ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کیسی رہی بی جے پی کی کارکردگی، سی اے اے اور این آرسی کا اثر

جھارکھنڈ کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کا 20 فیصدی سے زیادہ ووٹ ہے، ان علاقوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو جھٹکا لگا ہے، وہاں ان کی سیٹیں کم ہوئی ہیں۔

  • Share this:
جھارکھنڈ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کیسی رہی بی جے پی کی کارکردگی، سی اے اے اور این آرسی کا اثر
علامتی تصویر

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) نیشنل رجسٹرآف سٹیزنس (این آرسی) کے ملک میں ہو رہی ہنگامہ آرائی کےدرمیان جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کےلئے ووٹ  ڈالےگئے۔ ایسے میں یہ جاننا دلچسپ ہوسکتا ہےکہ جھارکھنڈ کے جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، وہاں سیاسی صورتحال پرکیا اثرپڑا۔ جھارکھنڈ میں ایسی 9 اسمبلی سیٹیں ہیں، جہاں مسلمانوں کا ووٹ 20 فیصد سے زیادہ ہےاوروہ کسی بھی امیدوارکی جیت اورہارمیں فیصلہ کن فیکٹربنتے ہیں۔


مغربی بنگال سے متصل جھارکھنڈ میں 9 اسمبلی سیٹیں ہیں، جن پرمسلمانوں کی اچھی آبادی ہے۔ ان سیٹوں میں گاندے، مادھا پور، راج محل، پاکور، بوکارو، جمتارا، مہاگاؤں، گوددا اور پنکی۔ یہ سبھی علاقےہیں، جہاں اکثروبیشترمسلمان کسی پارٹی کےلئے فیصلہ کن فیکٹربنتے رہے ہیں، لہٰذا سبھی پارٹیاں انہیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہوئی نظرآتی ہیں۔


جھارکھنڈ میں گزشتہ باراسمبلی انتخابات 2014 میں ہوئے تھے، اس وقت پورے ملک میں مودی لہرچل رہی تھی۔ جھارکھنڈ بھی اس میں پیچھے نہیں تھا۔ جھارکھنڈ سے بی جے پی نے نہ صرف لوک سبھا میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ اسے یہاں 14 میں سے 12 سیٹیں ملی تھیں۔ بلکہ اسمبلی انتخابات میں بھی اس نےالیکشن جیت کرحکومت بنائی تھی۔ تب بی جے پی نے81 میں سے37 سیٹیں جیتی تھیں۔ اس کےبعد اس نے جے وی ایم اوراے جے ایس یوکے ساتھ مل کرحکومت بنائی تھی۔ تب جے وی ایم کے پاس 6 اراکین اسمبلی تھے۔ پھریہ سبھی اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔


سال 2014 میں مسلمانوں کےاثروالےعلاقوں میں بی جے پی نے 6 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ کانگریس نےتین، اس کےعلاوہ دیگرپارٹی کوان علاقوں میں کوئی سیٹ بھی نہیں ملی تھی۔ بی جے پی نے جس 6 سیٹوں پرجیت حاصل کی تھی، اس میں گاندے، مدھوپور، بوکارو، گوددا، مہاگاؤں اورراج محل شامل تھیں۔ کانگریس کوتین سیٹیں ملی تھیں، یہ تین سیٹیں تھیں، پنکی، جامتاڑا اورپاکوڑ۔ یعنی کہا جاسکتا ہےکہ یہ وہ سیٹیں ہیں، جہاں کانگریس اوربی جے پی کا سیدھا مقابلہ ہوتا رہا ہے۔

اس مرتبہ تصویرکچھ الگ ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ سی اے اے اوراین آرسی معاملے کا اثرکہیں نہ کہیں بی جے پی کےنتائج پرپڑرہا ہے۔ اس بارجہاں ان سیٹوں کےمسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کونقصان ہوا ہےاورکانگریس کوایک سیٹ کا فائدہ ہوا ہےتوکانگریس کی اتحادی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کوبھی اس کا فائدہ ملا ہے۔
First published: Dec 23, 2019 03:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading