اپنا ضلع منتخب کریں۔

    روزگار کے مواقع فراہم کئے بغیر نہیں ہوگی اردو زبان کی ترقی، مانو ریجنل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار سے دانشوروں کا خطاب

    نئی تعلیمی پالیسی میں دوسری مادری زبانوں کے ساتھ اردو کے لئے خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے اردو زبان بولنے اور لکھنے والوں کے لئے لیکن جب تک روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کا راستہ ہموار نہیں ہوگا تب تک زبان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

    نئی تعلیمی پالیسی میں دوسری مادری زبانوں کے ساتھ اردو کے لئے خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے اردو زبان بولنے اور لکھنے والوں کے لئے لیکن جب تک روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کا راستہ ہموار نہیں ہوگا تب تک زبان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

    نئی تعلیمی پالیسی میں دوسری مادری زبانوں کے ساتھ اردو کے لئے خصوصی طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے اردو زبان بولنے اور لکھنے والوں کے لئے لیکن جب تک روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کا راستہ ہموار نہیں ہوگا تب تک زبان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

    • Share this:
    مولانا آزاد نینشل اردو یونیورسٹی کے بھوپال ریجنل سینٹراور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مشترکہ بینرتلے بھوپال میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار اختتام پزیر ہوگیا ہے۔ دو روزہ قومی سمینار میں دانشوروں نے جہاں اردو کو لیکر زمینی سطح پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ وہیں انہوں نے زبان میں روزگار کے مواقع فراہم کئے بغیر اردو کی ترقی کو ناممکن قرار دیا۔ نئی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس اور ترقیاتی مشن کے حصول میں اردو میڈیم تعلیم کا کردار کے عنوان سے مانو ریجنل سینٹر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے مشترکہ بینرتلے بھوپال میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار کے آخری دن پانچ ٹیکنکل سیشن کا انعقاد کیاگیا۔ سمینار میں آف لائن اور آن ئائن دونوں طرح سے مقالہ پیش کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دو روزہ سمینار میں دانشوروں نے اردو کو نہ صرف زمینی سطح پر فروغ دینے پر زور دیا بلکہ اردو میں روزگار کے مواقع فراہم کئے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا نا ممکن قرار دیا۔ ممتاز ادیب ڈاکٹر اندر جیت دتا نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک اور سماج کی بنیاد اس وقت تک پکی نہیں ہوسکتی ہے جب تک آپ وہاں کے لوگوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کے مواقع فراہم نہ کریں۔ اردو زبان کو بطور مادری زبان لکھنے اور بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے اور اس زبان کو قومی سطح تک اس کا حقیقی درجہ ملنا چاہیئے۔ اس کے ساتھ اردو طلبا کو زیادہ سے زیادہ اردو میں کتابیں مہیا کرانے کے ساتھ سرکاری ملازمتوں میں اردو کے طلبا کو الگ پہچان ملنی چاہیئے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں دوسری مادری زبانوں کے ساتھ اردو کے لئے خصوصی طور پر انتظام کیاگیا ہے۔یہ ایک بڑا قدم ہے اردو زبان بولنے اور لکھنے والوں کے لئے لیکن جب تک روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے کا راستہ ہموار نہیں ہوگا تب تک زبان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔
    ممتاز ادیبہ ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے اردو کے فروغ میں مدارس اسلامیہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف اداروں میں مترجم کا جو لوگ فریضہ انجام دے رہے ہیں ان میں سے نوے فیصد کا تعلق مدارس اسلامیہ سے ہےاور آگے بھی مدارس کو ایک پیش رو کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مدارس کو انٹرائزز پر مبنی کورسیز کو شروع کرنے کی ضرورت ہے جو اخلاقی ضوابط کے ساتھ مارکیٹ کی ضرورت کو بھی پورا کر سکے۔
    ڈاکٹر خان شہناز بانو نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کے مفکر اور اہل قلم نے ترقیاتی مشن کے حصول میں ہمیشہ بنیاد کا کردار ادا کیا ہے اور جب تک زبان کے فروغ کو لیکر زمینی سطح پر کام نہیں کیا جائے گا عوام میں آگہی پیدا نہیں ہوگی تب تک حکومت کی پالیسی کا فائیدہ اس زبان کے لوگوں تک حقیقی معنوں میں نہیں پہنچ سکتا ہے ۔تاریخ کے اوراق کو پڑھیئے تو حیرت ہوتی ہے کہ بھوپال کے ادیبوں اور شاعروں نے اردو کے فروغ میں کتنا نمایاں کردار ادا کیا ہے لیکن اب اسی بھوپال میں اردو کو لیکر مایوسی دکھائی دیتی ہے ۔یہاں پر دور دور تک اردو کے بورڈ نہیں دکھائی دیتے ہیں ۔مہاراشٹر کی طرح یہاں پر اردو کے اسکول نہیں ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اردو میڈیم اسکولوں کو کھولنے اور اس میں اساتذہ کی تقرری کی فکر کرنا ہوگی تبھی حکومت کی اسکیم کا ہم فائیدہ اٹھا سکیں گے۔

    دہلی کی مقالہ نگار ڈاکٹر روبینہ خان نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے اردو والوں کو مایوسی سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر روبینہ خان کا کہنا کہ کوئی بھی طالب علم کسی سبجیکٹ انتخاب اس لئے کرتا ہے کہ وہ سبجیکٹ اس کی عملی زندگی میں اور اسے روزگار فراہم کرنے میں کتنا معاون ہوگا۔اردو طلبا بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن مواقع نہیں ملنے کے سببان کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں ۔حکومت نے مادری زبان میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا قدم اٹھایا ہے ہمیں اس کے خدشات کو دور کرتے ہوئے نئی راہ ہموار کرنا ہوگی۔
    ڈاکٹر ذکی محمود نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک زبان لکھنے اور پڑھننے کی حد تک محدود رہے گی تو اس سے زبان کا کارواں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ اردو کو فروغ ملے اور اردو زبان کے طلبا ترقیاتی مشن کا حصہ بنیں تو اس کے لئے اردو میڈیم اسکول قائم کرنے ہونگے۔اسی کے ساتھ حکومت کو بھی صرف اسکیم کے اعلان کرنے تک اپنے قدم کو محدود نہیں رکھنا ہوگا بلکہ اس کے لئے عملی اقدام کرنے ہونگے۔حکومت نے یہاں پر سائنس اور کامرس کے طلبا کو اردو تعلیم دیئے جانے کا اعلان تو کیا لیکن عملی طور پر ہر جگہ اس کا فقدان نظر آیا جس کے سبب اردو طلبا کو مایوسی ہوئی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: