உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان اور ان کے رفقا کی خدمات کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ

    اشفاق اللہ خان کی یوم ولادت پر بھوپال میں سماجی تنظیموں کا مطالبہ

    اشفاق اللہ خان کی یوم ولادت پر بھوپال میں سماجی تنظیموں کا مطالبہ

    ھوپال شہید گیٹ پر سد بھاؤنا منچ اور ایم پی جمعیت علما یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ مختصرتقریب میں تحریک آزادی کے حوالے سے اشفاق اللہ خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی او رحکومت مدھیہ پردیش سے اشفاق اللہ خان کے ساتھ ان کے دیگر رفقا کی یاد گار قائم کرنے کے ساتھ تحریک آزادی میں ان کی گرانقدر خدمات کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔

    • Share this:
    ممتاز مجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کی یوم ولادت (Birth Anniversary) کے موقع پر بھوپال میں تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ بھوپال شہید گیٹ پر سد بھاؤنا منچ اور ایم پی جمعیت علما یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ مختصرتقریب میں تحریک آزادی کے حوالے سے اشفاق اللہ خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی او رحکومت مدھیہ پردیش سے اشفاق اللہ خان کے ساتھ ان کے دیگر رفقا کی یاد گار قائم کرنے کے ساتھ تحریک آزادی میں ان کی گرانقدر خدمات کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
    اشفاق اللہ خان کا شمار صرف ہندوستان ہی نہیں بر صغیرکے ممتاز مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے۔ اشفاق اللہ خان کی ولادت 22 اکتوبر 1900 کو اتر پردیش کے مردم خیز شہر شاہجہاں پور کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی تھی۔ اشفاق اللہ خان کے والد کا نام شیفق اللہ خان اور والدہ کا نام مظہر النسا بیگم تھا۔ بھوپال شہید گیٹ پرسد بھاؤنا منچ اور ایم پی جمعیت علما یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ مختصر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھوپال سد بھاؤنا منچ کے صد حافظ محمد اسمعیل نے کہا کہ ہر سال کی طرح امسال بھی ہم بڑی تقریب کا انعقاد کرنا چاہتے تھے لیکن کورونا کی وبا کے سبب حکومت کی جانب سے ہمیں بڑی تقریب کا اجازت نہیں دی گئی۔

    اس لئے ہم چند لوگوں نے بھوپال شہید گیٹ پر جمع ہوکر اشفاق اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔اشفاق اللہ خان نے جس خاندان میں آنکھ کھولی تھی، اس کے اکثر لوگ برطانوی حکومت میں بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ اشفاق اللہ خان اپنے چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بڑے ریاست اللہ خان ممتاز مجاہد آزادی رام پرساد بسمل کے ہم جماعت تھے، وہ اکثر رام پرساد بسمل کی شاعری اور تحریک آزادی کے لئے ان کی اور دوسرے مجاہدین آزادی کوششوں کے قصے سنایا کرتے تھے، جس سے اشفاق اللہ خان کے دل میں بھی ملک کی آزادی کے لئےفکر پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنا سب کچھ مادر وطن کے لئے قربان کردیا۔عام طور پر جب اشفاق اللہ خان کی بات آتی ہے تو لوگ انہیں صرف ایک مجاہد آزادی ہی سمجھتے ہیں لیکن اشفاق اللہ خان ایک مجاہد آزادی کے ساتھ منفرد لب ولہجہ کے اردو کے بہترین شاعر بھی تھے۔اپنے معاصرین کا ان کا نمایاں مقام تھا۔

    اشفاق اللہ خان نے وارثیؔ اور حسرت دونوں تخلص سے بہترین شاعری کی ہے ۔مدھیہ پردیش جمعیت علما کے پریس سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ عام طور پر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد لوگوں کی خواہشات کچھ اور ہوتی ہیں، مگر اشفاق اللہ خان نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد صرف ایک ہی خواب دیکھا کہ مادر وطن کو انگریزی حکومت کو غلامی سے آزادی کرایا جائے اور یہ خواب انہیں سونے نہیں دیتا تھا۔ زندگی کی بیسویں بہار میں ہی وہ اپنے مشن کی آبیاری کے لئے رام پرساد بسمل سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ رام پرساد بسمل سے ملاقات کے بعد ان کے مشن کو اور تقویت ملی۔ جس عہد میں مولانا محمد علی جوہر ملک میں خلافت تحریک چلا رہے تھے، اس عہد میں اشفاق اللہ خان اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر عوام کو ملک کی آزادی کے لئے بیدار کر رہے تھے۔ 1922 میں چورا چوری کے پُرتشدد واقعہ کے بعد گاندھی جی نے خلافت تحریک کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ تحریک عدم تعاون کی منسوخی سے پرجوش انقلابیوں میں ایک بے چینی پیدا ہوگئی اور کئی انقلابیوں نے اعتدال کی راہ چھوڑ کر مسلح جہد وجہد کے ذریعہ ملک کی آزادی کا خاکہ تیار کیا۔ اشفاق اللہ خان بھی ایسے ہی انقلابیوں سے جاملے اور انہوں نے مسلح جد وجہد کے ذریعہ ملک کی آزادی کو زندگی کا مقصد بنالیا۔
    انقلابیوں کے لئے مسلح جد وجہد کا راستہ آسان نہیں بہت پُرخطرتھا۔ مسلح جنگ آزادی کے لئے اسلحہ کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس کے لئےکثیر رقم درکار تھی۔ انقلابیوں نے طے کیا کہ چونکہ برطانوی حکومت صدیوں سے ہندوستان کو لوٹ کر اپنا خزانہ بھر رہی ہے کیونکہ نہ برطانوی حکومت کو لوٹ کراپنا مشن پورا کیا جائے۔ مقصد کے حصول کے لئے انقلابیوں نے 8 اگست 1925 کو خفیہ میٹنگ کی اور 9 اگست 1925 کوکاکوری کے مقام پر سرکاری خزانہ کو لے کر جا رہی 8 ڈاؤن۔ سہارنپور لکھنؤ پسینجر ٹرین روک کر خزانہ لوٹ لیا۔ اس مہم میں اشفاق اللہ خان اور رام پرساد بسمل کے ساتھ دیگر 8 انقلابیوں نے شرکت کی تھی۔ کاکوری کا واقعہ انگریزی حکومت کے غرور اور طاقت پر ایک کاری ضرب تھا، جس سے برطانوی حکومت بوکھلا اٹھی تھی۔

    انقلابی مجاہدین آزادی گرفتار ہوئے اور رسم ادائیگی کے لئے عدالتی کاروائی کرتے ہوئے چار مجاہدین آزادی اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، راجندر لہری اورٹھاکر روشن سنگھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ دیگر مجاہدین آزادی کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔مولانا محمد حنیف کہتے ہیں کہ ہم لوگ آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت بلا لحا ظ قوم وملت سبھی مجاہدین آزادی کو دیا کر رہے ہیں ۔ آزادی کی لڑائی ہماری ساجھی وراثت کی لڑائی تھی اور اس کا تحفظ بھی ساجھی ذمہ داری ہے ۔ہم یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اشفاق اللہ خان کا بھوپال سے بھی گہرا تعلق رہا ہے۔ تحریک آزادی کے دوران اشفاق اللہ خان کا قیام بھوپال اٹہ شجاع خان میں بھی رہا ہے۔اشفاق اللہ خان کی 121ویں یوم ولادت کے موقع پر جہاں ہم لوگ اشفاق اللہ خان کو یاد کررہے ہیں وہیں حکومت مدھیہ پردیش سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اشفاق اللہ خان اور ان کے دیگر رفقا کی خدمات کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ نئی نسل ان کی قربانیوں سے واقف ہو سکے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: