ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

پانچ سواور ہزار کے نوٹوں پر پابندی کا اثر ، سفر نہیں کرنا ، لیکن بن رہے ہیں ہزاروں کے ٹکٹ

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں کو سفر نہیں كرنا، لیکن وہ محض اپنے نوٹوں کو کھپانے کے مقصد سے ٹرینوں میں اے سی کا ریزرویشن کرا رہے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 10, 2016 09:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پانچ سواور ہزار کے نوٹوں پر پابندی کا اثر ، سفر نہیں کرنا ، لیکن بن رہے ہیں ہزاروں کے ٹکٹ
علامتی تصویر

بھوپال: پانچ سو اور ایک ہزار کے بڑے نوٹ بند ہونے کا اثر ریلوے اسٹیشنوں کے ٹکٹ کاؤنٹر پر بھی نظر آ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں کو سفر نہیں كرنا، لیکن وہ محض اپنے نوٹوں کو کھپانے کے مقصد سے ٹرینوں میں اے سی کا ریزرویشن کرا رہے ہیں۔ وہیں بکنگ کاؤنٹر پر بھی کھلے نوٹوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو رقوم کی ریفنڈ کے لئے 'ڈیپازٹ سلپ دیے جانے کی اطلاع ملی ہے، جن کے ذریعے سے لوگ کچھ دن بعد اپنے باقی پیسے کاؤنٹر سے واپس لے سکیں گے۔

بڑے نوٹ بند ہونے کے بعد کل دیر رات تک دارالحکومت بھوپال کے دونوں ریلوے اسٹیشنوں کے ٹکٹ کاؤنٹر پر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ نوٹ بند ہونے کے اعلان کے بعد جن مقررہ مقامات پر 11 نومبر تک بڑے نوٹ قبول کئے جانے ہیں، ان میں ریلوے اسٹیشن بھی شامل ہیں۔ متعدد لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے نوٹ کھپانے کے لئے اے سی کوچز میں ریزرویشن کرا رہے ہیں اور کچھ دن بعد اسے کینسل کروا لیں گے۔ انہیں میں سے کچھ لوگوں سے پین کارڈ مانگے جانے کی بھی شکایتیں ٹکٹ کھڑکیوں پر سامنے آئیں۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ ٹکٹ کی رقم 25 ہزار سے زیادہ ہونے پر ان سے پین کارڈ مانگا جا رہا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کسی نے نہیں کی۔

وہیں ریلوے ذرائع کے مطابق کھڑکیوں پر چھوٹے نوٹوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو ایک خاص سلپ دی جا رہی ہے۔ مثلا کسی نے اگر ایک ہزار روپے کا نوٹ دیتے ہوئے 800 روپے کا ٹکٹ بنوایا ہے، تو اسے 200 روپے کی سلپ دی جا رہی ہے، اس سلپ کو دکھاتے ہوئے ٹکٹ بنوانے والا کچھ دن بعد 200 روپے واپس لے سکتا ہے۔ مغربی وسطی ریلوے کی جانب سے سرکاری طور پر ان سلپوں کی کسی نے تصدیق نہیں کی، لیکن ریلوے کی وزارت نے اس سلسلہ میں نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ریلوے کے ایک ٹویٹ کو ریٹویٹ کیا ہے، جس میں اس کی بات کہی گئی۔

First published: Nov 10, 2016 09:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading