ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں ڈاکٹروں کی مشکلات میں اضافہ ، جانئے کیا ہے معاملہ

انٹرن ڈاکٹرایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کیشو سنگھ کہتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ کورونا کے قہر میں ان سے کورونا ٹیسٹ کرنے اور اسپتال میں دوسری ڈیوٹی کے نام پر آٹھ سے بارہ گھنٹے کام لیتی ہے ، لیکن اس کے بدلے میں انہیں یومیہ کل تین سو تینتس روپیہ ہی دیا جاتا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں ڈاکٹروں کی مشکلات میں اضافہ ، جانئے کیا ہے معاملہ
مدھیہ پردیش : کورونا قہر میں ڈاکٹروں کی مشکلات میں اضافہ ، جانئے کیا ہے معاملہ

مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔ کورونا کے قہر میں اس وبائی بیماری کا علاج کرنے میں سب سے اہم کردار ڈاکٹرس ، پیرامیڈیکل اسٹاف ، انٹرن ڈاکٹرس اور نرس کررہے ہیں ، لیکن یہ سبھی حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہیں ۔ کوورونا کے قہر میں وقت پر تنخواہ ادا کرنے کا مطالبہ یا پھرتنخواہ بڑھانے کا ، اسے لے کر آیوش ڈاکٹرس ، پیرامیڈیکل اسٹاف ، نرس اور انٹرن ڈاکٹرس کئی بار احتجاج کرچکے ہیں ۔ حکومت ہر احتجاج پر ان کے مطالبات کو دور کرنے کا وعدہ تو کرتی ہے لیکن ابھی تک حکومت کے وعدے وفا نہیں ہوئے ۔ اپنے مطالبات کو لے کر گاندھی میڈیکل کالج کے انٹرن ڈاکٹرس نے آج پھر وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کی رہائیش گاہ پر گھیراؤ کیا اور انہیں اپنے سات رکنی مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا ۔


انٹرن ڈاکٹرایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کیشو سنگھ کہتے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ کورونا کے قہر میں ان سے کورونا ٹیسٹ کرنے اور اسپتال میں دوسری ڈیوٹی کے نام پر آٹھ سے بارہ گھنٹے کام لیتی ہے ، لیکن اس کے بدلے میں انہیں یومیہ کل تین سو تینتس روپیہ ہی دیا جاتا ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں این ففٹین ماسک کی قیمت اس سے زیادہ ہوتی ہے ، ایسے میں انٹرن ڈاکٹر کیا کھائے اور کہاں سےاپنی رہائش گاہ کا کرایہ اداکرے ۔ ہم نے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ سے ملاقات کر کے انہیں میمورنڈم پیش کیا ہے اور ان سے اوڈیشہ حکومت کی طرز پرکورونا قہر میں کام کر رہے انٹرن ڈاکٹرس کو یومیہ ایک ہزار روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


این ایس یووائی مدھیہ پردیش کے صوبائی کوآرڈینٹیر سنجے روی پرمار کہتے ہیں کہ آج تو وزیر میڈیکل ایجوکیشن کا گھیراؤ کرکے انہیں میمورنڈم پیش کیا گیا ہے ۔ اگر جلد ہی ڈاکٹرس ، پیرامیڈیکل اسٹاف اور انٹرن ڈاکٹرس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں ، تو اس کو لے کر سی ایم ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا ، جب تک کورونا جانبازوں کا ان کا حق ادا نہیں ہوجاتا ۔


ادھر مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ انٹرن ڈاکٹرس نے اپنا میمورنڈم پیش کیا ہے ۔ اس میں ضابطہ کے مطابق جو ہوگا ، ڈاکٹروں کے حق میں بہتر فیصلہ کیا جائے گا ۔ آج ڈاکٹر ، پیرا میڈیکل اسٹاف ، نرس اور انٹرن ڈاکٹر اگر احتجاج کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کمل ناتھ حکومت ہے ۔ اگر کمل ناتھ حکومت نے اس جانب توجہ دی ہوتی تو آج مدھیہ پردیش میں کورونا کی حالت اتنی تشویشناک نہیں ہوتی ۔

گاندھی میڈیکل کالج کے انٹرن ڈاکٹرس نے پھر وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کی رہائیش گاہ پر گھیراؤ کیا اور انہیں اپنے سات رکنی مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا ۔
گاندھی میڈیکل کالج کے انٹرن ڈاکٹرس نے پھر وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کی رہائیش گاہ پر گھیراؤ کیا اور انہیں اپنے سات رکنی مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کیا ۔


مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر پی سی شرما کہتے ہیں کہ شیوراج حکومت کی عدم توجہی کے سبب مدھیہ پردیش میں کورونا بے قابو ہوگیا ہے ۔ کمل ناتھ حکومت میں مدھیہ پردیش میں کورونا کا صرف ایک مریض تھا اور اب مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کا ہندسہ انتیس ہزار کو پار کرگیا ہے ۔ آٹھ سو چالیس کے قریب لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ ڈاکٹر ہوں ، نرس ہوں ، پیرامیڈیکل اسٹاف ہوں یا نرس ہوں ، انہیں اپنی تنخواہوں کو لے کر در در بھٹکنا پڑرہا ہے جبکہ یہ کورونا کے جانباز ہیں ۔ جب حکومت کا رویہ کورونا جانبازوں کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام لوگوں کا درد سمجھا جا سکتا ہے ۔ آپ کام کیجئے مگر کوئی مطالبہ مت کیجئے ۔ اسپتالوں میں بیڈ کی کمی ہوگئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ہوٹلوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے پیڈ کوارنٹائن کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت امیروں کے لئے کام کررہی ہے غریب ،مزدور،مجبور اور کسانوں کی جانب حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس کا کام صرف الزام لگانا ہے ۔ اسپتالوں میں بیڈ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ پیڈ کوارنٹائن کا انتظام  کیا گیا ہے ، جو لوگ پرائیویٹ طورپر کوارنٹائن ہونا چاہتے ہیں یا پرائیویٹ طور پر اپناعلاج کرانا چاہتے ہیں ، ان پر کوئی روک نہیں ہے ۔ سرکاری کی جانب سے مقررہ کووڈ سینٹر اورسرکاری اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا مفت علاج جاری تھا وہ جاری رہے گا۔

حکومت کے فیصلہ کے بعدراجدھانی بھوپال میں پرائیویٹ طور پیڈ کوارنٹائن کے لئے سولہ ہوٹلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی ریٹ لسٹ بھی جاری کردی گئی ۔ اسی طرح مدھیہ پردیش محکمہ سیاحت نے صوبہ کے بھوپال ، اجین ، ریوا ، جبلپور اور گوالیار میں پیڈ کوارنٹائن کے لئے اپنی ریٹ لسٹ جاری کردی ہے ۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جب حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اسپتالوں میں بیڈ کی کوئی کمی نہیں ہے اورحکومت کے مقرر کردہ کووڈ سینٹر وسرکاری اسپتالوں میں کورونا کا مفت علاج جاری رہے گا ، تو پرائیویٹ طور پر ہوٹلوں میں پیڈ کوارنٹائن کرنے کا فیصلہ کس کے لئے کیا گیا ہے ۔ کیا اس نظام سے بیماری کو لے کر امیر اور غریب کے بیچ فاصلہ اور نہیں بڑھے گا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 29, 2020 05:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading