உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اندور میں ہندو تنظیموں کے ذریعہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان بند کرنے کے مطالبہ پر ایم پی جمیعت علما کا سخت احتجاج

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ مدھیہ پردیش میں کچھ دل نام نہاد دل پولیس یہ کردار ادا کر رہے ہیں اور جگہ جگہ پر غنڈہ گری کرتے ہیں ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ مدھیہ پردیش میں کچھ دل نام نہاد دل پولیس یہ کردار ادا کر رہے ہیں اور جگہ جگہ پر غنڈہ گری کرتے ہیں ۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ مدھیہ پردیش میں کچھ دل نام نہاد دل پولیس یہ کردار ادا کر رہے ہیں اور جگہ جگہ پر غنڈہ گری کرتے ہیں ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں لاؤڈ اسپیکرپر ہونے والی اذان کو لیکر سیاست تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ پہلے بھوپال بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ کے دریعہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کو بند کرنے کا مطالبہ کیاگیا ۔ابھی اس مطالبہ پر سیاسی گھمسان کم بھی نہیں ہوا تھا کہ اندور کے وکیلوں کے ذریعہ اس معاملے کو لیکر نہ صرف اندور کے ڈیویزنل کمشنر کو بلکہ وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو خط لکھ کر لاؤڈ اسپیکرسے ہونے والی اذان کو بند کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اسی بیچ اندور میں ہندو تنظیموں کے ذریعہ اندور شہر میں لاؤڈ اسپیکر سے ہونے والی اذان کو صوتی آلودگی کو بنیاد پر بند کرنے کا مطالبہ شروع کردیا گیا۔ اندور میں ہندو تنظیموں کے ذریعہ کسی ایک تھانہ میں نہیں بلکہ شہر کے سبھی تھانوں میں اس مطالبہ کو لیکر میمورنڈم بھی دیا گیا ہے ۔وہیں مدھیہ پردیش جمیعت علما نے اذان پر پابندی کی بات کرنے والوں کو امن کا دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وشو ہندو پریشد اندور کے اہم رکن ایس ایس پرساد کہتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکرسے ہونے والی اذان سے نہ صرف صوتی آلودگی ہوتی ہے بلکہ اس سے لوگوں اور بالخصوص بیمار لوگوں کے سکون میں خلل پڑتا ہے اور پھر لاؤڈ اسپیکرسے ہونے والی اذان پر سعودی تک میں پابندی لگا دی گئی ہے ۔اس معاملے کو لیکر جہاں جن جاگرن چلایا جارہا ہے وہیں اندور کے سبھی تھانوں میں مقامی باشندوں کے ساتھ مل کر میمورنڈم بھی پیش کیاگیا ہے۔ حکومت ہمارے مطالبہ پر کاروائی نہیں کرتی ہے تو یہ آندولن صرف اندور تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے پورے مدھیہ پردیش اور ملک گیر سطح پر چلایا جائے گا۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ مدھیہ پردیش میں کچھ دل نام نہاد دل پولیس یہ کردار ادا کر رہے ہیں اور جگہ جگہ پر غنڈہ گری کرتے ہیں ۔ کہیں جانوروں کا بازار لگتا ہے تو وہاں بیچنے اور خریدنے والوں سے پیسوں کی وصولی کی جاتی ہے۔ اسی طرح سے کہیں پٹاخوں کے اوپر دیوی دیوتاؤں کی تصویر ہوتی ہے اور بیچنے والا مسلمان ہوتا ہے تو اس کے خلاف سازش کرکے مارا پیٹا جاتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ امن و قانون اور غیر قانونی کام پر سزا دینے کا اختیار تو سرکار اور محکمہ پولیس کا ہوتا ہے ۔نام نہاد تنظیموں کو کس نے یہ اختیار دیدیا۔چائنا سے ڈور آتی ہے اور کاروائی مسلمان پر کی جاتی ہے لیکن چائنا کی ڈور بغیر سرکار کی اجازت کے تو ملک کے اندر نہیں آسکتی ہے۔ میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سرکاریں سب کی ہوتی ہیں ۔مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومت ہو ان کو سب کی نگرانی کرنا چاہیئے اور ان کی دھر پکڑکرنا چاہیئے۔ اذان سے کوئی صوتی آلودگی نہیں ہوتی ہے۔جب لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں ہوتا تھا تو کوئی نہیں کرتا تھا اور جب لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ہورہا ہے تو اسے سب استعمال کر رہے ہیں۔

    لاؤڈ اسپیکر کا استعمال گرودواروں، میں مندوروں میں،چرچ میں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے یہاں بھی ہوتا ہے ۔ شادی بیاہ ،سیاسی جلسوں ریلیوں میں بھی ہوتاہے ۔درگا اتسومیں محرم کی مجلسوں میں،گنیش اتسو میں بھی ہوتا ہے ۔ صوتی آلودگی اگر ہوتی ہے لاؤڈسپیکر کے استعمال سے تو اس کے لئے قانون بناکر سب پر یکساں طور پر اسے نافذ کیا جائے۔کسی ایک مذہب کو ٹارگیٹ کرکے ملک و صوبہ کا امن کا جو ماحول ہے اسے یہ لوگ فرقہ وارانہ رنگ دینے کی یہ لوگ کوشش کر رہے ہیں۔میں اس کی سخت لفظوں میں مذمت کرتا ہوں اور بھارت سرکار و مدھیہ پردیش سرکار سے مانگ کرتا ہوں کہ ایسے دلوں پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے تاکہ ملک کا خوشگوار ماحول خراب نہ ہو۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: