ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کے سخت احتجاج کے بعد فیصلے میں ہوئی ترمیم

مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر جاری ہے۔ کورونا قہرکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ جس مدھیہ پردیش میں یکم فروری کو کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد 151 اور ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 790 تھی اب اسی مدھیہ پردیش میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد بارہ ہزار 995 ہوگئی ہے۔

  • Share this:
سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کے سخت احتجاج کے بعد فیصلے میں ہوئی ترمیم
سماجی تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کے سخت احتجاج کے بعد فیصلے میں ہوئی ترمیم

بھوپال: مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہرجاری ہے۔ کورونا قہرکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس مدھیہ پردیش میں یکم فروری کو کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد 151 اور ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 790 تھی، اب اسی مدھیہ پردیش میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد بارہ ہزار 995 ہوگئی ہے اور یومیہ طور پر درج کئے جانے والے کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد 2200 کو تجاوز کرگئی ہے۔


 حکومت کے فیصلہ کے خلاف بھوپال مساجد کمیٹی، دارالافتا و دارالقضا کے علما دین نے مشترکہ طور پرپریس نوٹ جاری کرتے ہوئے حکومت سے فیصلہ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

حکومت کے فیصلہ کے خلاف بھوپال مساجد کمیٹی، دارالافتا و دارالقضا کے علما دین نے مشترکہ طور پرپریس نوٹ جاری کرتے ہوئے حکومت سے فیصلہ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔


کورونا قہر کے سبب حکومت نے راجدھانی بھوپال سمیت بارہ اضَلاع میں اتوار کے دن مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا ہے وہیں اتوارکے دن شب برات اور ہولیکات دھن پر پابندی لگانے کے بعد جب سماجی اور مذہبی تنظیموں نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اپنے فیصلہ پرنظرثانی کرنے اورکووڈ ضاطہ کے تحت شب برات میں قبرستان جانے اورہولیکا دھن کا مطالبہ کیا تو حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔


کورونا قہر کے سبب حکومت نے راجدھانی بھوپال سمیت بارہ اضَلاع میں اتوار کے دن مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا ہے۔
کورونا قہر کے سبب حکومت نے راجدھانی بھوپال سمیت بارہ اضَلاع میں اتوار کے دن مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا ہے۔


حکومت کے فیصلہ کے خلاف بھوپال مساجد کمیٹی، دارالافتا و دارالقضا کے علما دین نے مشترکہ طور پرپریس نوٹ جاری کرتے ہوئے حکومت سے فیصلہ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ بھوپال شہرقاضی سید مشتاق علی ندوی کا کہنا ہے کہ جب کووڈ ضابطہ میں بازار کھولےجاسکتے ہیں، فیکٹریوں میں لوگ کام کرسکتے ہیں تو شب برات میں ضابطہ کے تحت لوگ فاتحہ پڑھنے کیوں نہیں جا سکتے ہیں۔ حکومت نے ہماری اپیل پر اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے ترمیمی احکام جاری کیا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ ضابطہ کا خیال رکھیں اور فاتحہ پڑھنے جائیں مگر بھیڑ سے اجتناب کریں ،یہ نجات کی رات ہے ا س میں اپنے لئے اور ملک کے امن و امان وخوشحالی کے ساتھ کورونا کی وبائی بیماری کے خاتمہ کے لئے دعا کریں۔

ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 790 تھی اب اسی مدھیہ پردیش میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد بارہ ہزار 995 ہوگئی ہے۔
ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 790 تھی اب اسی مدھیہ پردیش میں کورونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد بارہ ہزار 995 ہوگئی ہے۔


مدھیہ پردیش سنسکرت بچاؤ منچ کے صدر چندر شیکھر تیواری کہتے ہیں کہ حکومت کے فیصلہ کا سواگت ہے، سبھی لوگ کورونا کی وبائی بیماری کے خلاف حکومت کے ساتھ ہیں مگر سال کے تہوار نہ منائیں جائیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ مدہبی طور پر جو رسمیں ضروری ہیں ان کی ادائیگی ضلع انتظامیہ سے اجازت لے کرکی جائیں، مگربھیڑنہ لگائی جائے۔ یہ وبائی بیماری بہت خطرناک ہیں اورسبھی کے تعاون سے ہم اس پر قابو پائیں گے۔ میری مذہبی رہنماؤں، سیاسی پارٹیوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کے صحافیوں سے بھی اپیل ہے کہ اس وبائی بیماری کو لے کر چلائی جارہی بیداری مہم کا حصہ بنیں۔ لوگ خود بھی ماسک لگائیں اور دوسروں کو بھی ماسک لگانے کی نصحیت کریں۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ مدہبی طور پر جو رسمیں ضروری ہیں ان کی ادائیگی ضلع انتظامیہ سے اجازت لے کرکی جائیں، مگربھیڑنہ لگائی جائے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ کہتے ہیں کہ مدہبی طور پر جو رسمیں ضروری ہیں ان کی ادائیگی ضلع انتظامیہ سے اجازت لے کرکی جائیں، مگربھیڑنہ لگائی جائے۔


بھوپال ڈی آئی جی ارشاد ولی کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں ہولیکا دہن کو لے کر پوری تیاری کرلی گئی ہے، جن مقامات پر ہولیکا دہن ہوگا، اس کی بھی نشاندہی کرلی گئی ہے، اسی طرح سے شب برات پر جانے والوں کے لئے انتظام کیا گیا ہے۔ اگرکسی کو کہیں کوئی مشکل ہے، تو اس کے لئے ہماری گاڑیاں جو لوگوں کی مدد کریں گی۔
واضح رہے کہ اتوار کے دن راجدھانی بھوپال میں مکمل لاک ڈاؤن کے سبب تین ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔حکومت کی سختی اور جگہ جگہ بیرکیٹنگ کے سبب دن میں جہاں سڑکیں ویران تھیں، وہیں شام ہوتے ہی لوگوں کا گھروں سے نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ حکومت نے کووڈ-19 کے ضابطے کے تحت تعداد کو محدود کرتے ہوئے 20 لوگوں کی شرکت کی اجازت دی ہے۔ بھوپال کے قبرستانوں میں شام سے ہی لوگوں کا پہنچا شروع ہوگیا، تاکہ اپنے عزیزوں کو فاتحہ پڑھ کر بخش سکیں۔ عقیدتمندوں کا ماننا ہے کہ ہمیں تیوہاربھی ماننا ہے اورکورونا کے خلاف جنگ بھی جیتنا ہے، حکومت کا جو احکام ہے اسے غنیمت سمجھ کرکام کرنا چاہئے۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 28, 2021 11:59 PM IST