ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں خشک سالی کی دستک ، بارش کیلئے لوگوں نے کیا یہ ٹوٹکا

روایت کے مطابق اندور راؤ میں گدھے پر بارات نکالی گئی اور اس بارات میں راؤ نگر صدر شیو ڈنگو سمیت بڑی تعداد میں شامل ہوئے ۔ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے بارات شمشان گھاٹ تک گئی اور وہاں پر ہاتھ میں رائی اور نمک لیکر شمشان کی الٹی پریکرما کی گئی ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں خشک سالی کی دستک ، بارش کیلئے لوگوں نے کیا یہ ٹوٹکا
علامتی تصویر

مدھیہ پردیش میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی کے حالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ جون کے مہینے میں صوبہ میں اچھی بارش ضرور ہوئی تھی ، لیکن جولائی مہینے میں بارش نہیں ہونے سے خشک سالی کے حالات پیدا ہوگئے ہیں ۔ بارش کی کمی کے سبب کسان کھیتوں میں خریف کی فصلوں کی بووائی بھی نہیں کر سکے ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ بارش نہ ہونے سے کسان پریشان ہیں اور کھتیوں میں کی جانے والی بوائی میں فرق پڑا ہے ۔ ہم اندر دیوتا سے دعا کرتے ہیں کہ اچھی بارش کردے ۔ تاکہ کسان اچھی کھیتی کر سکیں ۔ سرکار کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس سال خریف کی فصل لگانے کا نشانہ ایک سو پینتالیس لاکھ ہیکٹئر تک تھا ، جس میں سے ایک سو تیس لاکھ ہیکٹئر میں کسان کھیتوں میں فصل کی بووائی کر چکے ہیں ۔


گوالیار، چمبل ، جبلپور ڈویزنوں میں بارش کم ہوئی ہے ۔ یہاں پر نہروں کے پانی سے کھیتی کرنے کا انتظام کیاگیا ہے ۔ نربدا پورم ، بھوپال ، اجین اور اندور ڈویزنوں میں سویابین کی کھیتی ہوتی ہے اور یہاں پر فصلیں اچھی ہیں ۔ ساگر ڈویزن میں اڑد کی کھیتی ہوتی ہے ، وہاں پر اوسط سے کم بارش ہونے کے سبب پچیس فیصد ہی کھیتوں میں بوائی کی جاسکی ہے ۔  کسان اگست تک کھیت میں فصلوں کی بوائی کرتے ہیں ۔ اگر آگے بھی بارش نہیں ہوتی ہے ، تو سرکار کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔ تاکہ کسان کو قرض میں نہ ڈوبنا پڑے ۔ اسی طرح اگر قدرتی آفات اور کسی وجہ سے فصل خراب ہوتی ہے ، تو فصل بیمہ یوجنا اور پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا سے کسانوں کے نقصان کو پورا کیا جاتا ہے ۔ ایم پی حکومت اور مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ ہر وقت کھڑی ہوئی ہے ۔ کسان ہمارا انیہ داتا ہے ، ہمارا جیون داتا ہے اور کورونا کے تشویشنا ک حالات میں کسان نے ہی اپنی محنت سے عوام کو اناج اور پھل سبزی پہچانے کا کیا کام ہے ۔ ان کو کسی طرح سے ہم مایوس نہیں ہونے دیں گے ۔


 اندر دیوتا کو خوش کرنے کے لئے اندور میں انوکھے انداز میں ٹوٹکا کیا گیا ۔
اندر دیوتا کو خوش کرنے کے لئے اندور میں انوکھے انداز میں ٹوٹکا کیا گیا ۔


وہیں مدھیہ پردیش یوتھ کانگریس کے صدر و کانگریس کے نوجوان ایم ایل اے کنال چودھری  کہتے ہیں کہ یہ کسان مخالف سرکار ہے ۔ آرڈیننس کے ذریعہ جو بجٹ پاس کیا گیا ہے ، اس میں کسانوں کے لئے بجٹ میں اضافہ کرنے کی بجائے زراعت کے بجٹ میں ستر فیصد کی کمی کی گئی ہے ۔ کمل ناتھ حکومت نے کسانوں کی قرض معافی کے سلسلہ کا شروع کیا تھا اور صوبہ کے پچیس لاکھ کسانوں کا قرض معاف کیا جا چکا تھا ، لیکن شیوراج سرکار نے دوبارہ اقتدار میں آتے ہی کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ بارش نہیں ہونے سے اب تک پندرہ لاکھ ہیکٹئر زمین پر کسان اپنی فصل نہیں لگا سکے ہیں ۔ کورونا کے قہر میں کسان پہلے سے ہی پریشان ہیں ، وہیں خشک سالی نے ان کے مسائل میں اور اضافہ کردیا ہے ۔ کسان  خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ سرکار دیکھ رہی ہے کہ جولائی کا مہینے پورا ختم ہونے والا ہے اور ساگر، چمبل ، جبلپور و گوالیار ڈویزن میں اوسط سے کم بارش ہوئی ہے ، لیکن ابھی تک سرکار نے کسانوں کی راحت کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ کسانوں کے مسائل اور مزدور و مجبور لوگوں کے مسائل کو لے کر ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ، تاکہ اس گونگی بہری سرکار کو جگایا جا سکے اور سب کو اس کا حق مل سکے۔

مدھیہ پردیش میں خشک سالی کے مسائل پر سیاسی پارٹیوں کے درمیان سیاست تو جاری ہے ، وہیں اندر دیوتا کو خوش کرنے کے لئے اندور میں انوکھے انداز میں ٹوٹکا کیا گیا ۔ یہاں پر بارش نہ ہونے پر شہر کے معزز اشخاص کو گدھے پر بیٹھا کر بارات نکالنے کی روایت ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے اچھی بارش ہوتی ہے ۔ روایت کے مطابق اندور راؤ میں گدھے پر بارات نکالی گئی اور اس بارات میں راؤ نگر صدر شیو ڈنگو سمیت بڑی تعداد میں شامل ہوئے ۔ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے بارات شمشان گھاٹ تک گئی اور وہاں پر ہاتھ میں رائی اور نمک لیکر شمشان کی الٹی پریکرما کی گئی ۔ تاکہ مدھیہ پردیش میں اچھی بارش ہو سکے اور یہاں کے باشندوں و کسانوں کو خشک سالی سے راحت مل سکے ۔

ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے بارات شمشان گھاٹ تک گئی اور وہاں پر ہاتھ میں رائی اور نمک لیکر شمشان کی الٹی پریکرما کی گئی ۔
ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے بارات شمشان گھاٹ تک گئی اور وہاں پر ہاتھ میں رائی اور نمک لیکر شمشان کی الٹی پریکرما کی گئی ۔


راؤ نگر پنچایت کے صدر شیو ڈنگو کہتے ہیں کہ یہ قدیم روایت ہے ۔ جس گاؤں میں یا شہر میں  بارش نہیں ہوتی ہے تو اس گاؤں کے مکھیا یا سرپنچ کو اس کو گدھے پر بیٹھا کر الٹا چکر لگاتے ہیں اور شمشان پہنچ کر رائی اور نمک کا چھڑکاؤ کر کے الٹی پریکرما کرتے ہیں ، تو اندر دیوتا خوش ہوکر بارش کرتےہیں ۔ ہمارے شہر اور آس پاس ہی نہیں مدھیہ پردیش کے بڑے حصے سے اندر دیوتا ناراض چل رہے ہیں ، توہم نے اندر دیوتا کو خوش کرنے کے لئے یہ ٹوٹکا جو قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے ، اس کو کیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ہم چار پانچ مرتبہ ایسا کرچکے ہیں اور اچھی بارش ہوئی تھی ۔ اس لئے ہم نے اس بار پھر گدھے پر بارات نکال کر یہ ٹوٹکا کیا ہے ۔ تاکہ اچھی بارش ہو۔ ہمیں امید ہے کہ اندر دیوتا ہماری سادھنا کو قبول کریں گے اور مدھیہ پردیش میں اچھی بارش ہوگی ۔

اندر دیوتا کو خوش کرنے کے لئے گدھے پر بارات نکالنے کا کام تو روایتی انداز میں کیا گیا ، لیکن کورونا کے قہر اور لاک ڈاؤن میں جس طرح سے سوشل ڈسٹنسنگ کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹوٹکا کیا گیا ،  اس سے سوال  بھی اٹھنے لگے ہیں کہ بارش کے لئے کئے گئے ٹوٹکے میں جس طرح سے سوشل ڈسٹنسنگ کا مذاق اڑایا گیا ہے ، اس سے کورونا کی بارش شروع ہوگئی تو اس کے لئے ذمہ دار کون ہوگا ۔؟
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 28, 2020 07:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading