ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کا مطالبہ

واضح رہے کہ بھوپال کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سر سید تحریک سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ نوابین بھوپال سر سید کی تعلیم تحریک سے نہ صرف وابستہ رہے ہیں بلکہ ہر طرح سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں اپنا تعاون پیش کیا تھا۔

  • Share this:
بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کا مطالبہ
بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کا مطالبہ

 بھوپال۔ سال 2020 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) کے قیام کی صدی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدی تقریب کا انعقاد نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جاری ہے بلکہ ملک وبیرون ملک میں  جہاں جہاں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغین موجود ہیں یونیورسٹی کی صدسالہ تقریب اور سرسید احمد خان کی تعلیم تحریک کو یاد کر کے اس سے تعلیم کی شمع جلانے میں مصروف ہیں۔ بھوپال میں بھی مختلف انجمنوں کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدی کے موقعہ پر نہ صرف جلسہ اور سمینار کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے بلکہ بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کا مطالبہ بھی شروع ہوگیا ہے۔


واضح رہے کہ بھوپال کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) اور سر سید تحریک سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ نوابین بھوپال سر سید کی تعلیم تحریک سے نہ صرف وابستہ رہے ہیں بلکہ ہر طرح سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں اپنا تعاون پیش کیا تھا۔ یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی چانسلر بننے کا اعزاز بھی ریاست بھوپال کی آخری خاتون فرمانروا نواب سلطان جہاں کو حاصل رہا ہے ۔ نواب سلطان جہاں بیگم انیس سو بیس سے انیس سو تیس تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے پر فائز رہی ہیں ۔ انکے انتقال کے بعد ان کے فرزند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم نواب حمید اللہ خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے ۔ جو انہیں سو پینتس تک اس منصب جلیلہ پر فائزہ رہے۔نواب حمید اللہ خان کے بعد میر عثمان علی خان نظام  حیدرآباد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر بنائے گئے جو انیس سو سینتالیس تک اس عہدے پر فائز رہے۔


بھوپال اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) کے اس خاص رشتہ کو دیکھتے ہوئے بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کا مطالبہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے سابق وی سی پی کے عبد العزیز کے عہد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذریعہ مالا پورم، مرشدآباد اور بہار کے ساتھ وسط ہندکے تاریخی شہر بھوپال میں یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کو لیکر تجویز پاس کی گئی تھی۔ دوسری جگہوں پر یونیورسٹی کی شاخ کے قیام کو لیکر زمینیں الاٹ ہوئیں اور تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا مگر بھوپال میں حکومت نے یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کو لیکر زمین تک الاٹ نہیں کی۔ زمین الاٹ نہیں کئے جانے کے پیچھے یہاں کی مقامی سیاست بھی بہت حد تک ذمہ دار رہی ہے۔ اب جبکہ یونیورسٹی کے قیام کو صدی مکمل ہوگئی ہے بھوپال کی سماجی تنظیموں نے شیوراج حکومت کے ساتھ ایم پی وقف بورڈ سے بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بھوپال میں شاخ قائم کرنے کو لیکر اپنی تحریک زور وشور سے شروع کردی ہے۔


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) کی صدی تقریب کے موقعہ پر بھوپال میں منعقدہ تقریب میں مولانا برکت اللہ ایجوکیشن سو سائٹی ،ایم پی جمعیت علما،اے ایم یو اولڈ بوائز ا نے متفقہ طور پر قرار دادپاس کر کے یونیورسٹی کے لئے زمین الاٹمنٹ کو لیکر وزیر اعلی شیوراج سنگھ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سو سائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بھوپال کے رشتے پر ہمیں فخر ہے ۔ ہم نے یونیورسٹی کی صدی تقریب کے موقعہ پر آج مذٓاکرہ کا انعقاد کیا ہے اور تیس دسمبر کو قومی سمینار کا انعقاد کرینگے تاکہ یونیورسٹی کےصد سالہ سفر اور سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک پر تفصیل سے بات ہو اور نئی نسل سر سید احمد خان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی روشن تاریخ سے واقف ہو سکے ۔یہی نہیں یونیورسٹی کی شاخ بھوپال میں قائم کرنے کو لیکر بھی سبھی تعلیمی انجمنوں کے ذریعہ متحد ہوکر تحریک چلائی جائی گی۔ وزیر اعلی سے ملاقات کر کے بھوپال میں زمین الاٹ کرنے کا مطالبہ کیاجائے گا۔ ساتھ ہی ہم وقف بورڈ سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین ہے اسے تعلیم کا تاج محل بنانے کے لئے یونیورسٹی کو یونیورسٹی زمین دینے کا کام کرے۔

مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او جمیل احمد خان کہتے ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (Aligarh Muslim University) کی شاخ بھوپال میں قائم ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔ مجھے اس تعلق سے جانکاری نہیں ہے کہ پہلے کوئی لیٹر یونیورسٹی نے وقف بورڈ کو دیا ہے یا نہیں۔ میں نے فائل تلاش کروانے کاحکم دیا ہے۔ اگر فائل نہیں بھی ہے اور یونیورسٹی ہم سے مطالبہ کرتی ہے تو اس نیک کام میں ہم اس کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی برانچ بھوپال میں قائم ہوگی تو اس سے صرف بھوپال ہی نہیں بلکہ پورے وسط ہند کو فائدہ پہنچے گا اور سبھی قوموں کے طلبا کو ایک معیاری یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ ملے گا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 19, 2020 09:52 AM IST