ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جنگ آزادی کے عظیم پروانوں نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کو ان کے یوم شہادت پر کیا گیا یاد

ان مجاہدین آزادی کو انکی یوم شہادت کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس تعلق سے رانچی کے شہید چوک کے قریب واقع شہید استھل پر لوک سیوا سمیتی نامی تنظیم کے ذریعہ تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ان دونوں مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور انکی قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی۔

  • Share this:
جنگ آزادی کے عظیم پروانوں نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کو ان کے یوم شہادت پر کیا گیا یاد
جنگ آزادی کے عظیم پروانوں نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کو ان کے یوم شہادت پر کیا گیا یاد

ہندوستان کی جنگ آزادی کے پروانوں میں نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کا نام بھی شمار کیا جاتا ہے ۔ ان دونوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انگریزی حکومت کے خلاف معرکہ آرائی کی پاداش میں ان دونوں مجاہدین آزادی کو ٤ اکتوبر ١٨٥٧ میں چترا میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔ ان مجاہدین آزادی کو انکی یوم شہادت کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس تعلق سے رانچی کے شہید چوک کے قریب واقع شہید استھل پر لوک سیوا سمیتی نامی تنظیم کے ذریعہ تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ان دونوں مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور انکی قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی۔


وہیں ریاست کے چترا نامی مقام پر بھی تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر شہید نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کی تصویر پر گل پوشی کی گئی۔ ساتھ ہی ان دونوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر چترا کالج کے سابق پرنسپل اور ونوبا بھاوے یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابق صدر پروفیسر افتخار عالم نے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مجاہدین آزادی کی بدولت ہی ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی ہے اس لئے ان شہیدوں کو جتنا یاد کریں کم ہے ۔ انہوں نے جنگ آزادی کے تعلق سے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلی جنگ آزادی میں مجاہدین آزادی نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کی چترا میں ٢ اکتوبر ١٨٥٧ کو انگریز سپاہیوں کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے تک گولی باری ہوتی رہی۔ اس وقت جھارکھنڈ کے کمشنر ای ٹی ڈالٹن اور میجر سمپسن ڈپٹی کمشنر تھے۔


پروفیسر افتخار عالم نےکہا کہ چترا کے فیصلہ کن جنگ میں نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے نے شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ١٥٠ مجاہدین آزادی کو چترا کے منگل تالاب کے پاس پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہےکہ ٧٧ سپاہیوں کو ایک ہی گڑھے میں انگریزوں نے دفن کر دیا تھا۔ افتخار عالم نے کہا کہ نادر علی خان اور جئے منگل پانڈے کو انگریز سپاہیوں نے پکڑ لیا ۔ نادر علی کو پیر میں گولی لگی تھی اور جئے منگل پانڈے کو بندوق کے ساتھ پکڑ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چترا کے کالی پہاڑی کے قریب عدالت لگاکر میجر سمپسن کے ذریعہ برائے نام سنوائی کی گئی اور ١٨٥٧ کی غدر کی دفعہ ١٧ کے مطابق پھانسی کی سزا مقرر کرتے ہوئے ان دونوں مجاہدین آزادی کو ٤ اکتوبر ١٨٥٧ کو چترا کے ہاری تالاب کے قریب پھانسی دے دی گئی۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 06, 2020 09:31 AM IST