ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا لاک ڈاؤن کے درمیان مدھیہ پردیش میں مذہبی عبادت گاہوں کو کھولے جانے کی اٹھی مانگ، جانئے کیوں

عارف مسعود نے اپنے خط لکھا ہے کہ کورونا کے خاتمہ کے لئے دارو کی نہیں بلکہ دعا کی ضرورت ہے۔ یہ ایک وبائی بیماری ہے اور اس وبائی بیماری کا خاتمہ روٹھے رب کو مناکر ہی کیا جا سکتا ہے

  • Share this:
کورونا لاک ڈاؤن کے درمیان مدھیہ پردیش میں مذہبی عبادت گاہوں کو کھولے جانے کی اٹھی مانگ، جانئے کیوں
کورونا لاک ڈاؤن کے درمیان مدھیہ پردیش میں مذہبی عبادت گاہوں کو کھولے جانے کی اٹھی مانگ

بھوپال۔ کورونا لاک ڈاؤن میں مدھیہ پردیش حکومت نے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں پر تو تالے لگا دئے ہیں لیکن دارو کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔  شراب کی فروخت سے حکومت کا خزٓانہ تو بھر رہا ہے لیکن دوسری جانب اس کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔


حکومت کے فیصلے کی کئی مذہبی رہنماؤں کے ساتھ سماجی تنظیموں نے بھی مخالفت شروع کر دی ہے۔ سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب سوشل ڈسٹنسنگ کو قائم رکھ کر شراب فروخت کی جا سکتی ہے تو سوشل ڈسٹنسنگ کو ملحوظ رکھ کر مذہبی عبادت گاہیں کیوں نہیں کھولی جا سکتی ہیں۔ بھوپال سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے بھی سی ایم شیوراج سنگھ کو خط لکھ کر تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔


عارف مسعود نے اپنے خط لکھا ہے کہ کورونا کی وبائی بیماری کے خاتمہ کے لئے دارو کی نہیں بلکہ دعا کی ضرورت ہے۔ یہ ایک وبائی بیماری ہے اور اس وبائی بیماری کا خاتمہ روٹھے رب کو مناکر ہی کیا جا سکتا ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ مندر ،مسجد،گرودوارہ اور چرچ کو کھولنے کی اجازت دے تاکہ سبھی مذاہب کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے رب کو راضی کرنے کے لئے عبادت میں مصروف ہوں تاکہ دنیا سے کورونا کی وبائی بیماری کا خاتمہ ہو سکے۔


بھوپال سے کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے بھی سی ایم شیوراج سنگھ کو خط لکھ کر تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر صحت ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھنے کا ہے۔ سرکار کو خزانہ کی بھی ضرورت ہے اور دعا کی بھی۔ حالات ٹھیک ہونے پر مذہبی عبادت گاہیں بھی کھولی جائیں گی۔
First published: May 20, 2020 09:21 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading