ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش اسمبلی ضمنی انتخابات میں مسلم نمائندگی کا مطالبہ

محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ جب سبھی پارٹیوں کو ہمارا زیادہ سے زیادہ ووٹ چاہئے تو ہماری نمائندگی بھی زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے ۔ ہم نے کانگریس اور بی جے پی دونوں بڑی پارٹیوں کو میمورنڈم پیش کرکے نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش اسمبلی ضمنی انتخابات میں مسلم نمائندگی کا مطالبہ
مدھیہ پردیش اسمبلی ضمنی انتخابات میں مسلم نمائندگی کا مطالبہ

مدھیہ پردیش اسمبلی کی اٹھائیس سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر ایک بار پھر مسلم نمائندگی کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے ۔ سیاسی پارٹیاں انتخابات کے وقت مسلم ووٹرس کو رجحانے کے لئے مسلم نمائندگی کی بات تو کرتی ہیں ، لیکن مدھیہ پردیش کی تشکیل سے ابتک صوبہ میں مسلم نمائندگی کی بات کی جائے تو ہر انتخابات کے مسلم نمائندگی میں کمی درج کی گئی ہے ۔


ریاست مدھیہ پردیش کی تشکیل یکم نومبر انیس سو چھپن کو عمل میں آئی تھی ۔ ریاست کی تشکیل سے لے کر اب تک مد ھیہ پردیش کا اقتدار کانگریس اور بی جے پی کے ہی ارد گرد گھوم رہا ہے ۔ ایک لمبے عرصے تک ایم پی کے اقتدار پر کانگریس کا قبضہ رہا ہے ۔ دوہزار تین سے قبل ایم پی کے اقتدار پر کیلاش جوشی اور سندر لال پٹوا کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت ضرور قائم ہوئی ، لیکن یہ حکومتیں بڑے مختصر وقت کے لئے رہی ہیں ۔ دوہزار تین سے دوہزار اٹھارہ تک بی جے پی نے تسلسل کے ساتھ پندرہ سال حکومت کی ۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو شکست ہوئی اور کمل ناتھ کی قیادت میں ایم پی کانگریس کی حکومت ضرور قائم ہوئی لیکن یہ حکومت پندرہ مہینے تک ہی قائم رہ سکی ۔ مارچ سے اب تک شیوراج سنگھ کی قیادت میں ایم پی میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔


مدھیہ پردیش میں اقتدار بدلتا رہا ، لیکن مسلم قیادت میں کمی آتی رہی ۔ یہ زوال انیس سو بانوے کے بعد جو شروع ہوا وہ آج تک قائم ہے ۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مسلم نمائندگی کے معاملے میں سبھی سیاسی پارٹیوں کا نظریہ ایک جیسا ہی ہے ۔ انیس سو تیرانوے کے انتخابات میں ایم پی اسمبلی میں ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔ یہاں پر مسلم رجحان کی بات کریں تو وہ کانگریس کی جانب زیادہ بی جے پی جانب کم رہتا ہے ، اس کے باوجود کانگریس قیادت نے مسلم نمائندگی کو نظر انداز کرنے کا کام کیا ہے ۔


اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انیس سو اکیاسی میں جس مدھیہ پردیش میں کانگریس سے چودہ مسلم ایم ایل اے ہوا کرتےتھے ، اب وہی کانگریس اسی مدھیہ پردیش میں چودہ مسلم امیدوار تو دور کی بات ہے ، چار مسلم امیدوار کو بھی ٹکٹ دینے کو تیار نہیں ہوتی ہے ۔ دوہزار اٹھارہ اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو بی جے پی نے ایک اور کانگریس نے تین مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا ۔ کانگریس کے ٹکٹ پر بھوپال سے عارف عقیل اور عارف مسعود اسمبلی پہنچے میں کامیاب رہے ہیں ۔ اب جبکہ  مدھیہ پردیش اسمبلی کی اٹھائیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو مسلم تنظیموں نے مسلم نمائندگی کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔

 مدھیہ پردیش کی تشکیل سے ابتک صوبہ میں مسلم نمائندگی کی بات کی جائے تو ہر انتخابات کے مسلم نمائندگی میں کمی درج کی گئی ہے ۔ علامتی تصویر ۔
مدھیہ پردیش کی تشکیل سے ابتک صوبہ میں مسلم نمائندگی کی بات کی جائے تو ہر انتخابات کے مسلم نمائندگی میں کمی درج کی گئی ہے ۔ علامتی تصویر ۔


محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ جب سبھی پارٹیوں کو ہمارا زیادہ سے زیادہ ووٹ چاہئے تو ہماری نمائندگی بھی زیادہ سے زیادہ ہونی چاہئے ۔ ہم نے کانگریس اور بی جے پی دونوں بڑی پارٹیوں کو میمورنڈم پیش کرکے نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اگر اٹھائیس سیٹوں میں مسلم نمائندگی نہیں دی جاتی ہے ، تو ہمارے سامنے متبادل موجود ہیں ۔ ہم دونوں پارٹیوں کو چھوڑ کر آزاد امیدوار کی طرف بھی جا سکتے ہیں ۔ اگر نہیں ہوا تو نوٹا کا بٹن دبانے کے لئے قوم سے اپیل کریں گے ۔

وہیں سینئر صحافی ظفر عالم خان کہتے ہیں کہ مسلم نمائندگی کے نام پر سبھی پارٹیوں کا ایک ہی ایجنڈہ ہے کہ مسلم قیادت کو کمزور کرنا اور انہیں آگے نہیں بڑھنے دینا ہے ۔ سیاسی پارٹیاں ٹکٹ ہی نہیں دیں گی تو نمائندگی کیسے ہو سکتی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لئے اپنے نمائندوں کی تعداد میں اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔ مجھے تو اس بات پر بھی حیرت ہے کہ شیوراج حکومت نے اپنی کابینہ میں چودہ ایسے لوگوں کو وزارت میں شامل کیا ہے جو ایم ایل اے نہیں ہیں ۔ اگر حکومتوں کی نیت ٹھیک ہوتی تو یہ کسی مسلم کو بھی اسی طرح وزارت میں شامل کر سکتے تھے ، مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ یہی نہیں کمل ناتھ حکومت میں بھی اقلیتی اداروں میں کسی کا تقرر نہیں کیا گیا اور شیوراج حکومت میں بھی اقلیتی ادارے بیمار ہی ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 19, 2020 07:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading