உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عیدگاہ کو چھوڑکر سبھی مساجد میں 50 پچاس لوگوں نے ادا کی نماز

    بھوپال کے مفتی سلیمان کہتے ہیں کہ الحمد اللہ عید الاضحی کی نماز مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی ۔

    بھوپال کے مفتی سلیمان کہتے ہیں کہ الحمد اللہ عید الاضحی کی نماز مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی ۔

    بھوپال کے مفتی سلیمان کہتے ہیں کہ الحمد اللہ عید الاضحی کی نماز مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں کورونا کی وبائی بیماری کے بیچ حفاظت کے ساتھ عبادت کے فریضہ کو انجام دیا گیا۔ راجدھانی بھوپال سمیت ریاست کے سبھی شہروں میں کووڈ۱۹ کے ضابطہ کے بیچ عیدگاہ کو چھوڑکر سبھی مساجد میں پچاس پچاس لوگوں نے عید الاضحی کی نماز ادا کی ۔مدھیہ پردیش میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ احکام میں عید گاہ کو چھوژکر باقی مساجد میں کووڈ ضابطہ کے بیچ پچاس پچاس لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عیدگاہ میں پچاس لوگوں کے نماز پڑھنے پر پابندی اس لئے عائد کی گئی کہ ہر شخص عید گاہ میں عیدالاضحی کی نماز ادا کرنے کا متمنی ہوتا ہے ایسے میں پچاس لوگوں کے انتخاب تنازع کا سبب بنتا۔
    بھوپال کے مفتی سلیمان کہتے ہیں کہ الحمد اللہ عید الاضحی کی نماز مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ ادا کی گئی ۔ نماز کی ادائیگی میں حکومت کے احکام اور علمائے دین کی ہدایت کو ملحوظ رکھا گیا تھا۔ عید الاضحی ایثار وقربانی کا تہوار ہے ۔اور قربانی کرتے وقت بھی نہ صرف راجدھانی بھوپال بلکہ تمام ہی شہروں میں صفائی کا خصوصی خیال رکھا گیاہے بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ ہمارے عمل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔اللہ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے اور عید الاضحی کے صدقے میں کورونا کی وبائی بیماری کا خاتمہ کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔
    وہیں سماجی کارکن فیض احمد کہتے ہیں کہ عیدالاضحی کا تہوار تو ضرور منایا جا رہا ہے لیکن سبھی کے دلوں میں کہیں نہ کہیں کچھ کسک رہ گئی ہے ۔ کورونا نہ صرف عید کی رونقوں کو معدوم کردیا ہے بلکہ خوشیوں کے رنگ پر بھی گہن لگا دیا ہے ۔ زیادہ تر لوگ ورچوئل ملاقات کو ہی ترجیح دے رہے ہیں ۔اپنے تہوار کے ساتھ ہمیں اپنے انسانی فریضہ کو بھی ادا کرنا ہے ۔ آج ہم لوگ سوشل ڈسٹنس کے ساتھ حکومت کی گائید لائن میں تہوار کو منارہے ہیں ۔ اس سے ہم بھی محفوظ رہیں گے اور ہمارا شہر بھی محفوظ رہے گا۔وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اپنے جذبات پر قابو کرتے ہوئے انسانیت کے بقا کے لئے کام کریں ۔ انسانیت محفوظ رہے گی تو سب محفوظ رہے گا۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش حکومت نے کورونا ریکوری شرح ننیانوے فیصد تجاوز کرنے کے بعد مساجد میں پانچ لوگوں کی پابندی کو ہٹانے ہوئے بیک وقت پچاس پچاس لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت تو دی تھی اس کے باؤجود کورونا کی وبا کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرنے کو ترجیح دی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: