உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی کے متنازع بیان پر مچاسیاسی گھمسان، جانئے کیا کہا تھا

    بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی کے متنازع بیان پر مچاسیاسی گھمسان، جانئے کیا کہا تھا

    بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی کے متنازع بیان پر مچاسیاسی گھمسان، جانئے کیا کہا تھا

    بی جے پی جنرل سکریٹری نے اندور میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ جس طرح سے اسلام تلوار کے دم پر پھیلا ہے ، اسی طرح سے ٹی ایم سی میں بھی لوگ تلوارکے دم پر شامل ہو رہے ہیں ۔

    • Share this:
    بھوپال : بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی کے متنازع بیان کی مدھیہ پردیش کی مسلم تنظیموں کے ساتھ سیاسی جماعتوں نے بھی سخت مذمت کی ہے ۔ مسلم تنظیموں نے کیلاش وجے ورگی کے بیان کو نہ صرف اسلام کی روح کے منافی بتایا ہے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اورآر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی بھی منشا کے خلاف قرار دیا ہے ۔ بی جے پی جنرل سکریٹری نے اندور میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ جس طرح سے اسلام تلوار کے دم پر پھیلا ہے ، اسی طرح سے ٹی ایم سی میں بھی لوگ تلوارکے دم پر شامل ہو رہے ہیں ۔

    واضح رہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں آج ہوئے ضمنی انتخابات کو لے کر جب صحافیوں نے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی سے بنگال میں بی جے پی کی شکست اور ٹی ایم سی کی کامیابی کا راز پوچھا تو انہوں نے صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بنگال میں لا اینڈ آرڈر ہے نہیں ۔ بنگال میں اپوزیشن کے ایک ایک شخص پر بیس بیس ، تیس تیس ، چالیس چالیس ، پچاس پچاس کیس لگادئے گئے ہیں۔ جیسے ارجن سنگھ جی ہمارے رکن پارلیمنٹ ہیں حکومت نے ان کے اوپر ایک سو بیس مقدمے دائر کئے ہیں ۔ قتل، ڈکیتی، بدعنوانی جیسے معاملات میں اتنے سارے بے بنیاد مقدمے لگا دئے ہیں ، جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ مجھ پر بھی بیس کیس چل رہے ہیں۔ ہمارے اسٹار کمپینروں کو بھی جھوٹے معاملے میں الجھا دیا گیا ہے ۔ اس طرح سے جب سرکار اپوزیشن کو مارنے پر لگ جاتی ہے ، تو آدمی کیسے جی پائے گا۔ مجھے تو ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ اس ملک میں اسلام جو آیا ہے وہ تلوار کے دم پر آیا ہے اور بنگال کے اندر ٹی ایم سی میں بھی جو لوگ جا رہے ہیں وہ تلوار کے ہی بل پر جا رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ دونوں معاملات ایک جیسے ہی ہیں ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما نے بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی کے بیان کی سخت مذمت کی ہے ۔ ایم پی جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے ۔ اسلام ہندوستان میں ہی نہیں دنیا میں جہاں بھی پہنچا ہے ، امن کا پیغام لے کر پہنچا ہے ۔ کسی سیاسی جماعت کے عمل کو اسلام سے جوڑنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے ۔ کیلاش وجے ورگی کا بیان نہ صرف اسلام کی روح کے منافی ہے ، بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی منشا کے خلاف ہے ۔ وزیر اعظم ایک جانب سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کی بات کہہ رہے ہیں تو وہیں دوسری جانب کیلاش وجے ورگی سے جیسے لیڈر اپنے بیان سے ملک کی امن کی فضا کو خراب کر رہے ہیں ، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور بی جے پی سے بھی اسے لیڈر کو باہر کرنا کا مطالبہ کرتے ہیں جنہیں ملک کے وزیر اعظم اور موہن بھاگوت کی فکر کا خیال نہیں ہے ۔

    وہیں بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ میں جب اقرار لکھتا ہوں تو وہ انکار پڑھتا ہے ۔ وہ جیسا خود ہے مجھ میں بھی وہی کردار پڑھتا ہے ۔ کیلاش وجے ورگی جو کچھ کہہ رہے ہیں ، وہ اسلام کا نہیں بلکہ اپنا کردار پیش کر رہے ہیں ۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اس کے لئے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ بنگال میں بی جے پی کی جس طرح سے شکست ہوئی ہے ، اس کا جواب کیلاش وجے ورگی کے پاس نہیں ہے ، اس لئے عوام اور پارٹی کو گمراہ کرنے کے لئے اس طرح کا متنازع بیان دیکر سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں ۔ کیلاش جی کو بنگال تو دکھائی دے رہا ہے مگر مدھیہ پردیش میں جو مظالم  اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ ہو رہے ہیں ، وہ کبھی دکھائی نہیں دیتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: