உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم سماجی تنظیموں نے سبھی سیاسی پارٹیوں سے ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار کو اتارنے کا کیا مطالبہ

    وہیں پر مسلم تنظیموں کے ذریعہ ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار کو کھڑا کرنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

    وہیں پر مسلم تنظیموں کے ذریعہ ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار کو کھڑا کرنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

    وہیں پر مسلم تنظیموں کے ذریعہ ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار کو کھڑا کرنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں تین اسمبلی اور ایک پارلیمانی سیٹ کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے کانگریس اور بی جے پی کے ذریعہ امیدواروں کے انتخاب کو لیکر جہاں میٹنگ پر میٹنگ کا دور جاری ہے۔ وہیں پر مسلم تنظیموں کے ذریعہ ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار کو کھڑا کرنے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔ جوبٹ ،پرتھوی پور اور رئے گاؤں کی اسمبلی سیٹوں کے ساتھ کھنڈوا سیٹ پر ہونے والے پارلیمانی ضمنی انتخابات میں مسلم ووٹرس کا رجحان ایک اہم کردار کا حامل ہے ۔سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ضمنی انتخابات میں مسلم امیدوار پر غور نہیں کئے جانے سے جہاں مسلم تنظیمیں خفا ہیں وہیں انہوں نے سبھی سیاسی جماعتوں سے مسلم امیدوار کو موقعہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم پی میں ضمنی انتخابات کے لئے گیارہ اکتوبر تک پرچہ نامزدگی داخل کئے جائیں گے ۔ تیس اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ دو نومبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ سبھی سیاسی پارٹیوں کو مسلمانوں کا ووٹ تو چاہیے لیکن مسلم نمائندگی کو ایک پلان کے تحت سبھی سیاسی پارٹیاں نظر انداز کرتی ہیں ۔ اسمبلی انتخابات میں بھی سیاسی پارٹیوں نے مسلم نمائندگی کو نظر انداز کیا تھا اور اب ضمنی انتخابات میں بھی یہی نظریہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کھنڈوا پارلیمانی سیٹ پر مسلم ووٹ کا تناسب اڑتیس فیصد ہے اسی طرح جوبٹ،پرتھوی پور اور رے گاؤں اسمبلی میں مسلم ووٹرس کاتناسب سترہ سے انتیس فیصد کے بیچ اس کے باؤجود سیاسی پارٹیاں مسلم نمائندگی پر غور نہیں کررہی ہیں ۔ ہمارا سبھی سیاسی پارٹیوں سے مسلم نمائندگی کو دینے کا مطالبہ ہے ۔ اگر مسلم نمائندگی نہیں دی جاتی ہے تو مسلم امیدوار کو دیکھ کر ووٹ دیگا جو ان کے مقامی مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کر سکے۔
    ایم پی کانگریس کے ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ کانگریس نے ہمیشہ ہر میدان میں مسلم سماج کو نمائندگی دی ہے ۔ اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ ہر جگہ مسلم سماج کو نمائندگی دی گئی ہے ۔ضمنی انتخابات کو لیکر پارٹی کا سروے جاری ہے جس امیدوار کے حق میں سروے ہوگا اسی کو ٹکٹ دیا جائے گا۔
    وہیں ایم پی بی جے پی کے سکریٹری رجنیش اگروال کہتے ہیں کہ بی جے پی دھرم اور کاسٹ دیکھ کر سیاست نہیں کرتی ہے ۔ پارٹی کے لئے کام کرنے والا اور پارٹی کے اصولوں پر چلنے والے پارٹی کارکن کو موقعہ دیا جاتا ہے ۔ ایسا امیدوار جو پارٹی کی جیت کو یقینی بنا سکے ۔ مذہب کی سیاست کرنا اور سماج کا استحصال کرنا کانگریس کا کام ہے اور کانگریس نے آزادی کے بعد سے ابتک مسلم سماج کا استحصال ہی کیا ہے۔

    اسمبلی میں ہی نہیں راجیہ سبھا میں بھی ایم پی سے بی جے پی نے مسلم سماج کے لوگوں کو نمائندگی دی ہے ۔ اگر پچھلے پانچ سال کی بات کریں تو بی جے پی نے پانچ سال میں ایم جے اکبر اور نجمہ ہیپت اللہ کو راجیہ سبھا بھیجنے کا کام کیا ہے جبکہ کانگریس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے کسی مسلم کو راجیہ سبھا میں ایم پی سے نمائندگی نہیں دی ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: