உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منظر بھوپالی نے مدھیہ پردیش حکومت کے ایوارڈ پر اٹھائے سوالات، لگایا یہ بڑا الزام

    منظر بھوپالی نے مدھیہ پردیش حکومت کے ایوارڈ پر اٹھائے سوالات، لگایا یہ بڑا الزام

    منظر بھوپالی نے مدھیہ پردیش حکومت کے ایوارڈ پر اٹھائے سوالات، لگایا یہ بڑا الزام

    Madhya Pradesh News: منظر بھوپالی کے ذریعہ اس تعلق سے نہ صرف مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل بلکہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ و سابق وزیر اعلی کمل ناتھ و دگ وجے سنگھ کو بھی خط لکھ کر معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Madhya Pradesh | Bhopal | Bhopal
    • Share this:
    بھوپال : ممتاز شاعر منظر بھوپالی نے مدھیہ پردیش حکومت کے ایوارڈ کی معتبریت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ منظر بھوپالی کے ذریعہ اس تعلق سے نہ صرف مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی پٹیل بلکہ وزیر اعلی شیوراج سنگھ و سابق وزیر اعلی کمل ناتھ و دگ وجے سنگھ کو بھی خط لکھ کر معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ منظر بھوپالی کا الزام ہے کہ حکومت کے ذریعہ گزشتہ سالوں میں جن لوگوں کو ایوارڈ دیا گیا ہے، ان کا اردو ادب میں کوئی بڑا کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ منظر بھوپالی نے امسال دئے جانے والے ایوارڈ کی شفافیت پر بھی شبہ ظاہر کیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: آزاد اور ان کی سیاسی پارٹی جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامہ پر کتنا ہوسکتی ہے اثر انداز؟


    نیوز18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے منظر بھوپالی نے کہا کہ کسی ادیب اور شاعر کے لئے ایوارڈ زندگی کا حاصل ہوتا ہے، مگر گزشتہ چند سالوں میں کچھ افسران کے ذریعہ ادب کے ایوارڈ میں بھی بد عنوانی کو شامل کردیا گیا ہے۔ ایسے ایسے لوگوں کو ایوارڈ دیا جا رہا ہے جن کے بارے میں ان کے پڑوسی بھی نہیں جانتے ہیں۔ پڑوسی تو تب جانیں گے جب ایوارڈ لینے والے نے کوئی بڑا ادبی کارنامہ انجام دیا ہو۔ ہم نے پہلے بھی اس تعلق سے مدھیہ پردیش کے گورنر اور سی ایم کو خط لکھ کر معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ادب کا ایوارڈ ان لوگوں کے ہاتھ میں جائے جنہوں نے ادب کی خدمت میں اپنی صرف کردی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: غیر مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات بنانے سے انکار پر شوہر نے بیوی کو دیا تین طلاق


    انہوں نے مزید کہا کہ میرے ذریعہ خط لکھے جانے کے بعد گورنر نے اس معاملے کو لیکر چیف سکریٹری کو خط لکھا جس کی کاپی مجھے بھی بھیجی گئی، مگر چیف سکریٹری کے ذریعہ ابھی تک اس تعلق سے کیا کاروائی کی گئی، اس کی اطلاع مجھے نہیں دی گئی ۔ سابقہ سالوں میں ایوارڈ کو لیکر جیوری نے جو فیصلہ کیاتھا بعد میں اسے بدل کر نا اہل لوگوں کو بھی ایوارڈ سے نواز نے کا کارنامہ انجام دیاگیا ہے۔ اگر اہل لوگوں کو نظر انداز کرکے نا اہل لوگوں کو ہی ایوارڈ دینا ہے تو میں حکومت سے یہی مطالبہ کروں گا کہ اسے بند کردینا چاہئے اور ان اداروں کو بھی بند کردینا چاہئے جس کے ذریعہ ادب کے فروغ کی بات کی جاتی ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ گورنر اور وزیر اعلی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان افسران کے خلاف کاروائی کریں گے جو اپنی من مانی سے ادب کے وقار کو بھی مجروح کر رہے ہیں اور حکومت کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: