ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ کے نفاذ کا مطالبہ

مدھیہ پردیش جن سنگھرش مورچہ کے صدر شارق احمد کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں پہلے بھی کئی بار آواز اٹھائی جا چکی ہے لیکن بات یقین دہانی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس کے لئے جتنا حکومت ذمہ دار ہے اس سے زیادہ ہماری مسلم قیادت ذمہ دار ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ کے نفاذ کا مطالبہ
مدھیہ پردیش: اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ کے نفاذ کا مطالبہ

بھوپال۔ اب اسےحکومتوں کی تنگ نظری یا عدم توجہی کہیں یا اقلیتی اداروں کے ملازمین کی بد قسمتی۔ ریاست مدھیہ پردیش کے قیام کے 64 سال بعد بھی ایم پی کے اقلیتی اداروں میں تقرری کا کوئی ضابطہ ہی نافذ نہیں ہو سکا۔ اقلیتی اداروں کے ملازمین نہ صرف ایک فکس تنخواہ پر کام کرنے کو مجبور ہوتے ہیں بلکہ اقلیتی اداروں کے ملازمین کی قسمت کا فیصلہ اداروں کے چیرمین اور کمیٹیوں کے اراکین کی خوشنودی پر انحصار کرتا ہے۔


وسط ہند میں ریاست مدھیہ پردیش کا قیام یکم نومبر 1956 کو عمل میں آیاتھا۔ ریاست کے قیام کے بعد یہاں پر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقلیتی ادارے بھی وقت وقت پر قائم کئے گئے ۔مگر آج تک اقلیتوں سے وابستہ کسی بھی ادارے میں تقرری ضابطہ کا نفاذ نہیں ہوسکا۔ ایسا نہیں ہے کہ تقرری ضابطہ نہیں ہونے کا معاملہ کسی ایک اقلیتی ادارے سے وابستہ ہے بلکہ اقلیت کے تعلق سے جتنے بھی ادارے ہیں سب کا یہی حال ہے۔ وقف بورڈ،حج کمیٹی ،مساجد کمیٹی ،مدرسہ بورڈ  سب میں ایک جیسی ہی صورتحال ہے ۔اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی گئی ہو ۔آواز بہت بار اٹھائی گئی مگر اس جانب نہ تو کبھی حکومتیں سنجیدہ ہوئیں اور نہ ہی اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم نمائندے کبھی سنجیدہ ہوئے اور دونوں کی ہی تنگ نظری کے سبب اقلیتی اداروں کے ملازمین آج تک دو پاٹوں کے بیچ پس رہے ہیں۔


مدھیہ پردیش جن سنگھرش مورچہ کے صدر شارق احمد کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں پہلے بھی کئی بار آواز اٹھائی جا چکی ہے لیکن بات یقین دہانی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس کے لئے جتنا حکومت ذمہ دار ہے اس سے زیادہ ہماری مسلم قیادت ذمہ دار ہے۔ مسلم سماج کی قیادت کرنے والوں نے اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ اس لئے نافذ نہیں ہونے دیا کیونکہ اس کے پیچھے ان کے اپنے مفاد ہوتے ہیں ۔ جو بھی شخص اقلیتی اداروں میں چیرمین بن کر آتا ہے یا کسی کمیٹی میں اس کا تقرر ہوتا ہے تو وہ تقرری کا کوئی ضابطہ نہیں ہونے کے سبب اپنے کشف برداروں کا تقرر کرتاہے اور سابقہ کمیٹی کے ذریعہ تقرر کئے گئے لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیتا ہے۔ اگر یہاں تقرری ضابطہ ہوتا تو کمیٹیوں کے چیرمین اور ممبران اپنی من مانی نہیں کر پاتے اور حکومت اس لئے بھی خاموش رہتی ہے کہ اسے معلوم ہے کہ اگر اقلیتی اداروں میں تقرری کا ضابطہ نافذ ہو جائے گا تو اقلیتی اداروں کے ملازمین کو بھی وہی مراعات دینا ہوگی جو دوسرے سرکاری ادارے کے ملازمین کو حاصل ہے۔ مگر اب ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم نے اپنے مطالبات کو لیکر ایم پی اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کو میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ کا نفاذ کرنے کے ساتھ اقلیتی اداروں کی خالی اسامیوں کو پر کرنےکا بھی مطالبہ شامل ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ اگر اقلیتی اداروں میں آج تک تقرری کا ضابطہ نافذ نہیں ہو سکا تو اس کے لئے کانگریس کی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ جتنے بھی ادارے اقلیتیوں کی فلاح کے لئے ہیں یہ سب کانگریس کے عہد میں قائم کئے گئے ہیں۔ جب ادارہ قائم ہوا تھا تبھی تقرری کا ضابطہ بھی نافذ کیا جانا چاہیئے تھا۔ اب ہماری نظر میں یہ معاملہ آیا ہے اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اقلیتیوں سے وابستہ سبھی اداروں میں تقرری کو لیکر ضابطہ نافد ہوگا اور سبھی ملازمین کو وہی مراعات ملیں گی جو دوسرے اداروں کے ملازمین کو حاصل ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 20, 2020 08:59 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading