ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

نابالغ بچی نے سنائی نکسلی حیوانیت کی کہانی۔ دو سال تک میرے جسم کو روندتے رہے

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس نے متعدد بار نکسل دستے سے بھاگنے کی کوشش کی ، لیکن ہر بار اسے پکڑ لیا گیا اور دوبارہ دستے میں شامل کرا لیا گیا۔ اس کے پیچھے مقصد صرف جسمانی بھوک مٹانا تھا۔

  • Share this:
نابالغ بچی نے سنائی نکسلی حیوانیت کی کہانی۔ دو سال تک میرے جسم کو روندتے رہے
علامتی تصویر

چائباسا۔ جھارکھنڈ کے علاقے کولہان میں سی پی آئی ماؤنوازوں کے مکروہ چہرے کو سیکیورٹی فورسز نے بے نقاب کیا ہے۔ دو سال پہلے نکسلیوں نے ایک 10 سالہ بچی کو اغوا کیا تھا اور اس کو اپنے دستے میں شامل کیا تھا۔ اس کے بعد وہ 2 سال تک اسے اپنی ہوس کا شکار بناتے رہے۔ بچی چیختی تھی، چلاتی تھی لیکن بندوق کی نوک پر اسے خاموش کردیا جاتا تھا۔ دوسری بہن کو بھی اٹھا لینے کا خوف دکھایا جاتا تھا۔ والدین کو بھی کئی قسم کی دھمکیاں ملیں۔ سکیورٹی فورسز کی کاوشوں کے نتیجے میں نکسلیوں کے چنگل سے باہر نکلی نابالغ نے روح فرسا اپنی داستان بیان کی۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


کئی بار بھاگنے کی کوشش کی


متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس نے متعدد بار نکسل دستے سے بھاگنے کی کوشش کی ، لیکن ہر بار اسے پکڑ لیا گیا اور دوبارہ دستے میں شامل کرا لیا گیا۔ اس کے پیچھے مقصد صرف جسمانی بھوک مٹانا تھا۔ تاہم ،دستے میں ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف پولیس میں سات مقدمات درج ہو گئے۔

نکسل کمانڈر کے ساتھ رہتی تھی

متاثرہ بچیکے مطابق ، وہ ماؤنواز کمانڈر جیون کنڈولنا دستے کی رکن تھی اور ہر وقت کنڈولنا کے ساتھ رہتی تھی۔ نکسلی قبضے سے نکلنے کے بعد متاثرہ  نے اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کو لے کر متعدد نکسلیوں کے نام بھی بتائے۔ آج وہ صرف 12 سال کی ہے۔ اس نے بتایا کہ دو سال پہلے تک وہ اپنے گاؤں کی دوسری لڑکیوں کی طرح اسکول جایا کرتی تھی لیکن کب اس پر ماؤنوازوں کی نظر پڑی، پتہ بھی نہیں چلا۔ ایک دن ماؤ نوازوں نے اسے گاؤں سے اٹھا لیا۔ پچھلے دو سالوں میں نکسلیوں نے اس کی زندگی جہنم بنا دی۔
First published: Mar 23, 2020 12:19 PM IST