متاثرین کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے حکومت کو سبھی کا خیال ہے۔

    ایم پی کانگریس کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ گیس متاثرین بیوہ خواتین کی پینشن بند کرنے کا کام بھی شیوراج سنگھ حکومت نے ہی کیا تھا۔ اگر وزیر موصوف کو یاد نہیں ہے تو دستاویز دیکھ لیں اور دوسر ی بات جو پینشن جاری کرنے کی ہے شیوراج سنگھ نے تین دسمبر دوہزار بیس کی صبح تاحیات پینشن جاری کرنے کا اعلان کیا تھا جسے حکومت نے اب جاری کیا ہے اس میں بھی پندرہ ماہ کی پیشن اور اس کا ایریر نہیں دیا گیا ہے ۔عدالت میں بھی شیوراج سنگھ نے گھڑیالی آنسو بہاتے ہوئے ایکسٹرا معاوضہ دینے کا اعلان دوہزار دس میں کیا تھا جس پر آج تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: