ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

ہیلتھ انشورنس پر علمائے دین کی ناراضگی پر مساجد کمیٹی کی وضاحت: جانیں کیا ہے معاملہ

مدھیہ پردیش میں آئمہ وموذنین کو دیئے جانے والے ہیلتھ انشورنس کو لیکر مساجد کمیٹی نے اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ چونکہ اسلام میں ہیلتھ انشورنس جیسی بات پر علمائے دین کا اتفاق نہیں ہے اس لئے ہیلتھ انشورنس سے گریز کرتے ہوئے وہ ائمہ وموذنین کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

  • Share this:
ہیلتھ انشورنس پر علمائے دین کی ناراضگی پر مساجد کمیٹی کی وضاحت: جانیں کیا ہے معاملہ
مدھیہ پردیش میں آئمہ وموذنین کو دیئے جانے والے ہیلتھ انشورنس کو لیکر مساجد کمیٹی نے اپنی وضاحت پیش کی

مساجد کمیٹی کے ذریعہ ائمہ وموذنین اور ان کے اہل خانہ کو مفت ہیلتھ انشیورنس دینے کے اعلانات کے بعدمدھیہ پردیش میں علمائے دین میں ہیلتھ انشورنس اور شرعی حیثیت کو لیکر بحث شروع ہوگئی ہے۔ علمائے دین کے بیچ معاملے کو بڑھتا دیکھ مساجد کمیٹی نے اس معاملے پر نہ صرف وضاحت پیش کی ہے بلکہ تمام آئمہ وموزنین کو مفت طبی سہولیات مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں آئمہ وموذنین کو دیئے جانے والے ہیلتھ انشورنس کو لیکر مساجد کمیٹی نے اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ چونکہ اسلام میں ہیلتھ انشورنس جیسی بات پر علمائے دین کا اتفاق نہیں ہے اس لئے ہیلتھ انشورنس سے گریز کرتے ہوئے وہ ائمہ وموذنین کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ مساجد کمیٹی کے ذریعہ یکم اکتوبر کو کورونا قہر میں مساجد کمیٹی کے زیر انتظام مساجد کے ائمہ وموذنین کو مفت ہیلتھ انشورنس دینے کا اعلان کیاتھا۔ مساجد کمیٹی نے کورونا کے قہر میں جہاں چھ مہینے سے ائمہ وموذنین کو حکومت کی جانب سے تنخواہیں نہیں مل سکیں ہیں اور بعض بیماریوں کے سبب ائمہ وموذنین اور ان کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسے طبی سہولیات اور ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری یا شرعی معاملے میں رخنہ اندازی کرنا نہیں ہے ۔ اگر لفظ انشورنس سے اختلافات پیدا ہورہے ہیں توہم بھی انشورنس کی بات نہیں کرتے ہیں ۔ ہمارا مقصد ائمہ وموذنین کو مفت طبی سہولیات مہیا کرنا ہے اور ہم اپنے اس عہد پر قائم ہیں ۔مساجد کمیٹی نے نہ صرف ائمہ وموذنین بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی مفت طبی سہولیات مہیا کرنے کا خاکہ تیار کیا ہے اور اس کے لئے ہماری کوششیں آخری مرحلے میں ہیں اور بہت جلد تمام آئمہ وموزنین اور ان کے اہل خانہ کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کا کام شروع ہوجائے گا۔


وہیں بھوپال مسجد بیت المکرم کے امام مفتی فیاض عالم کہتے ہیں کہ ہم طبی سہولیا ت فراہم کرنے کے مساجد کمیٹی کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں جہاں تک ہیلتھ انشورنس کا سوال ہے تو اس معاملے میں جو پہلے بیان دیا تھا اسے ہم واپس لیتے ہیں ۔ ہیلتھ انشورنس کی علما کے نزدیک اسلام شریعت میں جگہ نہیں ہے ۔مساجد کمیٹی کا مقصد تمام ائمہ وموذنین اور ان کے اہل خانہ کومفت طبی سہولیات فراہم کرانا ہے اس فیصلہ کا خیر مقدم ہے اور مساجد کمیٹی کے اس قدم سے ائمہ وموذنین اور ان کے اہل خانہ کو بھی آسانیاں مہیا ہوں گی۔

مساجد کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیلتھ انشورنس میں انسان کے اسپتال میں داخل ہونے اور چوبیس گھنٹے علاج کروانے کے بعد ہی فائدہ ملتا ہے جبکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جب بھی ائمہ وموذنین میں یا ان کے اہل خانہ سے کوئی بیمار ہو تو اسے فوری طور پر طبی امداد مل سکے اور وہ اپنی خواہش کے مطابق مقررہ اسپتال میں جاکر علاج کرواسکے۔

Published by: sana Naeem
First published: Oct 09, 2020 08:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading