ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : اقلیتی ادارے عدم توجہی کے شکار ، تین سال میں بدلیں دو حکومتیں ، مگر نہیں ہوئی تشکیل

اقلیتی ادارے، اقلیتی کمیشن، حج کمیٹی ،وقف بورڈ، مدرسہ بورڈ، مساجد کمیٹی، اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کی دوہزار اٹھارہ سے تشکیل نہیں ہونے سے اقلیتوں کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے وہیں مسلم سماجی تنظیموں نے اس معاملے کو لیکر حکومت سے اقلیتی اداروں کی جلد سے جلد تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : اقلیتی ادارے عدم توجہی کے شکار ، تین سال میں بدلیں دو حکومتیں ، مگر نہیں ہوئی تشکیل
مدھیہ پردیش : اقلیتی ادارے عدم توجہی کے شکار ، تین سال میں بدلیں دو حکومتیں ، مگر نہیں ہوئی تشکیل

بھوپال : اب اسے اقلیتی کی بدقسمتی سے تعبیر کیا جائے یا کچھ اور ، مدھیہ پردیش میں دوہزار اٹھارہ سے ابتک دو حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں ، مگر اقلیتوں اور اقلیتی اداروں کی تصویر بدلنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ ایم پی کے اقلیتی ادارے جس طرح سے کمل ناتھ کی حکومت کی نظر انداز کئے گئے تھے ، شیوراج سنگھ حکومت میں بھی اقلیتی اداروں کے ساتھ وہی رویہ روا رکھا گیا ہے۔ اقلیتی ادارے، اقلیتی کمیشن، حج کمیٹی ،وقف بورڈ، مدرسہ بورڈ، مساجد کمیٹی، اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کی دوہزار اٹھارہ سے تشکیل نہیں ہونے سے اقلیتوں کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے وہیں مسلم سماجی تنظیموں نے اس معاملے کو لیکر حکومت سے اقلیتی اداروں کی جلد سے جلد تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔


بھوپال گاندھی نگر میں اقلیتی اداروں کی تشکیل کے مطالبے کو لیکر سدبھاؤنا منچ اور جمعیت علما ہند کے ذمہ داران کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔ میٹنگ میں حکومت سے اقلیتی اداروں کی جلد سے جلد تشکیل کئے جانے کی مانگ کی گئی ۔ بھوپال جمعیت علما کے صدر حاجی  محمد عمران کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت پر حکومت بدلتی جا رہی ہے ، لیکن اقلیتی اداروں کے مسائل ہوں اور اقلیتی اداروں کی تشکیل کا معاملہ اس کی جانب کوئی دیکھنے والا نہیں ہے ۔ ہم نے پہلے بھی اقلیتوں کے مسائل اور اقلیتی اداروں کی تشکیل کو لیکر وزیر اقلیتی فلاح وبہبود اور وزیر اعلی کو میمورنڈم دیا تھا اور آج بھی کووڈ ضابطے کے تحت میٹنگ کر کے حکومت سے اقلیتی اداروں کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ ہماری حکومت سبھی طبقوں کا برابر خیال رکھتی ہے ۔ ہم کانگریس کی طرح اقلیتی طبقہ کو ووٹ لینے تک استعمال نہیں کرتے ہیں ، اقلیتوں کی ملک میں خستہ حالی کے لئے کانگریس کی پالیسی ذمہ دار ہے ۔ کانگریس نے ستر سالوں میں نہ صرف اقلیتے طبقے بلکہ دیگر پسماندہ طبقات اور آدیواسیوں کو بھی استعمال کرنے کا کام کیا ہے ۔ کورونا قہر میں یا اس سے پہلے جو بھی پالیسی بنائی گئی ہے ، وہ سبھی کے لئے بنائی گئی ہے ۔ سبھی کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ جہاں تک اقلیتی اداروں کی تشکیل کا سوال ہے اس پر بھی کام جاری ہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ بی جے پی کی ناقص پالیسی کے سبب اقلیتییں کیا پورا ملک تباہ ہو گیا ہے ۔ کورونا قہر میں بھی انہوں نے اپنے خاص لوگوں کو نوازنے کا کام کیا ہے ۔ جب عوام پریشان تھے تب یہ سرکار ریمڈیسیور انجیکشن کی کالا بازاری میں مصروف تھی ۔ حمیدیہ اسپتال سے ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ انجیکشن چوری ہوجاتا ہے اور آج تک اس کا سراغ نہیں لگا ۔ جبل پور میں  نقلی انجیکشن اور فرضی اسپتال کے نام پر ویکسین سپلائی ہو جاتی ہے اور حکومت خاموش رہتی ہے۔ گوالیار میں مریضوں کو نقلی پلازمہ چڑھا دیا جاتا ہے ۔ منتری کی بیوی کا ڈرائیور انجیکشن کی کالا بازاری میں پکڑا جاتا ہے ، لیکن حکومت خاموش رہتی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمل ناتھ جی کی حکومت نے اردو اساتذہ کی تقرری کا سلسلہ شروع کیا تھا کہ حکومت چلی گئی ورنہ ابتک وہ کام بھی ہو جاتا ۔ نکاح یوجنا کی رقم تیس ہزار سے بڑھا کر اکیاون ہزار کمل ناتھ جی کی حکومت نے ہی کیا تھا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 10, 2021 08:36 PM IST