ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : بی جے پی دفتر میں لگائے گئے کالے جھنڈے ، جانئے کیوں ؟

ملک میں اندرا گاندھی کے عہد میں 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا ۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف جن لوگوں نے بھی لب کشائی کی تھی ، جیل کی صعوبتیں ان کا مقدر بنیں تھیں

  • Share this:
مدھیہ پردیش : بی جے پی دفتر میں لگائے گئے کالے جھنڈے ، جانئے کیوں ؟
مدھیہ پردیش : بی جے پی دفتر میں لگائے گئے کالے جھنڈے ، جانئے کیوں ؟

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو یوں تو پینتالیس سال بیت چکے ہیں ۔ ان پینتالیس سالوں میں کتنے لوگ دن سے گزر گئے اور کتنے زمانے کی تیز رفتاری میں سب کچھ بھول کر آگے بڑھ گئے  اور نئی نسل کو تو اس سیاہ دن کی باتیں اگر بتائی نہ جائیں تو اسے یاد بھی نہیں ۔ مگر بھوپال بی جے پی آفس میں آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر کالے جھنڈے لگا کر منایا گیا ۔


ملک میں اندرا گاندھی کے عہد میں 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا ۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف جن لوگوں نے بھی لب کشائی کی تھی ، جیل کی صعوبتیں ان کا مقدر بنیں تھیں ۔ اندرا گاندھی کے ذریعہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کئے جانے کے خلاف زبردست تحریک چلائی گئی تھی اور اس تحریک کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ 1977 میں جب ملک میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تو عوام نے کانگریس اور اندرا گاندھی کو باہر کا راستہ دکھایا تھا ۔


پچیس جون انیس سو پچھہتر کے اس سیاہ دن کی یاد میں بھوپال بی جے پی آفس میں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے نہ صرف کالے جھنڈے لگائے گئے بلکہ ایمرجنسی کے ظلم و زیادتی پر باقاعدہ نمائش کا بھی اہتما م کیا گیا ۔ نمائش کا افتتاح مدھیہ پردیش کے سی ایم شیوراج سنگھ نے کیا ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے اس سیاہ دن کو یاد کرتے ہوئے ملک میں کانگریس کے مظالم پر روشنی ڈالی ۔ یہی نہیں ایمرجنسی کے بہانے سے گلوان وادی میں چینی فوج کے ذریعہ کی جا رہی جارحیت اور راہل گاندھی کے بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔


ملک میں اندرا گاندھی کے عہد میں 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا ۔
ملک میں اندرا گاندھی کے عہد میں 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا ۔


وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ ملک اور یہاں کے عوام اس پارٹی کے کردارکو اچھی طرح سمجھتی ہے اور ان کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔ آج ہم سبھی ملک کے شہری اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ملک کی جہوریت مضبوط ہے اور اسے اور مضبوط کریں گے اور ملک کی سرحد پر بھی اگر کہیں کوئی مشکل ہے ، تو ملک کے ہر دلعزیز وزیر اعظم نریندر مودی  کی قیادت میں پورا ملک ایک ساتھ کھڑا ہے ۔ ہماری بہادر فوج دشمن کے ہر وار کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے ۔ ہم اس پارٹی کی جس کا نظریہ ایمرجنسی کا نفاذ رہا ہے ، اس کے کردار کی مذمت کرتے ہیں اور یہ اپنے ناکام ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔

وہیں کانگریس نے بھی بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کورونا لاک ڈاون کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے تعبیر کیا ہے ۔ ایم پی کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ بی جے پی کا جو کردار ہے ، اس کے لئے ہم لوگوں نے خود تیاری کی ہے کہ انہیں بی جے پی آفس میں جاکر کالے جھنڈے دکھائیں ۔ انہوں نے کالے جھنڈے لگاکر خود اپنا کردار بتا دیا ہے ۔ کورونا کے نام پر ملک اور صوبہ میں بی جے پی نے جو حالت کردی ہے وہ کسی غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں ہے ۔ کورونا لاک ڈاون میں امیر اور امیر ہوگیا اور بی جے پی کی غلط پالیسی کے سبب غریب اور غریب ہوگیا ہے ۔ بی جے پی کی غلط پالیسیوں کے سبب ہی لاکھوں مزدور اور مجبور لوگ اپنے گھروں کو پیدل جانے کو مجبور ہوئے ۔ کروڑوں لوگوں کے روزگا چلے گئے ۔ اس پر بھی ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں انیس دن سے اضافہ جاری ہے ۔ بجلی کے بل لمبے لمبے آرہے ہیں ۔ جتنے عام دنوں میں کبھی نہیں آئے تھے ۔ ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ہے اور پھر بھی لوگوں کی جیبوں میں ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ، پھر بھی یہ ایمرجنسی کی بات کر رہے ہیں ۔ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے ۔ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ایسی لگی ہے کہ میڈیا کی خبریں سینسر ہوجاتی ہیں ۔ اگر کوئی احتجاج کرتا ہے ، مہنگائی ، ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف تو ان پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے ۔ ایمرجنسی میں تو ملک کی معیشت کے ساتھ عام شہریوں کی مالی حالت بہتر ہوئی تھی ، لیکن یہاں تو غیر اعلانیہ ایمرجنسی میں نہ صرف ملک کی معیشت تباہ ہوئی ہے ۔ بلکہ ہمارے دشمن ملک چین ، پاکستان اور نیپال تک ہمیں آنکھ دکھانے لگے ہیں ۔ اس سے مشکل وقت ملک میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ عوام ان کا تانا شاہی اور غلط فیصلوں کا جواب دیں گے ۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کی دو سو تیس رکنی اسمبلی کی چوبیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ایک دوسرے پر ہمہ جہت حملہ آور دکھائی دے رہی ہیں ۔ دونوں ہی پارٹیاں عوام تک اپنی بات پہنچانے اور ایک دوسرے کی پالیسی کی ناکامی کو منظر عام پر لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہیں ۔
First published: Jun 25, 2020 10:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading