உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدارس میں CCTV CAMERA لگانے وپولیس کے ذریعہ نگرانی کے مطالبے پر مسلم تنظیموں سمیت کانگریس نے بھی کی BJPکی مخالفت

    مسلم تنظیموں کے ساتھ کانگریس نے بھی بی جےپی کو بنایا سخت تنقید کا نشانہ

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں پچھلے کچھ مہینوں سے مساجد اور مدارس ہی سیاست کا محور بنے ہوئے ہیں۔ مساجد میں لاؤڈاسپیکر سے ہونے والی اذان کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں پڑا تھا کہ سابق پروٹیم اسپیکر و بی جے پی ایم ایل اے کے ذریعہ ریاست کے مدارس میں کیمرہ لگانے اور اس کی نگرانی پولیس کے ذریعہ کئے جانے کا مطالبہ شروع کردیا گیا ہے۔ وہیں بی جے پی کے ذریعہ مدارس میں کیمرہ لگانے اور پولیس کے ذریعہ نگرانی کئے جانے کے مطالبہ کی نہ صرف مسلم تنظیموں نے مخالفت کی ہے بلکہ مسلم تنظیموں کے ساتھ کانگریس نے بھی بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
    سابق پروٹیم اسپیکر اور بھوپال کے حضور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی رامیشور شرما کہتے ہیں کہ شہر قاضی بھوپال نے وزیر داحلہ ڈاکٹر نروتم مشرا سے ملاقات میں کہا کہ ہم مسلمانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سب مسجدوں میں کیمرے لگائیں تو ہم نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ اور کہا کہ مسجدوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں اور کیمرے کو پولیس ہیڈکوراٹر سے جوڑ دیا جائے۔ساتھ میں ہم نے ایک اور بات کی ہے کہ چونکہ ان کا بڑادل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ قومیت اور سماجک سروکار سے جڑیں تو ہم نے شہر قاضی صاحب سے گزارش کی ہے کہ سبھی مدرسوں میں بھی کیمرے لگائے جائیں ۔کیا بچے پڑھ رہے ہیں اور کیا مولوی پڑھا رہے ہیں ،یہ اس میں کلیئر ہو جائے گا۔کسی کے من میں کوئی شک کوئی شبہہ اور کوئی سازش کام ہی نہیں کرے گی جب سب چیزیں پاک صاف ہو نگی ۔اور اس لئے یہ ہونا چاہیئے۔مدرسوں میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانا چاہیئے ۔

    یہ بھی پڑھئے:  3مئی تک بند کریں مساجد کے Loudspeaker، ورنہ ہم بجائیں گے ہنومان چالیسہ، راج ٹھاکرے کا مہاراشٹر حکومت کو انتبا 


    وہیں ایم پی کانگریس ترجمان  اجے یادو کہتے ہیں کہ بی جے پی لیڈران اپنی سیاسی روٹیاں سیکنے کے لئے مدرسوں میں بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔مدھیہ پردیش کے اسکول ہوں یا مدرسے ،سبھی کے نصاب سرکار کی منظوری کے بعد ہی عمل میں آتے ہیں ۔سرکاری کی یہ ذمہ داری ہے کہ چاہے وہ اسکول ہوں یا مدرسہ یا دیگر ادارے ہوں یا مذہبی مقامات ہوں سبھی جگہ سیکوریٹی کا انتظام کرنا اور سبھی مقامات پر سی سی ٹی وی کا انتظام ہونا یہ سب سرکار کی ذمہ داری ہے ۔سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ بے تکے بیان دینے سے سرکاری کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی ہے اور سچ یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میں سماجی سیکوریٹی دینے میں حکومت ناکام رہی ہے ۔


    وہیں سابق ڈی جی پی اور بینظیر انصار ایجوکیشن سو سائٹی کے صدر ایم ڈبلیو انصاری کہتے ہیں کہ بی جے پی لیڈر کے بیان مضحکہ خیز ہے ۔مرکز اور ریاست دونوں جگہوں پر اسی پارٹی کی حکومت ہے اور گزشتہ چھ سالوں سے مدارس کے اساتذہ کو تنحواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں ۔مدرسوں کی اتنی فکر ہے تو بی جے پی اور اس کی حکومت کو چاہیئے کہ پہلے مدارس اساتذہ کی تنحواہیں ادا کی جائیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ جو مدارس ہیں ان کا امتحان راجیہ اوپن اسکول کے ذریعہ لیا جاتا ہے اور حکومت کی ایجنسی سے تحقیق کے بعد ہی کوئی کام کیا جاتا ہے ۔



    Ramazan کا دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے، آیئے گناہوں سے کریں توبہ، یہاں جانئے اس کی فضیلت

    اگر کیمرہ لگانے کی ہی بات ہے تو صرف مدارس ہی کیوں ؟وہ تمام ادارے جو دائیں بازو کے ہیں،جہاں سے فساد کرانے کی بات کی جاتی ہے انہیں پہلے پولیس ہیڈکوارٹرسے جوڑا جانا چاہیئے تاکہ ملک کو بچایا جا سکے ۔مدارس نے ہمیشہ حب الوطنی کا درس دیا ہے اور ملک کی سیکوریٹی ایجنسیاں ایک نہیں کئی بار ملک گیر سطح پر اس کی جانچ کر چکی ہیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: