ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جھارکھنڈ میں کھاد کی قلت سے کاشتکار پریشان ، پیلے پڑنے کھیتوں میں لگی دھان کی فصل

جھارکھنڈ میں یوریا کھاد کی عدم دستیابی سے کاشتکار پریشان ہیں ۔ ان کی ضرورتیں فی الحال پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔ حال یہ ہے کہ بغیر کھاد کے کھیتوں میں فصل پیلی پڑنے لگی ہے ۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں کھاد کی قلت سے کاشتکار پریشان ، پیلے پڑنے کھیتوں میں لگی دھان کی فصل
جھارکھنڈ میں کھاد کی قلت سے کاشتکار پریشان ، پیلے پڑنے کھیتوں میں لگی دھان کی فصل

جھارکھنڈ میں یوریا کھاد کی عدم دستیابی سے کاشتکار پریشان ہیں ۔ ان کی ضرورتیں فی الحال پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔ حال یہ ہے کہ بغیر کھاد کے کھیتوں میں فصل پیلی پڑنے لگی ہے ۔ رانچی کے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھان کی کاشتکاری ہوتی ہے ۔ حالانکہ اس مرتبہ مانسون میں کاشتکاروں کو اچھی بارش کا ساتھ ضرور ملا ، لیکن اچھی کاشتکاری کے لئے انہیں معقول مقدار میں کھاد دستیاب نہیں ہو سکی ہے ۔ رانچی کے جھیری ، چیری اور مناتو جیسے علاقوں کے کاشتکار کھاد کی عدم دستیابی کی وجہ کر بے حد پریشان ہیں ۔ کئی کاشتکاروں نے قرض لے کر اپنے کھیتوں میں فصل لگائی ہے ، لہذا انہوں نے حکومت سے جلد سے جلد بازاروں میں کھاد دستیاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔


دوسری جانب بی جے پی نے کھاد کی عدم دستیابی پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے  تمام ریاستوں کو معقول مقدار میں کھاد دستیاب کرایا ہے ۔ لیکن جھارکھنڈ میں صحیح طریقہ سے کاشتکاروں کے درمیان اس کی تقسیم نہیں کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجے سیٹھ نے کہا کہ اگر کھاد کی ضرورت ہے ، تو مرکزی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے ، لیکن ریاستی حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے ۔


اس مرتبہ مانسون میں کاشتکاروں کو اچھی بارش کا ساتھ ضرور ملا ، لیکن اچھی کاشتکاری کے لئے انہیں معقول مقدار میں کھاد دستیاب نہیں ہو سکی ہے
اس مرتبہ مانسون میں کاشتکاروں کو اچھی بارش کا ساتھ ضرور ملا ، لیکن اچھی کاشتکاری کے لئے انہیں معقول مقدار میں کھاد دستیاب نہیں ہو سکی ہے


وہیں دوسری جانب جے ایم ایم کے جنرل سیکریٹری منوج کمار پانڈے نے بی جے پی کے الزام پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے کاشتکاروں کے قرض معاف کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری ضرورتوں کا بھی خیال رکھا ہے ۔ ساتھ ہی کہا کہ کھاد کی پریشانی سے بھی کاشتکاروں کو جلد نجات دلائی جائے گی ۔

بحرحال کھاد کے تعلق سے کاشتکاروں کے مسائل حل ہوں یا نہ ہوں ، لیکن سیاست ضرور شروع ہو گئی ہے ۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا کھیتوں میں کھاد پہنچنے کا راستہ سیاسی گلیاروں سے ہو کر گزرے گا ۔؟
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 20, 2020 11:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading