உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خادم الحجاج پر بیس کروڑ سے زیادہ کی رقم صرف کرنے کے بعد بھی نتیجہ رہا صفر

     خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی سے نہ صرف حجاج کرام ناراض ہیں بلکہ اب سماجی تنظیموں نے بھی خادم الحجاج کے خلاف محاذ کھول کر حکومت سے سرکاری اخراجات پر جانے والے خادم الحجاج سے سفر حج کی رقم واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔

    خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی سے نہ صرف حجاج کرام ناراض ہیں بلکہ اب سماجی تنظیموں نے بھی خادم الحجاج کے خلاف محاذ کھول کر حکومت سے سرکاری اخراجات پر جانے والے خادم الحجاج سے سفر حج کی رقم واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔

    خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی سے نہ صرف حجاج کرام ناراض ہیں بلکہ اب سماجی تنظیموں نے بھی خادم الحجاج کے خلاف محاذ کھول کر حکومت سے سرکاری اخراجات پر جانے والے خادم الحجاج سے سفر حج کی رقم واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔

    • Share this:
    حج Hajj 2022 لئے حج کمیٹیوں کے ذریعہ سفر حج پر جانے والے عازمین حج کی خدمت کے لئے ملک گیر سطح پرخادم الحجاج کا انتظام کیاگیا تاکہ مقدس سفر پر جانے والے عازمین حج کو مشکلات سے بچایا جا سکے اور عازمین حج پرسکون ماحول میں بغیر کسی تکلیف کے مقدس سفر میں اپنے مذہبی فریضہ کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں مگر ملک گیر سطح پر عازمین حج کی خدمت کے لئے بھیجے گئے۔ پانچ سوسے زیادہ عازمین حج کی ناقاص کارکردگی کے سبب عازمین حج کو نہ صرف ایام حج میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ خادم الحجاج کی ناقص کردگی کے سبب عازمین حج کو اپنے ہوٹل سے منی تک پیدل بھی سفر کرنا پڑا۔ خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی سے نہ صرف حجاج کرام ناراض ہیں بلکہ اب سماجی تنظیموں نے بھی خادم الحجاج کے خلاف محاذ کھول کر حکومت سے سرکاری اخراجات پر جانے والے خادم الحجاج سے سفر حج کی رقم واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے ۔
    مدھیہ پردیش سے سفر حج پر گئے ڈاکٹر شاہد نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ خادم الحجاج خدمت کرنے کے بجائے اپنا حج کا ارکان ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔ خود انہیں خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی کے سبب ہوٹل سے منی تک پیدل سفر کرنا پڑا۔ شام چار بجے بس کے لئے حاجیوں سے کہا گیا اور بس صبح چار بجے ہوٹل پر لگائی گئی اور حاجیوں کو پوری رات بیٹھ کر انتظار کرنا پڑا۔ خادم الحجاج کی اس ناقص کارکردگی سے نہ صرف ان کا سر شرم سے جھکا ہے بلکہ ہندستان کا نام بھی عالمی سطح پر بدنام ہوا ہے۔ حکومت سے گزارش ہے کہ جن لوگوں کو سرکاری اخراجات پر خادم بناکر بھیجا جاتا ہے انہیں مقامات اور زبان کو لیکر باقاعدہ تربیت دی جائے ۔ بیشتر خادم عربی اور انگریزی زبان سے نا واقف تھے جس کے سبب بھی حاجیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ حکومت جن لوگوں کو خدمت کے لئے بھیجے وہ خدمت ہی کریں نہ کہ اپنا حج کرنے میں پورا فوکس کریں ۔
    وہیں سماجی کارکن اور مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر قاضی عظمت شاہ مکی کہتے ہیں کہ ہم نیوز ایٹین اردو کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے سفر حج شروع ہونے سے پہلے خادم الحجاج کے سلیکشن میں اقربا پروری کو اجاگر کیاتھا ۔ اگر نیوز ایٹین کی بات کو اس وقت سنجیدگی سے لیاگیاہوتا اور حکومت نے اس پر سنجیدگی سے کام کیاہوتا تو آج حاجیوں کی جن مشکلات کاہم ذکر کر رہے ہیں وہ نہیں ہوتا ۔ ہمارے پاس جو رپورٹ ہے اس کے مطابق ملک گیر سطح پر سبھی ریاستوں سے حاجیوں کی خدمت کے لئے پانچ سو اٹھائیس کے قریب خادم الحجاج مقدس سفر پر بھیجے گئے اور ان کے لئے حکومت ہند نے بیس کروڑ روپیہ صرف کیا تھا مگر افسوس کہ اتنی بڑی رقم ضائع ہوگئی ہے ۔خادم الحجاج نے اپنا کام نہیں کیا بلکہ وہ جس مقصد کے لئے بھیجے گئے تھے اسے چھوڑکر اپنا حج مکمل کرتے دیکھے گئے ۔ جب خادم الحجاج نے اپنا فریضہ ادا نہیں کیا تو ایسے میں حکومت سے گزارش ہے کہ وہ خادم الحجاج سے سفر حج کے مصارف کو واپس لے تاکہ انہیں سبق ملے ۔اسی کے ساتھ ہماری حکومت سے یہ بھی گزارش ہے کہ جن لوگوں نے نا اہل خادم الحجاج کو ضابطہ کو بالائے طاق رکھ کر مقدس سفر پر روانہ کیا تھا ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ مدھیہ پردیش سے بھی جن لوگوں کو خادم الحجاج کے فریضہ کے لئے بھیجا گیا تھا وہ بھی ناکارہ ہی رہے ۔سفر حج کی پرواز سے تین دن پہلے تک خادم الحجاج کے نام بدلے گئے ہیں جو اپنے آپ میں سسٹم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔

    پٹنہ میں Terror ModuleK کے نشانے پر تھے پی ایم مودی، بہار پولیس کا بڑا انکشاف

    گزشتہ 6 ونڈے میں رہے تھے ہاتھ خالی، اگلے 7وکٹ لیکر Shahid Afridi نے رقم کی تاریخ

    وہیں اس سلسلے میں جب مدھیہ پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی کے سکریٹری سید شاکر علی جعفری سے نیوز ایٹین اردو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ خادم الحجاج پر نظر رکھنے اور عازمین حج کی خدمت کے لئے ہم نے ایک بنایا تھا اور اس کے ذریعہ جس کی بھی شکایت آئی اس کی فوری مدد کی گئی ہے ۔لیکن جس طرح کی شکایتیں میڈیا کے ذریعہ سامنے آرہی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے آئیندہ سال میں نظام کو اور بہتر بنایا جائے گا تاکہ عازمین حج کو مشکلات سے بچایا جاسکے ۔ اگر کسی خادم کی کارکردگی کے خلاف تحریری شکایت ہوتی ہے تو اس کی ضرور جانچ کی جائے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: