உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: Khargone violence میں انتظامیہ پر یکطرفہ کاروائی کا بھوپالMLA عارف مسعود نے لگایا الزام

    Youtube Video

    واضح رہے کہ کھرگون میں رام نومی کے موقعہ پر دس اپریل کو فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا جس کے بعد شہر میں کرفیو کا نفاذ کردیا گیاتھا۔ کھرگون میں حالات اب سازگار ہیں اور لیکن کرفیو کا نفاذ جاری ہے۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ جس طرح سے کھرگون کے حالات چل رہے ہیں اس کو لیکر مدھیہ پردیش کا حساس اور سیکولر ذہن طبقہ فکر مند ہے۔

    • Share this:
    Madhya Pradesh: مدھیہ پردیش کے کھرگون میں دس اپریل کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد اور انتظامیہ کی یکطرفہ کاروائی کو لیکر بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کی قیادت میں علمائے دین کے وفد نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری سے ملاقات کی ۔ علمائے دین کے وفد نے کھرگون تشدد میں انتظامیہ کی کاروائی کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے کمیٹی تشکیل دیکر معاملے کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وفد نے چیف سکریٹری کو مقامی انتظامیہ کی کاروائی کو جانب دارانہ کاروائی بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ گھروں کی انہدامی کاورائی میں ان لوگوں کے گھر بھی منہدم کئےگئے ہیں جن میں سے بعض لوگ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور کچھ ایسے لوگوں کے بھی گھر توڑے گئے ہیں جو پہلے سے دوسرے معاملات میں بیل میں بند ہیں وہیں بی جے پی نے بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھرگون میں انتظامیہ کے ذریعہ شرپسند عناصر اور مافیا کے خلاف کاروائی کی گئی ہے اور اس کاروائی کو کسی خاص مذہب سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے ۔
    واضح رہے کہ کھرگون میں رام نومی کے موقعہ پر دس اپریل کو فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا جس کے بعد شہر میں کرفیو کا نفاذ کردیا گیاتھا۔ کھرگون میں حالات اب سازگار ہیں اور لیکن کرفیو کا نفاذ جاری ہے ۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ جس طرح سے کھرگون کے حالات چل رہے ہیں اس کو لیکر مدھیہ پردیش کا حساس اور سیکولر ذہن طبقہ فکر مند ہے۔ اسی کے ساتھ تکلیف اس بات کی بھی ہے کہ انتظامیہ کے ذریعہ جو کاروائی غیر جانب دارانہ ہو چاہئے وہ جانب داری پر مبنی ہے ۔ ان تمام باتوں کو لیکر چیف سکریٹری سے وقت مانگا تھا۔

    عظیم بیگ نے ہنومان مندر کے بھنڈارے و ڈیکوریشن کا کام مفت میں کیا ، Hanuman Jayanti کے موقع پربھوپال میں بکھرے محبت کے رنگ

    ملاقات کے لئے مدھیہ پردیش کے ممتاز علمائے دین ،کھرگون سے بھی لوگوں کو آنا تھا لیکن وہاں پر ایک بچے کا حادثہ ہو جانے کے سبب وہاں کے لوگ نہیں آسکے۔ ہم لوگوں نے چیف سکریٹری سے ملاقات کی اور ان سے گزارش کی ہے کہ معاملے کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور وہ کمیٹی دونوں جانب کے ویڈیوز کو دیکھے ۔کیونکہ تشدد کو لیکر دونوں جانب سے ویڈیوز سامنے آرہے ہیں اور لوگ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن سرکار میں بیٹھے لوگ ایک طرفہ ہی کام کر رہے ہیں اور بیان دے رہے ہیں اور کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ جس طرح سے بیجا گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور بے گناہ لوگوں کے مکان توڑے جارہے ہیں ۔جس طرح سے قانون کی دھجیاں اڑ رہی ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے ۔اس معاملے میں چیف سکریٹری صاحب کو قدم اٹھاتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینا چاہیے۔اب تو بالکل واضح ہوگیا کہ جو الزام ہم نے پہلے لگایاتھا وہ صاف ہوگیا ۔ہم نے کہا تھا کہ انہدامی کاروائی کی فہرست کسی دفتر سے آرہی ہے۔یہ صاف ہوگیا کہ جو لڑکا پہلے سے جیل میں بند ہے اس پر ایف آئی آر ہوگئی اور اس کا گھر توڑ دیا گیا۔جو لڑکا اسپتال میں پہلے سے بھرتی ہے اس کے نام پر ایف آئی آر ہوگئی اور اس کا گھر توڑ دیاگیااور تو اور جو شخص دنیا میں ہی نہیں ہے تین سال پہلے انتقال ہو چکا ہے اس پر بھی ایف آئی آر درج ہوگئی ہےاور اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچا دیا گیا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انتظامیہ کی کاروائی جانب داری پر مبنی ہے ۔اسی کے ساتھ ہم مدھیہ پردیش کی عوام سے امن و اتحاد کی اپیل کرتے ہیں ۔

    مدارس میں CCTV CAMERA لگانے وپولیس کے ذریعہ نگرانی کے مطالبے پر مسلم تنظیموں سمیت کانگریس نے بھی کی BJPکی مخالفت



    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے شہری ترقیات بھوپیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ کہا درست نہیں ہے کہ مذہب خاص کے لوگوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے ۔جو بھی مافیا اور شرپسند ہیں وہ چاہے کسی بھی ذات اور مذہب کے ہوں ان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ۔اب ریوا میں ایک سادھو کے خلاف کرتے ہوئے مکان توڑا گیا ہے تو کہاں دھرم دیکھا گیا ہے ۔اس لئے کہیں پر کوئی مافیا ہے ،عادتا جرائم پیشہ ہے ،بییٹوں کے ساتھ غلط باتیں ہو رہی ہیں اور نا جائز قبضہ ہے اور زمین سرکاری ہے تو ہم لوگ اس کو خٓلی کرارہے ہیں اور ان زمینوں پرمکان بنا کر غریبوں کو دینے کا سرکار کام کر رہی ہے ۔یہ جو کاروائی ہو رہی ہے یہ مافیا کے خلاف ہو رہی ہے ،کسی ذات یا مذہب کے لوگوں کے خلاف نہیں۔ کانگریس کو اپنی مفاد پرستی کی سیاست سے باز آنا چاہئے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: