ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: کانگریس کا الزام، 8 ارکان اسمبلی بی جے پی کے قبضے میں

کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے الزامات کے دو دنوں کے اندر آج یہاں کانگریس نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے قبضہ میں دہلی میں مدھیہ پردیش کے تقریبا آٹھ ممبران اسمبلی تھے، جن میں سے چار واپس آ گئے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 04, 2020 11:08 AM IST
  • Share this:
مدھیہ پردیش: کانگریس کا الزام، 8 ارکان اسمبلی بی جے پی کے قبضے میں
کمل ناتھ : فائل فوٹو

بھوپال۔ کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے الزامات کے دو دنوں کے اندر آج یہاں کانگریس نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے قبضہ میں دہلی میں مدھیہ پردیش کے تقریبا آٹھ ممبران اسمبلی تھے، جن میں سے چار واپس آ گئے ہیں۔ ریاستی کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کی صدر شوبھا اوجھا نے یہاں ’یو این آئی‘ سے بات چیت میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ باقی چار رکن اسمبلی بھی واپس آ جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کی کوششوں کے باوجود ریاست کی کانگریس حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔



اس دوران بتایا گیا ہے کہ بی ایس پی کی رام بائی اور سنجیو کشواہا کے علاوہ کانگریس کے بساهولال سنگھ، ہردیپ سنگھ اور ایدل سنگھ كسانا اور آزاد ایم ایل اے سریندر سنگھ شیرا کو مدھیہ پردیش کے باہر لے جایا گیا ہے۔ کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ بی جے پی لیڈر انہیں دو تین دنوں میں دہلی لے گئے ہیں۔ کچھ اور ممبران اسمبلی کو بی جے پی لیڈر لالچ دے رہے ہیں۔

اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر وشنودت شرما نے آج یہاں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس کا الزام سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست کی کانگریس حکومت کو گرانا نہیں چاہتی ہے۔ لیکن ان کے رہنماؤں کے درمیان ہی اختلافات ہیں۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ بی جے پی کانگریس اور کچھ دیگر پارٹیوں کے ممبران اسمبلی کو لالچ دے رہی ہے۔
First published: Mar 04, 2020 11:08 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading