ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا وبا کے ماحول میں ریمس کی ذمہ داریوں میں اضافہ لیکن  لاپرواہی کے بھی دیکھے جا رہے ہیں نظارے

کورونا وبا کے ماحول میں اس اسپتال کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں لیکن ذمہ داریوں کے درمیان لاپرواہی کے بھی کئی نظارے درد کی چادر اوڑھے ریمس احاطے میں نظر آتے ہیں۔

  • Share this:
کورونا وبا کے ماحول میں ریمس کی ذمہ داریوں میں اضافہ لیکن  لاپرواہی کے بھی دیکھے جا رہے ہیں نظارے
کورونا وبا میں ریمس کی ذمہ داریوں میں اضافہ لیکن لاپرواہی کے بھی دیکھے جا رہے ہیں نظارے

رانچی کے بریاتو نامی مقام پر واقع جھارکھنڈ کا سب سے بڑا اسپتال ریمس قائم ہے۔‌ کورونا وبا کے ماحول میں اس اسپتال کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں لیکن ذمہ داریوں کے درمیان لاپرواہی کے بھی کئی نظارے درد کی چادر اوڑھے ریمس احاطے میں نظر آتے ہیں۔ ریمس کے کونے کونے میں مریضوں کا درد بھی بسا ہے اور علاج بھی۔ لیکن لاپرواہی اور اندیکھی کی کئی تصویریں ریمس کے وقار کو مجروح کر رہی ہیں۔ نیوز 18 کی ٹیم جب ریمس کے گلیاروں سے گذری تب برآمدے میں زمین پر پڑے مریضوں اور اٹینڈنٹ نے ایک امید بھری نظروں سے دیکھا۔ معلوم ہوا کہ اونکولوجی ڈپارٹمنٹ کی اندیکھی کی وجہ سے کئی مریض مہینہ بھر سے برآمدے میں درد کے درمیان رہنے کو مجبور‌ ہیں۔


ان میں سے ایک بوکارو کی بدھنی دیوی نے بتایا کہ پیر میں گانٹھ ہونے کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ بغیر کورونا جانچ کے اسپتال میں داخل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح ریمس میں داخل نہیں کرنے کی کئی اور مریضوں نے شکایت کی۔ گڑھوا سے ریمس پہنچے ٨٠ سالہ بزرگ گردھاری بیٹھا نے اپنی شریک حیات کی پریشانی بیان کرتے ہوئے رو پڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ گذشتہ آٹھ دنوں سے برآمدے میں پڑے ہیں لیکن ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح کا درد دمکا کی ویجینتی دیوی نے بھی بیان کیا ہے ۔ تقریباً ٢٢ سالہ ویجینتی زیادہ بولنے کی اہل نہیں ہے لیکن اتنا ضرور کہتی ہے کہ وہ گذشتہ ١٥ دنوں سے برآمدے میں پڑے رہ کر علاج کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔


نیوز 18 کی ٹیم  نے جب اس سلسلہ میں ریمس کے سپرنٹینڈنٹ سے بات کی تو انہوں نے اسے سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ریمس میں ممکن نہیں ہے ۔ لیکن نیوز 18 کی شکایت پر سپرنٹینڈنٹ کے پاس بیٹھے ڈاکٹر نیشیتا ایکا تمام مریضوں کے پاس پہنچے اور کاغذوں کی جانچ کے بعد تمام شکایتوں کو صحیح پایا۔ انہوں نے اونکولوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر روہت کمار جھا کو فون کر سبھی مریضوں کو علاج کے لیے داخل کرایا اور اس طرح نیوز 18 کی پہل پر تمام مریضوں کو برآمدے سے سرجری ڈپارٹمنٹ میں داخل کرایا گیا۔


ریمس ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر  نیشیتا ایکا نے ریمس سپرنٹینڈنٹ کی جانب سے نیوز 18 سے معذرت پیش کی اور غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اونکولوجی ڈپارٹمنٹ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ مہینوں سے مریض برآمدے میں پڑے رہنے کو مجبور ہوئے۔ ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست کا سب سے بڑا اسپتال جس کی جانب لاکھوں غریب مریض ایک امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ اپنی ذمہ داری میڈیا کے دکھانے کے بعد ہی کیوں سمجھتا ہے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 24, 2020 08:27 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading