உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت اردو اکادمی کے زیر اہتمام محفل چار بیت کا انعقاد

    محفل چار بیت اور شام غزل پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ دونوں ہی پروگراموں میں خواتین فنکاروں نے اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین ان کے فن کی انفرادیت کو دیکھ کر واہ واہ کر اٹھے۔

    محفل چار بیت اور شام غزل پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ دونوں ہی پروگراموں میں خواتین فنکاروں نے اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین ان کے فن کی انفرادیت کو دیکھ کر واہ واہ کر اٹھے۔

    محفل چار بیت اور شام غزل پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ دونوں ہی پروگراموں میں خواتین فنکاروں نے اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین ان کے فن کی انفرادیت کو دیکھ کر واہ واہ کر اٹھے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں کورونا کی وبائی بیماری سے حالات ساز گار ہوتے ہی ادبی و ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی (Urdu Academy) محکمہ ثقافت کے اہتمام گمک پروگرام کے تحت محفل چار بیت اور شام غزل پروگرام کا انعقاد کیاگیا۔ محفل چار بیت اور شام غزل پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ دونوں ہی پروگراموں میں خواتین فنکاروں نے اپنے بہترین فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین ان کے فن کی انفرادیت کو دیکھ کر واہ واہ کر اٹھے۔
    چار بیت جسے راگ پٹھانی بھی کہا جاتا ہے اسے اب تک مردوں کا ہی فن تصور کیاجاتا تھا مگر ویہان ڈرامہ ورکس کی خواتین فنکاروں نے اس طلسم کو بھی توڑدیا کہ اس فن کو صرف مردوں کی اجارہ داری ہے بلکہ انہوں نے اس خوبصورت انداز میں دف پر ممتاز شعرا کی غزل کو پیش کیا دیکھنے اور سننے والے محوحیرت تھے۔
    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی کہتی ہے کہ اردو اکادمی کا مقصد اردو زبان و ادب کے ساتھ مختلف فنون لطیفہ کے تحت دوسرے فن کو بھی فروغ دینا ہے ۔ اسی سلسلے میں محفل چار بیت کے ساتھ شام غزل کی محفل کو بھی آراستہ کیا گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں محفل یعنی محفل چار بیت اور شام غزل دونوں میں خواتین نے فنکاروں کو ہی مدعو کیاگیا تھا ۔ محفل چار بیت کی خواتین ٹیم نے اردو اکادمی کے پروگرام بھوپال سے ہی اپنے فن کا آغاز کیاتھا اور اب وہ ملک کے مختلف شہروں میں اپنی پیش کش سے اپنے فن کا لوہامنوا چکی ہیں۔

    خواتین فنکاروں نے پیش کیا اپنے بہترین فن کا مظاہرہ


    اسی طرح سے انشیکا چوہان نے بھی اپنی گلوکاری سے موسیقی کے ساتھ آواز کاایسا جادو بکھیرا کہ ہر کوئی واہ واہ کر اٹھا۔کووڈ کم ہو گیا ہے لیکن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لئے سبھی سے گزارش ہے کہ احتیا ط کو لازمی رکھیں اور جب حالات اور سازگار ہو جائیں گے تو اس سے بہتر محفل کا انعقاد اردو اکادمی کے ذریعہ کیا جائے گا تاکہ اردو زبان و ادب کے ساتھ مختلف فنون لطیفہ کو فروغ دیا جاسکے۔

    نوجوان گلوکارہ انشیکا چوہان کہتی ہیں کہ خواتین کسی بھی فن میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں۔انہیں جب بھی جہاں بھی موقعہ ملاہے انہوں نے اپنے ہنر سے اپنی صلاحیت کو پیش کیا ہے ۔ اردو اکادمی نے گمک کے تحت فنون لطیفہ کو فروغ دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: