உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: جہیز کی لعنت کے خلاف مسلم مہا سبھا نے مدھیہ پردیش میں شروع کی مہم

    Madhya Pradesh: جہیز کی لعنت کے خلاف مسلم مہا سبھا نے مدھیہ پردیش میں شروع کی مہم

    Madhya Pradesh: جہیز کی لعنت کے خلاف مسلم مہا سبھا نے مدھیہ پردیش میں شروع کی مہم

    Bhopal News: سماج میں جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت کے خلاف مدھیہ پردیش مسلم مہا سبھا نے سماجی بیداری مہم شروع کی ہے ۔ سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں سماجی بیداری کو لے کر نہ صرف پروگرام کا انعقاد کیا گیا ، بلکہ جہیز کے بغیر سنت طریقے سے سادگی سے شادی کرنے والوں کو فخر ملت کے اعزاز سے بھی سرفراز کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : سماج میں جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت کے خلاف مدھیہ پردیش مسلم مہا سبھا نے سماجی بیداری مہم شروع کی ہے ۔ سوسائٹی کے زیر اہتمام بھوپال میں سماجی بیداری کو لے کر نہ صرف پروگرام کا انعقاد کیا گیا ، بلکہ جہیز کے بغیر سنت طریقے سے سادگی سے  شادی کرنے والوں کو فخر ملت کے اعزاز سے بھی سرفراز کیا گیا۔ جہیز کی لعنت سماج میں ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے ۔ یہ ایسی وبا ہے، جس سے ہرطبقہ پریشان ہے ۔ جہیز کی لعنت نے مسلم معاشرے کو بھی اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے ۔ مسلم معاشرے سے جہیز کی لعنت کا خاتمہ کرنے اور سنت کے طریقے سے سادگی میں جہیز کے بغیر شادی کا چلن عام کرنے کے لئے مدھیہ پردیش مسلم مہا سبھا نے سماجی بیداری مہم شروع کی ہے ۔ بھوپال کے انڈین شادی ہال میں منعقدہ پروگرام میں سماجی کارکنان کے ساتھ ممتاز عالم دین نے بھی شرکت کی اور اس طرح کے پروگرام کو وقت کی بڑی ضرورت سے تعبیر کیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جماعت اسلامی ہند نے تیستا سیتلواڑ کو فوری رہا کرنے کا کیا مطالبہ


    مدھیہ پردیش مسلم مہا سبھا کے صدر منور علی خان نے نیوز18 اردو سے حاص بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا مقصد جہیز کے بغیر شادی کے چلن کو عام کرنا ہے ۔ سماج سے جب جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہوگا اور عوام میں اسے لیکر بیداری آئے گی تو نہ صرف سماج معاشی طور پر مستحکم ہوگا بلکہ سماجی بیداری سے مسلم عوام تعلیم کی جانب فوکس کریں گے ۔ ہم نے اسی لئے ان لوگوں کو یہاں بلا کر فخر ملت اعزاز سے سرفراز کیا ہے، جنہوں نے سماج سے جہیز کی لعنت کا خاتمہ کرنے کے لئے سنت طریقہ سے انتہائی سادگی میں شادی کی ۔ جب لوگ ان لوگوں کو معاشرے میں دیکھیں گے اور بتائیں گے کہ ڈاکٹر، انجینئر اور سائنٹسٹ کے عہدے پر ہوتے ہوئے جب یہ لوگ بغیر جہیز کے شادی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ۔

    پروگرام کے مہمان خصوصی بھوپال شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے اس طرح کے پروگرام کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اسوہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم میں زندگی کی ساری کامیابی کا راز موجود ہے ۔ شادیوں میں بیجا مصارف اور جہیز کی لعنت کے خلاف جو مہم چلائی جا رہی تھی مشا اللہ اب اس کے مثبت نتیجے نکل کر سامنے آرہے ہیں ۔ نوجوان نسل اب سادگی سے سنت طریقے سے شادی کو ترجیح دے رہی ہے ۔ نوجوان بیدار ہوں گے تو معاشرے میں انقلاب آئے گا۔ شادیوں میں بیجا مصارف سے ہم بچیں گے تو اس پیسہ کا تعلیم اور کاروبار پر استعمال ہوگا ۔ ہمیں اپنی زندگی اسوہ رسول کے تابع کرنے کی ضرورت ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش کے عازمین حج کا پہلا قافلہ مقدس سفر کے لئے روانہ


    پروگرام کے مہمان ذی وقار وبھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے پروگرام کی اہمیت وافادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام کو تسلسل کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے تاکہ مسلم سماج کی ترجیحات بدل سکیں ۔ مسلم معاشرے میں جہیز کی مقابلہ بندی کے بجائے تعلیم کے میدان میں مقابلہ آرائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج میں تبدیلی آرہی ہے اور جس طرح سے نئی نسل اپنے سروکار کو لیکر اپنا نظریہ بدل رہی ہے وہ وقت کی ضرورت ہے ۔

    جہیز کے بغیر شادی کرنے والی رفعت درانی کہتی ہیں کہ جب انہوں نے ایم ایس سی میں گولڈ میڈل حاصل کیا اور ان کے سامنے جہیز کے بغیر شادی کرنے کی بات آئی تو گھر کے سبھی لوگ حیرت میں تھے ۔ والدین نے مجھ سے بات کی اور میں نے اس کو قبول اس لئے کیاکہ یہاں سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ ماشا اللہ ہماری شادی بغیر جہیز کے سنت طریقے سے سادگی سے ہوئی ۔اس کے بعد ہمارے گھر میں جو شادیاں ہو رہی ہیں اس میں جہیز نہ کسی کو دیاگیا اور نہ ہی لیا۔

    جہیز کے بغیر سنت طریقے سے شادی کرنے والے سماجی کارکن شعیب ہاشمی کہتے ہیں کہ میں جو چاہتا مجھے جہیز ملتا مگر مجھے تو اسول رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے مطابق شادی کرنا تھی اس لئے میں نے تمام چیزوں کو ٹھوکروں میں ڈالتے ہوئے سنت کے مطابق نکاح کیا اور دلہن کو میرے گھر والے سادگی سے گھر لے آئے۔ جس نے اپنی بیٹی کی بہترین تربیت کرکے ہمیں دیا ہے اس کا شکریہ ۔مسلم سماج کو تعلیم کے لئے اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے ۔

    مسلم مہا سبھا کے سید محمد علی کہتے ہیں کہ اس پروگرام سے ہمیں ایک نیا حوصلہ ملا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس پروگرام کو سنجیدگی کے ساتھ صوبائی سطح پر چلائیں تاکہ سماج سے جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہواور تعلیم کے حصول کی باتیں عام ہوسکیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: