உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال میں مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ روایتی انداز میں ادا کی گئی Eid ul Fitr کی نماز

    Youtube Video

    تہذیبوں کی نگری بھوپال میں عید کے موقع پر ہمیشہ سی ایم اور کابینہ وزرا کے آنے اور مصلیا ن پر پھولوں کی بارش کرنے کی روایت رہی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب عید گاہ پر سی ایم اور کابینہ کا کوئی بھی وزیر نہیں پہنچا ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں کورونا کی پابندیوں کے دو سال بعد مذہبی جوش و عقیدت کے ساتھ  روایتی انداز میں عید الفطر کی نماز ادا کی گئی ۔ مدھیہ پردیش کے باون اضلاع میں تین سو چھیانوے عید گاہ کے ساتھ چار ہزار ایک سو باسٹھ مساجد میں عید الفطر کی نماز سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ ادا کی گئی ۔ راجدھانی بھوپال میں عید گاہ سمیت چھبیس مساجد میں عید کی نماز ادا کی گئی۔ راجدھانی بھوپال کی شاہجہانی عید گاہ میں مصلیا ن کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ عید کی نماز کے موقع پر عید گاہ اور سبھی مساجد میں ملک میں امن و امان و خوشحالی کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
    تہذیبوں کی نگری بھوپال میں عید کے موقع پر ہمیشہ سی ایم اور کابینہ وزرا کے آنے اور مصلیا ن پر پھولوں کی بارش کرنے کی روایت رہی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب عید گاہ پر سی ایم اور کابینہ کا کوئی بھی وزیر نہیں پہنچا ۔ مشترکہ تہذیب کی روایت ٹوٹنے پر جہاں مصلیان نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا وہیں کھرگون میں عید کے دن بھی عیدگاہ اور مساجد میں عید کی نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دیئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔
    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی بھی پارٹی کی رہی ہو لیکن خوشیوں کے تہوار پر عید گاہ آنے اور گلے مل کر مبارکباد دینے کی قدیم روایت رہی ہے۔ حکومت کے ذریعہ نہ صرف روایت کو توڑا گیا ہے بلکہ کھرگون میں حالات سازگار ہونے کے بعد بھی عید کی نماز کی اجازت نہیں دیا جانا افسوسناک ہے ۔ حکومت کو اپنے عمل پر غور کرنا چاہیئے اور ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے جس سے سماج میں اتحاد کے بجائے انتشار کی فضا قائم ہو۔

    Eid ul Fitr: ان تصاویر میں دیکھئے دنیا بھر میں کیسے منائی گئی عید الفطر

    حکومت کے نمائندے جب ایک دوسرے کے تہواروں میں شامل ہوتے ہیں تو عوام کے ذہن و دل پر اس کااچھا اثر پڑتا ہے ۔ہم لوگ خوشیاں تو منا رہے ہیں لیکن خوشیوں کا رنگ کچھ پھیکا ہے ۔ہم حکومت اور اس میں بیٹھے لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر فرقہ پرستی پر روک نہیں لگائی تو ملک میں دہشت گردی بڑھے گی۔دہشت گردی ملک کے لئے خطرناک ہے۔دشمن طاقتیں ملک کو برباد کرنے پر لگی ہوئی ہیں۔ہم اس خوشی کے موقع پر یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک سے فرقہ پرستی کو ختم کیا جائے ۔ سبھی لوگوں کو عید کی مبارکباد۔



    وہیں سماجی کارکن انصار احمد کہتے ہیں کہ بدلی ہوئی سیاست میں بدلا ہوا منظر نامہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کو سمجھ کر آپسی اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک پہلے ہے۔ ملک متحد ہوگا،ملک ترقی کی نئی عبارت لکھے گا تو اس میں سب کا بھلا ہوگا۔ ایک بڑے طبقہ کو نظر انداز کرکے ملک کی ترقی نہیں کی جا سکتی ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: