ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: کل تک جاری نہیں ہوا بجٹ تو ہو جائے گا لیپس، جانیں کیا ہے معاملہ

بجٹ جاری نہیں ہونے سے جہاں اقلیتی اداروں کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں مل سکی ہیں۔ وہیں کل تک بجٹ جاری نہیں کیاگیا تو یہ بجٹ لیپس ہو جائے گا اور کورونا قہر میں اقلیتی اداروں کے ملازمین کے سامنے نئےمسائل کھڑے ہو جائیں گے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: کل تک جاری نہیں ہوا بجٹ تو ہو جائے گا لیپس، جانیں کیا ہے معاملہ
بجٹ جاری نہیں ہونے سے جہاں اقلیتی اداروں کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں مل سکی ہیں۔

مدھیہ پردیش حکومت سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کی بات تو کرتی ہے لیکن عملی طور پر اس کا فقدان نطر آتا ہے ۔ مالی سال دوہزار بیس اکیس کل ختم ہو جائے گامگر مدھیہ پردیش میں کئی اقلیتی ادارے ایسے ہیں جن کے بجٹ کی آخری قسط حکومت نے ابھی تک جاری نہیں کی ہے۔ بجٹ جاری نہیں ہونے سے جہاں اقلیتی اداروں کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں مل سکی ہیں۔  وہیں کل تک بجٹ جاری نہیں کیاگیا تو یہ بجٹ لیپس ہو جائے گا اور کورونا قہر میں اقلیتی اداروں کے ملازمین کے سامنے نئےمسائل کھڑے ہو جائیں گے ۔ اقلیتی اداروں کے بجٹ لیپس ہونے کا معاملہ یہ پہلی بار نہیں ہوگا گزشتہ سال بھی مساجد کمیٹی جس کے ذریعہ ائمہ و موذنین کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے ،بجٹ جاری نہیں ہونے سے بیالیس لاکھ روپیہ لیپس ہوگئے تھے ۔مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کے بجٹ کو لیکر محبان بھارت اور مدھیہ پردیش علما بورڈ کے ذمہ داران نے مساجد کمیٹی اور حج کمیٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور جلد سے جلد ان کےبجٹ کی آخری قسط جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

محبان بھارت کمیٹی کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ ایک تو اقلیتی اداروں کا بجٹ ویسے بھی بہت کم ہے اور اس کے ذریعہ ائمہ و موذنین کو جو نذرانہ ادا کیا جاتا ہے وہ بھی کلکٹریٹ سے کم ہے ۔اتنا مختصر نذرانہ بھی وقت پر ادا نہ کیا جائے تو شرم آتی ہے ۔آج تیس مارچ ہوگئی ہے اور کل تک بجٹ جاری نہیں کیا گیا تو یہ بجٹ لیپس ہو جائے گا ۔ ہم نے مساجد کمیٹی اور حج کمیٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کر کے جلد سے جلد بجٹ کی آخری قسط جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بجٹ لیپس نہ ہو اور اقلیتی اداروں کے ملازمین کو انکی تنخواہیں مل سکیں ۔


مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر مولانا سید انس علی کہتے ہیں کہ یہ صرف عدم توجہی ہے اور کچھ نہیں ہے ۔ جب سبھی اداروں کے بجٹ پہلے جاری کئے جاچکے ہیں تو اقلیتی اداروں کے بجٹ کو روکنے کا مقصد کیا ہے۔ حج کمیٹی کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہے جبکہ ماہ فروری سے مساجد کمیٹی کے ائمہ و موذنین ،دارالافتاو دارالقضا کے ملازمین فروری سے تنخواہ جاری نہیں کی گئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کورونا قہر میں اسے کل کسی بھی صورت میں جاری کیا جائے تاکہ بجٹ کا استعمال ہواور اسے لیپس ہونےسے بچایاجا سکے ۔

وہیں مساجد کمیٹی کے مہتمم اور حج کمیٹی کے انچارج یاسر عرفات کا کہنا ہے کہ دونوں اداروں کے بجٹ کی آخری قسط کو لیکر حکومت کو لکھا جاچکا ہے جیسے ہی گرانٹ جاری ہوتی ہے اسے ملازمین میں تقسیم کردیا جائے گا۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ سرکار کو ایک سال تو مکمل ہوگئے ہیں لیکن ریاست میں اقلیتوں کے جتنے بھی ادارے ہیں سب اپنے سربراہ سے محروم ہیں ۔ حج کمیٹی مدرسہ بورڈ،مساجد کمیٹی،وقف بورڈ،اقلیتی کمیشن ،اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن جیسے کسی ادارے میں آج تک کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ اقلیتی اداروں میں کمیٹی اور سربراہ کے نہیں ہونے سے ملازمین کے ساتھ عام مسلمانوں کے مسائل بھی التوا میں پڑے ہیں ۔ مسلم تنظیموں نے اقلیتی اداروں کے مسائل کو لیکر ریاست گیر سطح پر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 30, 2021 08:32 PM IST