ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کو جرائم سے پاک بنانے کے لئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دی افسرا ن کو سخت ہدایت

وزیر اعلی نے اپنے سخت موقف کو اختیار کرتے ہوئے بھوپال میں محکمہ پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف جرائم پر رپورٹ لی بلکہ مدھیہ پردیش کو جرائم سے پاک کرنے اور راجدھانی بھوپال کو گڈ گورننس کا ماڈل بنانے کی بھی ہدایت دی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کو جرائم سے پاک بنانے کے لئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دی افسرا ن کو سخت ہدایت
مدھیہ پردیش کو جرائم سے پاک بنانے کے لئے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے دی افسرا ن کو سخت ہدایت

مدھیہ پردیش میں بڑھتے جرائم اور جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کو لے کر وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے اپنے سخت موقف کا اعادہ کیا ہے ۔ وزیر اعلی نے اپنے سخت موقف کو اختیار کرتے ہوئے بھوپال میں محکمہ پولیس کے اعلی افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف جرائم پر رپورٹ لی بلکہ مدھیہ پردیش کو جرائم سے پاک کرنے اور راجدھانی بھوپال کو گڈ گورننس کا ماڈل بنانے کی  بھی ہدایت دی ۔


وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے منترالیہ میں منعقدہ میٹنگ میں صرف محکمہ پولیس کے افسران کو ہی میٹنگ میں طلب نہیں کیا تھا ، بلکہ ڈی جی پی ، پرنسپل سکریٹری کے ساتھ  ڈی آئی جی ، نگر نگم کمشنر اور کلکٹرکو بھی طلب کیا تھا ۔ میٹنگ میں وزیر اعلی نے بھوپال اور اندور میں جرائم کے خلاف جاری مہم پر اپنے اطمینان کا جہاں اظہار کیا ، وہیں راجدھانی بھوپال کو گڈگورننس کا ماڈل بنانے کے ہدایت بھی دی ۔ وزیر اعلی نے گڈ گورننس کو لے کر اور ماڈل پروجیکٹ کو لیکر افسران سے پندرہ دن کے اندر رپورٹ جمع کرنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔ وزیر اعلی نے افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ جرائم پیشہ عناصر پر کارروائی کرتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کسی غریب کی روزی روٹی کا سلسلہ ختم نہ ہو۔


وہیں کانگریس نے حکومت کے ذریعہ جرائم کے خلاف کی جارہی ہے کارروائی کو  ایک طرفہ قرار دیا ہے ۔ مدھیہ پردیش کے سینئر کانگریس لیڈر و سابق وزیر پی سی شرما کا کہنا ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر اور زمین مافیا ، جنہیں بی جے پی کی سرپرستی حاصل ہے ، ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو رہا ہے ۔ راجدھانی میں سرکاری زمینوں پر کس کے کتنے قبضے ہیں اور اس میں بی جے پی کے لوگ کتنے ہیں ، یہ سب کو معلوم ہے ۔ پی سی شرما نے ایرانی ڈیرے پر بلڈوزر چلانے کی بھی مخالفت کی ۔ ایرانی ڈیرے پر توڑی گئی چوون دکانوں سے کتنے لوگوں کا روزگارجڑا ہوا تھا ، اب کورونا قہر میں یہ لوگ جو بے روزگا ہوئے ہیں حکومت بتائے گی ان کی روزی روٹی کے لئے کیا ہوگا ۔ حکومت یہاں پر جرائم کے نام پر سیاسی انتقام کے تحت کارروائی کر رہی ہے ، جو ٹھیک نہیں ہے۔


 ایرانی ڈیرے پر حکومت کی کارروائی میں چوون دکانوں کو توڑا گیا ہے ۔
ایرانی ڈیرے پر حکومت کی کارروائی میں چوون دکانوں کو توڑا گیا ہے ۔


سماجی کارکن محمد حسن کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈیرے پر لوگ نوابی عہد سے رہ رہے تھے ۔ یہ ایران کے لوگ نوابی عہد میں یہاں پر گھوڑوں کی تجارت کرنے کے لئے آئے تھے ، بعد میں انہوں نے بھوپال میں ہی مستقل قیام کر لیا ۔ یہاں پر جو تعمیرات ہیں سب قانون کے تحت ہیں ۔ اگر ایرانی سماج کے کسی ایک شخص نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں کے سبھی لوگوں کے کاروبار کو تباہ کر دیا جائے ۔ ایرانی ڈیرے پر حکومت کی کارروائی میں چوون دکانوں کو توڑا گیا ہے ۔ یہاں کے لوگ نہ صرف بے روزگار ہوئے ہیں ، بلکہ ان کا آشیانہ بھی سرد موسم میں کورونا کے قہر میں حکومت نے چھین لیا ہے ، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سی ایم کہتے کچھ اور ہیں کرتے کچھ اور ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 30, 2020 11:23 AM IST