ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

Chhattisgarh Maoist Attack: نکسلی حملہ میں 24 جوان شہید ، جانئے انکاونٹر کی کہانی جوانوں کی زبانی

بیجاپور میں نکسلیوں کے ساتھ تصادم میں اب تک 24 جوانوں کی شہادت ہوئی ہے ۔ چھتیس گڑھ کے بیجاپور اور سکما ضلع کے بارڈر پر ہوئے اس تصادم کو 400 سے زیادہ نکسلیوں نے انجام دیا ۔

  • Share this:
Chhattisgarh Maoist Attack: نکسلی حملہ میں 24 جوان شہید ، جانئے انکاونٹر کی کہانی جوانوں کی زبانی
تصادم میں زخمی جوانوں سے ملنے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل اسپتال پہنچے ۔

رائے پور : بیجاپور میں نکسلیوں کے ساتھ تصادم میں اب تک 24 جوانوں کی شہادت ہوئی ہے ۔ چھتیس گڑھ کے بیجاپور اور سکما ضلع کے بارڈر پر ہوئے اس تصادم کو 400 سے زیادہ نکسلیوں نے انجام دیا ۔ حالانکہ اس دوران جوانوں نے نکسلیوں کو پیچھے دھکیلنے کیلئے جم کر لوہا لیا ۔ اس واقعہ میں زخمی 13 جوانوں کا راجدھانی رائے پور میں علاج کیا جارہا ہے ۔ یہی نہیں ، جن جوانوں کو گولی لگی ہے ، ان کے حوصلے کافی بلند ہیں اور اگر آنے والے دنوں میں اس طرح کے تصادم ہوتے تو وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔


اس تصادم کی کہانی ایک زخمی جوان نے خود بتاتے ہوئے اپنے ارادے ظاہر کردئے ۔ نیوز 18 کے ساتھ جوانوں نے تصادم کی کہانی خود اپنی زبانی بیان کی ہے ۔ جوان بلراج کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ نکسلی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے گولہ بارود سے حملہ کررہے تھے ۔ جوان بلراج کے پیٹ میں گولی لگی ہے تو ایک دیگر جوان دیو پرکاش کی پیٹھ میں گولی لگی ہے اور ابھی تک گولی پھنسی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ سیکینڈ ان کمانڈر سندیپ دیویدی کے سینے میں گولیاں لگی ہیں ۔


زخمی جوان بلراج نے نیوز 18 کو بتایا کہ ہم ہفتہ کی صبح ہدف کو نشانہ بناکر کے لوٹ رہے تھے تو اس دوران ہم نے ایک ٹیکری پر ایل او پی لے لی ، تبھی ہمیں اطلاع اطلاع ملی کہ نکسلی ہمارا پیچھا کررہے ہیں اور وہ بہت بڑی تعداد میں ہیں ۔ اس کے بعد ہم نے ایک جگہ پوزیشن لے لی اور آل راونڈ ڈیفنس لگا کر بیٹھ گئے ۔ اس کے کچھ دیر بعد نکسلیوں نے حملہ کردیا ۔


انہوں نے بتایا کہ وہ جدید ہتھیار کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے گولہ بارود سے حملہ کررہے تھے ۔ جوان بلراج نے بتایا کہ وہ ہم پر جم کر حملہ کر رہے تھے اور ہم انہیں کھدیڑنے کیلئے پوری طاقت لگا رہے تھے ۔ یہی نہیں پلین علاقوں میں ہم نے انہیں کئی کلومیٹر تک پیچھے دھکیل دیا تھا ۔ اس دوران ہمیں بھی نقصان ہوا ، لیکن ان کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے ۔

جبکہ ایک دیگر جوان دیو پرکاش نے بتایا کہ اس تصادم کے دوران ہم چاروں طرف سے گھر چکے تھے اور وہ گولہ باری کے ساتھ گولے داغ رہے تھے ۔ اس کے بعد ہم ایک طرف فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھے ، لیکن اس دوران وہ ہمارا پیچھا کررہے تھے ۔ جوان نے کہا کہ اس دوران نکسلیوں کو بھاری نقصان ہوا، لیکن وہ لاشیں لانے نہیں دئے ۔ وہ زوردار فائرنگ کررہے تھے ۔ ساتھ ہی زخمی جوان نے کہا کہ اگر پھر موقع ملا تو نکسلیوں کو ڈھیر کردیں گے ۔

یہ آخری حملہ ہے : وزیر اعلی بھوپیش بگھیل

تصادم میں زخمی جوانوں سے ملنے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل اسپتال پہنچے ۔ اس دوران انہوں نے جوانوں کی کیفیت جانی اور اپنا ارادہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ نکسلیوں کے خلاف مہم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور یہ آخری حملہ ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 05, 2021 08:07 AM IST