ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال میں بابائے قوم گاندھی جی کی یاد گار قائم کرنے کا مطالبہ

بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم شہادت کے موقعہ پر بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام سمینار کا انعقاد کیاگیا۔ سمینار میں مدھیہ پردیش کے دانشوروں کےساتھ طلبا نے بھی شرکت کی اور گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کو ملک ضرورت سے تعبیر کیا۔

  • Share this:
بھوپال میں بابائے قوم گاندھی جی کی یاد گار قائم کرنے کا مطالبہ
بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم شہادت کے موقعہ پر بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام سمینار کا انعقاد کیاگیا۔ سمینار میں مدھیہ پردیش کے دانشوروں کےساتھ طلبا نے بھی شرکت کی اور گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کو ملک ضرورت سے تعبیر کیا۔

بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم شہادت کے موقعہ پر بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام سمینار کا انعقاد کیاگیا۔ سمینار میں مدھیہ پردیش کے دانشوروں کےساتھ طلبا نے بھی شرکت کی اور گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کو ملک ضرورت سے تعبیر کیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کا بھوپال سے گہرا رشتہ تھا ۔ گاندھی جی تحریک آزادی کے دوروان دو بار بھوپال آئے اور نواب بھوپال حمیداللہ خان کے مہمان ہوئے تھے۔گاندھی جی پہلی بار بھوپال میں انیس سو انتیس میں آئے تھے اور انہوں نے راحت منزل میں قیام کیاتھا۔ اقبال میدان میں انہوں نے چرخہ چلایا اور بینظیر گراؤنڈ میں انہوں نے عوامی جلسے سے خطاب کیاتھا۔ دوسری بار گاندھی جی انیس سو بتیس میں بھوپال میں آئے تھے ۔ بھوپال میں منعقدہ پروگرام میں دانشوروں نے گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد پر روشنی ڈالنے کے ساتھ  بھوپال سے گاندھی جی کے خاص رشتہ پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔

سمینارکی صدارت کرتےہوئے ڈاکٹر آصفہ یسین نے کہا کہ بابائے قوم نے عدم تشدد کا جو فلسفہ ہندستانیوں کو تحریک آزادی کے دوران دیا تھا اس کی معنویت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آج اس فلسفہ کی نہ صرف ہندستان کے لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے بلکہ دنیا کی مختلف قومیں اپنے اپنے ملکوں میں جب کوئی تحریک برپا کرتی ہیں تو انکی نظر ہمارے بابائے قوم کے بتائے ہوئے راستے پر ہوتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن نے مجاہدین آزادی کی قربانیوں سے نئی نسل کو جوڑنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ وقت کی ضرورت ہے۔یہ  سمینارمیری زندگی کا حاصل بن گیا۔ بھوپال میں زندگی کا بیش قیمتی حصہ گزرگیالیکن آج معلوم ہوا کہ گاندھی جی نے کہاں قیام کیاتھا۔ حکومت کو چاہیئے انہیں پھولوں کی طرح سجا کر رکھے۔

چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی جب بھوپال آئے تھے تو ان کا استقبال نواب بھوپال نے کھادی سے کیاتھا۔ بھوپال کے محل سے لیکر عام شاہراہ تک میں کھادی بچھادی گئی تھی ۔ گاندھی جی نے اس وقت کہا تھا کہ مجھے بھوپال میں راج رام کا حقیقی پرتو دکھائی دے رہا ہے ۔ جب میں راج کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب عوام کے راج سے ہوتا ہے ۔ میری نظر میں رام اور رحیم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ گاندھی جی کے اس قول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔جس دن ہمارے رہنما اپنے سیاسی مفاد سے آگے نکل کر گاندھی جی کے فلسفہ حیات پر کام کریں گے ملک چمن بن جائے گا۔

اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایم بی اے کی طالبہ زرین آفریدی اور بھوپال کی طالبہ مسیرہ شیخ کو ان کو بہترین پیپر کے لئے انعام سے سرفراز کیاگیا۔

پروگرام کے اختتام پر سبھی نے راحت منزل کی جانب پیدل مارچ کیا۔ راحت منزل وہی مقام ہے جہاں پر گاندھی جی نے بھوپال میں قیام کیاتھا۔ راحت منزل گاندھی جی کے ساتھ ڈاکٹر ذاکر حسین اور علامہ اقبال کے قیام کا بھی گواہ ہے۔ مگر افسوس کہ اب راحت منزل کا کہیں کوئی وجود نہیں ہے بلکہ اس کا نام تاریخ کی کتابوں میں رہ گیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسو سی ایشن نے حکومت سے بھوپال میں گاندھی جی کی یادگار قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 30, 2021 08:47 PM IST