உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماہر اقبال و غالب پروفیسر آفاق احمد کا انتقال

    بھوپال : بھوپال کے ممتاز ادیب پروفیسر آفاق احمد کا انتقال ہو گیا ہے۔ پروفیسر آفاق احمد گزشتہ کچھ دنوں سےعلیل تھے۔

    بھوپال : بھوپال کے ممتاز ادیب پروفیسر آفاق احمد کا انتقال ہو گیا ہے۔ پروفیسر آفاق احمد گزشتہ کچھ دنوں سےعلیل تھے۔

    بھوپال : بھوپال کے ممتاز ادیب پروفیسر آفاق احمد کا انتقال ہو گیا ہے۔ پروفیسر آفاق احمد گزشتہ کچھ دنوں سےعلیل تھے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      بھوپال : بھوپال کے ممتاز ادیب پروفیسر آفاق احمد کا انتقال ہو گیا ہے۔ پروفیسر آفاق احمد گزشتہ کچھ دنوں سےعلیل تھے۔ انہیں بھوپال کے بنسل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، جہاں انہوں نے گزشتہ رات اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ پروفیسر آفاق احمد کی پیدائش بھوپال میں 30 جولائی 1932 کوہوئی تھی ۔ ا ن کی تعلیم و تربیت بھوپال میں ہوئی۔ بھوپال میں ہی وہ درس و تدریس سے بھی وابستہ ہوئے اور ایم ایل بی کالج سے وظیفہ حسن و خدمت پر ریٹائر ہوئے ۔
      قابل ذکر ہے کہ پروفیسر آفاق احمد کے ایک نام میں کئی شخصتیں موجود تھیں ۔ وہ ایک ادیب، محقق، مفکر،صحافی ، شاعر، مترجم اور انشا پرداز تھے ۔ ان کی تخلیقات میں پریوں کی کہانی، پرشور خاموشی، مثنوی سحر البیان کی ترتیب و مقدمہ، عورت ذات (ممتاز طنز و مزاج نگار ملا رموزی کی غیر مطبوعہ کہانیوں کا مجموعہ کی ترتیب و مقدمہ)، ایک کرن اجالے کی (ممتاز افسانہ نگار راج گوپال آچاریہ کی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ) پریم چند شناسی، مجلس اقبال کی سات جلدوں کی ادارت شامل ہے ۔
      پروفیسر آفاق احمد کو ملک و بیرون ملک میں ماہر اقبال و ماہر غالب کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان کا نانہالی رشتہ چوتھی پیڑھی میں ممتاز شاعر و ادیب مولانا عباس رفعت شروانی سے ملتا ہے۔ پروفیسر آفاق احمد نے مد ھیہ پردیش اردو اکادمی اور کل ہند اقبال مرکز میں بھی بطور سکریٹری خدمات انجام دیں۔ پروفیسر آفاق احمد کو ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا ۔ مد ھیہ پردیش اردو اکاد می نے اپنے باوقار میر تقی میر اعزاز سے انہیں گزشتہ سال 26 اگست کو سرفرازکیا تھا۔
      First published: