ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اردو زبان کا مزاج داں ہوا رخصت، مشہور شاعر و ادیب پروفیسر مظفر حنفی کا انتقال

پروفیسر مظفر حنفی کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے ۔ وہ ایک زود گو شاعرکے ساتھ بہترین افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، صحافی اور مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے ادب اطفال پر بہت کام کیا ہے ۔ پروفیسر مظفر حنفی نے سفر نامہ لکھنے کے ساتھ تحقیق و تنقید ، ترتیب و تدوین کا بھی ادب میں فریضہ انجام دیا ہے ۔

  • Share this:
اردو زبان کا مزاج داں ہوا رخصت، مشہور شاعر و ادیب پروفیسر مظفر حنفی کا انتقال
اردو زبان کا مزاج داں ہوا رخصت، مشہور شاعر و ادیب پروفیسر مظفر حنفی کا انتقال

پروفیسر مظفر حنفی کا نام محمود ابو المظفر اور قلمی نام مظفر حنفی تھا ۔ مظفر حنفی کی ولادت یکم اپریل انیس سو چھتیس کو مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ہوئی اور انتقال دس اکتوبر دوہزار بیس کو دن میں ڈھائی بجے دہلی میں ہوگیا ۔ مظفر حنفی کی ابتدائی تعلیم کھنڈوا میں ہوئی ۔ پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک انہوں نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی ۔ لیکن آزادی ملک کے بعد جب اسکولوں میں اردو کی جگہ ہندی زبان کو نافذ کیا گیا تو مظفر حنفی نے بھی اردو کے ساتھ ہندی اور انگریزی زبان کو سیکھا ، لیکن اس میں وہ نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ۔ حالانکہ آٹھویں جماعت میں انہوں نے پورے ضلع میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا اور انہیں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا تھا ۔ مظفر حنفی نے کھنڈوا سے ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کی لیکن اس کے بعد انہیں نامساعد حالات سے دوچار ہونا پڑا ۔ اور حالات ایسے ہوئے کہ مظفر حنفی مستقل طور پر تعلیم حاصل نہیں کر سکے ۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت کے ساتھ اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھا ۔ انہوں نے جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کی سند حاصل کی ۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ۔


مظفر حنفی نے بھوپال سیفیہ کالج سے  بی اے ، ایل ایل بی اور اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے شاد عارفی فن و شخصیت  پر پروفیسر عبد القوی دسنوی کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ یہاں سے پروفیسر مظفر حنفی نے جو ترقی کی منزل طے کرنا شروع کیا ، تو پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔ مظفر حنفی انیس سو ساٹھ میں مدھیہ پردیش میں محکمہ جنگلات میں ملازم تھے ۔ انیس سو چوہتر میں وہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ دہلی سے وابستہ ہوئے ۔ یہاں پر تقریبا دوسال تک ملازمت کر نے کے بعد  انیس سو چھیہتر میں مظفر حنفی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ اردو ریڈر کی حیثیت سے تدریسی فریضہ انجام دتے رہے ۔ انیس سو نواسی میں کلکتہ یونیورسٹی نے انہیں اقبال چیئر میں پروفیسر کی حیثیت سے فائزکیا تھا اور پھر یہیں اقبال چیئر کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے اور یہیں سے وظیفہ حسن خدمت پر ریٹائرڈ ہوئے ۔


پروفیسر مظفر حنفی کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے ۔ وہ ایک زود گو شاعرکے ساتھ بہترین افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، صحافی اور مترجم بھی تھے ۔ انہوں نے ادب اطفال پر بہت کام کیا ہے ۔ پروفیسر مظفر حنفی نے سفر نامہ لکھنے کے ساتھ تحقیق و تنقید ، ترتیب و تدوین  کا بھی ادب میں فریضہ انجام دیا ہے ۔ پروفیسر مظفر حنفی کا شمار کثیر التصانیف میں ہوتا تھا ۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر نوے سے زیادہ کتابیں لکھیں ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں ابتک کوئی ایسا شاعر اور ادیب بیسویں صدی میں نہیں پیدا ہوا جس نے مختلف موضوعات پر اتنی کتابیں لکھی ہوں اور جو فنی اعتبار سے مظفر حنفی کے قد کو چھوسکے ۔


پروفیسر مظفر حنفی کی ادبی خدمات پر انہیں بہت سی اکادمیوں اور انجمنوں سے ایوارڈ سے نوازا تھا ۔ ایم پی ایوارڈ اکادمی نے تحقیق و تنقید کے لئے اپنے با وقار نواب صدیق حسن خاں ایوارڈ سے سرفراز کیا تھا جبکہ گزشتہ سال مدھیہ پردیش حکومت نے پروفیسر مظفر حنفی کی خدمت میں  کل اقبال ایوارڈ پیش کیا تھا۔

پروفیسر مظفر حنفی کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے ۔
پروفیسر مظفر حنفی کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے ۔


ممتاز ادیب پروفیسر محمد نعمان خان کہتے ہیں کہ پروفیسر مظفر حنفی کا انتقال صرف دہلی یا مدھیہ پردیش ہی نہیں بلکہ اردو دنیا کا بڑا خسارہ ہے ۔ یہ ایک ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی ناممکن ہے ۔ انہوں نے بھوپال ، دہلی اور کلکتہ میں ایک نسل کی تربیت کی ہے ۔ جس موضوع پر بھی انہوں نے قلم اٹھایا بھر پور لکھا اور اس کا حق ادا کردیا۔

ممتاز شاعر منظر بھوپالی کہتے ہیں کہ آج ہی کے دن اردو کی دو عظیم شخصیات ہم سے رخصت ہوئیں ہیں ۔ دوپہر میں رثائی ادب کے ممتاز محقق عظیم امروہوی کے انتقال کی خبر آئی تھی ۔ اہل اردو ابھی اس سے سنبھلے بھی نہیں تھے کہ شام ہوتے ہوتے پروفیسر مظفر حنفی کے انتقال نے ہمیں اور توڑ دیا ۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی ہے ۔ اب اردو میں کوئی مظفر یا عظیم امروہوی نہیں آنے والا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے ادب کے لئے ایسے لوگوں کو پیدا کرے تاکہ  ادب کا یہ کارواں  چلتا رہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 10, 2020 08:39 PM IST