ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سینئر کانگریس لیڈر و سابق گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی نے سیاسی پارٹیوں پر سازش کے تحت مسلم قیادت کو ختم کرنے کا لگایا الزام

سینئر کانگریس لیڈر و سابق گورنر اتر پردیش و اتراکھنڈ نے سیاسی پارٹیوں پر سازش کے تحت مسلم قیادت کو ختم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ڈاکٹر عزیز قریشی کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے زمینی مسلم قیادت کو ختم کر کے مفاد پرست مسلم لیڈرشپ کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔

  • Share this:

ہندستان میں مسلم قیادت کا مسئلہ روز بروز پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ مسلم قوم  کے اندر آپسی اختلافات،انتشار،مسلکی اختلافات اس حدتک گھر کر گئے ہیں کہ انہیں اپنے  قومی زوال کے لئےکسی دوسرے دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔مسلم قوم کے آپسی اختلاف کو ہوا دیکر جب سیاسی پارٹیاں اپنا مفاد پورا کرتی ہیں اور قوم کے لوگ بے بس ہوکر منظر کو دیکھتے ہیں تو انہیں اف کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی ہے۔  انیس سینتالیس میں جب ملک آزادہوا تھا اور آزادی کے ساتھ اس ملک پر تقسیم کا کاری ضرب لگا تھا تب بھی اس مشکل وقت میں مسلم قیادت زندہ تھی اور سیاسی پارٹیاں مسلم سماج کو  نمائندگی کو دینے کے لئے مجبور ہوتی تھی ۔ لیکن آزادی کے ان چوہتر سالوں میں مسلم کمیونٹی میں قوم کو ساتھ لیکر چلنے اور آپسی اتحاد کو فروغ دینے کی جو خوبیاں تھیں وہ رفتہ رفتہ مفقود ہوتی چلی گئیں اور سیاسی پارٹیوں نے مسلم سماج کو استعمال اور استحصال کر کے اس طرح نچوڑ دیا کہ وہ اب سیاست کے حاشیہ پرکھڑے نظر آرہے ہیں۔ ملک کی سیاست میں مسلم کمیونٹی کی اب نہ کوئی آواز ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کو سننے اور اسے حل کرنے کے لئے کوئی سیاسی پارٹی تیار ہے ۔ انتخابات کے وقت ضرور سیاسی پارٹیاں مسلم پرستی کا درم بھرتی ہیں لیکن انتخابات کے بعد کوئی ان کے مسائل کو سننے تک کو تیار نہیں ہوتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ملک میں مسلم قیادت کو ختم کرنے میں کسی ایک پارٹی نے اپنا کردار ادا کیا ہے بلکہ مسلم قیادت کو ختم کرنے میں پس پردہ سبھی سیاسی پارٹیوں کا کردار ایک جیسا ہے ۔ مسلمانوں نے ایک لمبے عرصہ تک کانگریس قیادت پر آنکھ بند کر کے  بھروسہ کیا مگر کانگریس نے مسلمانوں کو نئی قیادت کو کبھی ابھرنے کا موقعہ نہیں دیا۔ مدھیہ پردیش کی بات کریں تواسی کی دہائی تک مدھیہ پردیش اسمبلی میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد بارہ سو چودہ کے بیچ ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد مسلم قیادت کو ختم کرنے کا جو ایک سلسلہ شروع ہوا تو انیس تیرانوے میں ایسا بھی وقت آیا جب مدھیہ پردیش اسمبلی میں ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ یہیں نہیں جس کانگریس پارٹی سے ایم پی اسمبلی میں کبھی چودہ مسلم ممبران اسمبلی ہوا کرتے تھے اب اسی صوبہ میں کانگریس پارٹی چودہ کیا چار مسلم امیدوار کو بھی ٹکٹ دینے کو تیار نہیں ہوتی ہے۔


سینئر کانگریس لیڈر و اتراکھنڈو اترپردیش کے سابق گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی کہتے ہیں کہ ملک میں ایک سازش کے تحت مسلم قیادت کو ختم کرنے کا کام منظم انداز میں کیا جارہا ہے ۔ مسلم قیادت کو ختم کرنے کے کام میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کانگریس بھی شامل ہے ۔کانگریس میں اب کام کرنے والے مسلم لیڈرکو فروغ نہیں دیا جاتا بلکہ مفاد پرست اور داغدار مسلمانوں کو پروموٹ کر کے مسلمانوں کا رہبر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ صحت مند جمہوری نظام کے لئے سیاسی پارٹیوں کا یہ عمل ٹھیک نہیں ہے ۔سیاسی پارٹیوں کو ملک کے مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دینا چاہیئے ۔سیاسی پارٹیاں اگر مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہیں تو ملک کا مسلمان اسے کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔اگر سیاسی پارٹیوں نے اپنا نظریہ نہیں بدلا تو مسلمانوں کی مایوسی ایک دن بڑے انقلاب کا ذریعہ بنے گی اور مسلمانوں جمہوری نظام میں آئینی طریقے سے انقلاب کو لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



وہیں بھوپال میں مسلم سماجی تنظیموں نے اسمبلی ضمنی انتخابات کے پیش نطر مسلم نمائندگی کے مطالبہ کو لیکر کانگریس ،بی جے پی،سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو بھی میمورنڈم پیش کیا ہے۔ مدھیہ پردیش جمعیت علما کے جنرل سکریٹری محمد کلیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ پچھلے بیس سالوں سے ہم مسلم نمائندگی کو لیکر سیاسی پارٹیوں سے برابر مطالبہ کر رہے ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں ہمیں بھروسے میں رکھتی ہیں لیکن کرتی وہی ہیں جو ان کے اپنے ایجنڈے میں ہوتا ہے ۔انہیں مسلم قیادت کو نظر انداز کرنا ہے تو وہ مستقل اس پر عمل پیرا ہیں لیکن اب مسلم تنظیمیں نئے متبادل پر غور کر رہی ہیں۔


محبان بھارت کے صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ بات مسلم قیادت کی ہو یا مسلم اداروں کی  دونوں کی حالت نہ گفتہ بہ ہیں ۔ کمل ناتھ حکومت میں بھی مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں کو تشکیل نہیں دیا گیا اور اب شیوراج حکومت میں بھی ان کی وہی حالت ہے۔ امام و موزن ہو یا حج کمیٹی کے ملازمین انہیں کئی مہینوں سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہے ۔ ہم نے مسائل کو لیکر اقلیتی وزیر سے بات کی تو کہتے ہیں کہ معاملہ اتنا الجھا ہوا ہے کہ انہیں سمجھنے میں ہی کم از کم سال چاہیئے ۔وہی صورتحال مسلم قیادت کو لیکر ہے۔ نومبر تک مدھیہ پردیش کی اٹھائیس سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہے اور ہم نے دونوں پارٹیوں سے آبادی کے تناسب سے مسلم نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے ۔جو پارٹی  مسلمانوں کو نمائندگی دیگی ہم اس کو کامیاب کرنے کا بات کرینگے ۔اور اگر دونوں پارٹیوں نے نظر انداز کیا الیکشن کمیشن نے ہمیں نوٹا کا استعمال کرنے کا حق دیا ہے ۔اب اس بار کے انتخابات میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلت اور آدیواسی بھی بڑی تعداد میں نوٹا کا استعمال کریں گے۔

 
Published by: sana Naeem
First published: Sep 24, 2020 08:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading