உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برقع نشیں خواتین کے بچوں کو ٹیکہ لگانے سے انکار: جانیں کیا ہے پورا معاملہ

    Youtube Video

    وہیں اس سلسلہ میں جب اسپتال کے سی ایم ایچ او ڈاکٹر سنیل گپتا سے نیوز ایٹین اردو کے نمائندے نے بات کی تو انہوں نے اس طرح کے کسی سرکاری احکام کے جاری ہونے سے انکار کیا۔سی ایم ایچ او ڈاکٹر سنیل گپتا کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کوئی سرکاری احکام جاری نہیں ہوا ہے ۔

    • Share this:
    کورونا کے بڑھتے قہر کے بیچ ایک جانب حکومت صد فیصد کورونا ٹیکہ کاری کو یقینی بنانے کو لیکر مہم چلائی جارہی ہے وہیں راجدھانی بھوپال کے گورنمنٹ اندرا گاندھی اسپتال میں برقعہ نشیں خواتین کے بچوں کو ٹیکہ نہیں لگانے کا تغلقی فرمان کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ اسپتال نرس کے تغلقی فرمان کے معاملے میں نیوز ایٹین اردو کی خبر دکھائے جانے کے بعد جہاں اسپتال انتظامیہ بیک فٹ پر آگیا ہے وہیں اسپتال انتظامیہ نے نرس مینا ابراہم پر فوری کاروائی کرتے ہوئے اسے شو کاز نوٹس جاری کیا ہے اور وہاں سے ہٹا دیا ہے۔
    واضح رہے کہ بھوپال کے اندرا گاندھی گورنمنٹ اسپتال میں حکومت کی جانب سے ٹیکہ لگانے کا سینٹر بنایاگیا ہے ۔ گزشتہ تین دنوں سے یہ خبر آرہی تھی کہ اسپتال کے کمرہ نمبر بیس میں بیٹھنے والی نرس ان خواتین کے بچوں کو ٹیکہ نہیں لگا رہی ہے جو برقعہ نشیں ہوتی ہیں ۔ اس معاملہ میں جب نرس مینا ابراہم سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ برقعہ نشیں خواتین کو ٹیکہ نہیں لگانے کا احکام جاری کیاگیا ہے ۔ جب میناابراہم سے حکومت کی احکام کے کاپی مانگی تو انہوں نے اسے دیکھا نے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ یہ بھی جواز پیش کیا کہ مسلم خواتین روز برقعہ کو نہیں دھوتی ہیں اور دوسرے کالے کپڑوں پر وائرس کا اٹیک زیادہ ہوتا ہے ۔اس لئے سبھی کے تحفظ کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے ۔
    وہیں اس سلسلہ میں جب اسپتال کے سی ایم ایچ او ڈاکٹر سنیل گپتا سے نیوز ایٹین اردو کے نمائندے نے بات کی تو انہوں نے اس طرح کے کسی سرکاری احکام کے جاری ہونے سے انکار کیا۔سی ایم ایچ او ڈاکٹر سنیل گپتا کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کوئی سرکاری احکام جاری نہیں ہوا ہے ۔ بھگوان جانے انہوں نے کہاں سے کون سے احکام پڑھ لیا ہے ۔وہ اپنے بنائے قانون کے مطابق وہ کام کر رہی ہیں ۔میرے پاس ایسا کوئی احکام حکومت کی جانب سے نہیں آیا ہے جس میں کہا گیا ہو کہ برقع نشیں خواتین اور ان کے بچوں کو ٹیکہ نہ لگایا جائے۔

    حکومت کا کوئی احکام آئے گا تو پہلے سی ایم ایچ او کے پاس آئے گا نہ کی کسی اسٹاف نرس کے پاس آئے گا۔جب سی ایم ایچ او سے پوچھا گیا کہ نرس مینا ابراہم کے اس عمل کے خلاف کیا کاروائی ہوگی تو انہوں نے بتایاکہ جب آپ کی بائٹ ہوئی ہے اس کےبعد میرے پاس جانکاری آگئی تھی اور فورا ہی میں نے اس شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وہاں سے ہٹادیا ہے ۔اسپتال میں آنے والے سبھی لوگوں کو کووڈ ضابطہ کے تحت ٹیکہ کی سہولیات فراہم کی جائینگی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: