உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا قہر میں خدمت خلق، برکت اللہ بھوپال ایجوکیشن سوسائٹی نے موسم سرما میں شروع کی مہم

    کورونا قہر میں خدمت خلق، برکت اللہ بھوپال ایجوکیشن سوسائٹی نے موسم سرما میں شروع کی مہم

    کورونا قہر میں خدمت خلق، برکت اللہ بھوپال ایجوکیشن سوسائٹی نے موسم سرما میں شروع کی مہم

    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی نے لاک ڈاؤن سے ہی اپنی خدمات شروع کردی تھیں۔ لاک ڈاؤن میں سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحاظ قوم و ملت جہاں سبھی کو کھانا مہیا کرایا جاتا تھا وہیں موسم کی تبدیلی کے ساتھ سو سائٹی نے غریب اور بے سہارا لوگوں کو اب لحاف اور کمبل تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال۔ کورونا قہر میں عوامی مشکلات سے ہر کوئی واقف ہے۔ کورونا کے قہر نے سماج کے کسی ایک طبقے کو نہیں بلکہ کم و بیش سبھی طبقہ کو متاثر کیا ہے۔ امیروں کے لئے کورونا قہر میں وسائل کی کمی ہوئی ہے تو غریب اور نادار لوگوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے۔ ضروریات زندگی کے ساتھ جاڑے کی شدت سے بچنا بھی ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے ۔ایسے میں سماجی تنظیم مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی کی سماجی خدمات ضرورتمندوں کے لئے بڑی کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔

    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی نے لاک ڈاؤن سے ہی اپنی خدمات شروع کردی تھیں۔ لاک ڈاؤن میں سو سائٹی کے ذریعہ بلا لحاظ قوم و ملت جہاں سبھی کو کھانا مہیا کرایا جاتا تھا وہیں موسم کی تبدیلی کے ساتھ سو سائٹی نے غریب اور بے سہارا لوگوں کو اب لحاف اور کمبل تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سو سائٹی کے ذریعہ خدمت خلق کا کام ابھی شروع کیا گیا ہے بلکہ سو سائٹی کے ذریعہ سماج میں تعلیمی بیداری کے ساتھ خدمت خلق کا سلسلہ پینتس سال قبل شروع کیاگیا تھا جو ہنوز اسی آب و تاب سے جاری ہے۔

    سوسائٹی کے سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ہماری کیا اوقات کہ ہم کسی کی مدد کریں ۔ بس ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ اللہ نے ہمیں خدمت کے لئے منتخب کیا ہے۔ اللہ ہم سے کام لے رہا ہے اور ہم لوگ اللہ کے بندوں کی خدمت کر کے اللہ کو راضی کر رہے ہیں۔ اللہ ہم سے راضی ہوگیا اور اس نے ہماری خدمت کو قبول کرلیا تو ہماری زندگی کا مقصد کامیاب ہو گیا۔ کورونا کے قہر میں ہم نے لوگوں کی مشکلات کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ ضرورتمندوں کو دن میں کھانا مہیا کرتے ہیں اور شام کے اوقات میں انہیں لحاف اور کمبل تقسیم کرتے ہیں تاکہ کوئی غریب اور ناداریا مسافر کو جاڑے کی شدت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہماری ٹیم خاموشی سے سروے کرتی ہے اور پھر بستی بستی جا کر ہم لوگوں کو انکی ضرورت کا سامان پہنچاتے ہیں۔

    برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشنل اینڈ سو شل ویلفیئر سوسائٹی سے مدد پانے کے بعد شیلا اور ریشما کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ ریشما کہتی ہیں کہ پہلے کچھ گھروں میں جاکر کام کر لیاکرتے تھے اور اس سے جو کچھ ملتا تھا بچوں کے ساتھ مل کر روکھا سوکھا کھاکر اپنی زندگی چلا لیتے تھے مگر جب سے یہ بیماری آئی ہے لوگوں نے اپنے گھر بلانا بند کردیا ہے۔ ایسے میں  بچوں کی پرورش کیسے ہو اور پھر جاڑے نے بہت پریشان کر رکھا تھا۔ اب ہمیں سو سائٹی کے لوگوں نے کھانے کے ساتھ لحاف اور کمبل دونوں دیدیا ہے۔ اللہ ان کا بھلا کرے بس یہی دل سے دعا ہے۔

    جبکہ شیلا دیوی کہتی ہیں کہ بیماری کیا اپنوں نے ہی آنکھیں پھیر لی ہیں۔ بیماری کے نام پر کہیں جاؤ تو پولیس پریشان کرتی ہے اور گھر میں رہو تو بھوکے بچوں کی صورت دیکھی نہیں جاتی ہے۔ سماج سیوا کرنے والے لوگ آتے ہیں اور چپکے سے کھانا دیکر چلے جاتے ہیں۔ ان سے سردی میں اوڑھنے کے لئے ہم نے مدد مانگی تو انہوں نے پورے گھر کو اوڑھنے کے لئے کمبل دیا ہے۔ پہلے سنا کرتے تھے کہ غریبوں کی لوگ خاموشی سے ایسے بھی مدد کرتے ہیں مگر آج دیکھ لیا تو اپنی قسمت پر یقین نہیں ہورہا ہے کہ ہمارے بچے نئے کمبل اوڑھ کر سوئیں گے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: