ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مساجد کمیٹی تنازعہ پہنچا ہائی کورٹ: یہاں جانیں کیا ہے پورا معاملہ

مساجد کمیٹی میں اختیارات اور حقوق کو لیکر کمیٹی سکریٹری اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے بیچ جاری تنازعہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔

  • Share this:
مساجد کمیٹی تنازعہ پہنچا ہائی کورٹ: یہاں جانیں کیا ہے پورا معاملہ
مساجد کمیٹی میں اختیارات اور حقوق کو لیکر کمیٹی سکریٹری اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے بیچ جاری تنازعہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔

مساجد کمیٹی میں اختیارات اور حقوق کو لیکر کمیٹی سکریٹری اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے بیچ جاری تنازعہ ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان نے محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کے احکام کو مساجد کمیٹی رولس اور گزٹ نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی مانتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو اپنے حق کی بازیافت سے تعبیر کیا ہے۔

واضح رہے کہ مساجد کمیٹی تشکیل سابقہ کمل ناتھ حکومت میں محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کے ذریعہ کی گئی تھی ۔ مارچ دوہزار بیس میں جب کمل ناتھ حکومت کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تو بہت سے نگم منڈل اور کمیٹیوں کے ذمہ داران نے اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے استعفی دیدیا تھا۔ اس کے باؤجود بہت سے نگم منڈل اور کمیٹیوں میں لوگ جمے رہے جنہیں عہدے سے برطرف کرنے کا احکام بیس اپریل دوہزار بیس کو شیوراج سنگھ حکومت نے جاری کیاتھا۔


مساجد کمیٹی کے ذمہ داران نے اس وقت اس احکام کو یہ کہہ کر ماننے سے انکار کردیاتھا کہ اس میں مساجد کمیٹی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کمیٹی اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے بیچ اختیارات کو لیکر جاری سرد جنگ اس وقت اور گرم ہوگئی جب محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود نے چار نومبرکو احکام جاری کرتے ہوئے مساجد کمیٹی کے ذمہ داران کو مساجد کمیٹی کے مہتتم کو ہی چارج دینے کا حکم جاری کیا۔ محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کے احکام پر عمل کرتے ہوئے۔ حالانکہ مساجد کمیٹی کے صدر اور ایک رکن نے مساجد کمیٹی کے مہتمم کو اپنا استعفی پیش کردیا اور اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے مگر مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان نے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔ اعلان کے مطابق کمیٹی سکریٹری ایس ایم سلمان نے جبلپور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ایس ایم سلمان کی عرضی کو ہائی کورٹ نے تسلیم کرلیا ہے جس پر کل سماعت ہوگی ۔


مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ کرسی پر جمے رہنا ہمارا مقصد نہیں ہے مگر جس طرح سے محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود نے احکام جاری کرتے ہوئے مہتمم کو چارج دینے کا فرمان جاری کیاہے اس سے مساجد کمیٹی رولس اور گزٹ نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اگر محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ذمہ داران مساجد کمیٹی رولس اور گزٹ نوٹیفکیشن کو پڑھ لیتے تو یہ غلطی کبھی نہیں کرتے ۔ اپنے حقوق کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملے گا۔
وہیں مساجد کمیٹی مہتتم یاسر عرفات کہتے ہیں کہ ہم نے محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود پر چارج لیاہے۔ اسی احکام پر مساجد کمیٹی کے چیرمین عبد الحفیظ خان اور ایک رکن نے اپنا استعفی پیش کیا ہے اور سکریٹری کے ذریعہ احکام کی خلاف ورزی بتایا جا رہا ہے ۔ وکیل کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ تیئس نومبر کو جبلپور ہائی کورٹ میں معاملے کی سماعت ہوگی ۔ ہمیں تو حکومت سے جو احکام ملے گا ہم اس پر عمل کریں گے ۔ حقوق اور اختیارات کو لیکر مساجد کمیٹی کے ذمہ داران جس طرح سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اس سے مستقبل میں تنازعہ اور گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 22, 2020 09:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading