உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اندور میں بنائی گئی گیتا کے بچپن کی تصویر، اہل خانہ کو تلاش کرنے کی نئی مہم شروع

    اندور : پاکستان سے 15 سال بعد وطن واپس آئی گیتا کے اہل خانہ کو تلاش کرنے کیلئے وزارت خارجہ نے از سر نو پہل کی شروعات کی ہے۔ وزارت خارجہ نے گیتا کی تصویر کا ری کرئیشن کرتے ہوئے اسے جاری کیا ہے۔ اس تصویر میں گیتا کو ویسیدکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جیسی وہ بچپن میں نظر آتی تھی۔

    اندور : پاکستان سے 15 سال بعد وطن واپس آئی گیتا کے اہل خانہ کو تلاش کرنے کیلئے وزارت خارجہ نے از سر نو پہل کی شروعات کی ہے۔ وزارت خارجہ نے گیتا کی تصویر کا ری کرئیشن کرتے ہوئے اسے جاری کیا ہے۔ اس تصویر میں گیتا کو ویسیدکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جیسی وہ بچپن میں نظر آتی تھی۔

    اندور : پاکستان سے 15 سال بعد وطن واپس آئی گیتا کے اہل خانہ کو تلاش کرنے کیلئے وزارت خارجہ نے از سر نو پہل کی شروعات کی ہے۔ وزارت خارجہ نے گیتا کی تصویر کا ری کرئیشن کرتے ہوئے اسے جاری کیا ہے۔ اس تصویر میں گیتا کو ویسیدکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جیسی وہ بچپن میں نظر آتی تھی۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      اندور : پاکستان سے 15 سال بعد وطن واپس آئی گیتا کے اہل خانہ کو تلاش کرنے کیلئے وزارت خارجہ نے از سر نو پہل کی شروعات کی ہے۔ وزارت خارجہ نے گیتا کی تصویر کا ری کرئیشن کرتے ہوئے اسے جاری کیا ہے۔ اس تصویر میں گیتا کو ویسیدکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جیسی وہ بچپن میں نظر آتی تھی۔


      وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے تصویر جاری کرتے ہوئے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گیتا کے اہل خانہ کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ گیتا کی اس تصویر کو اندور کے ایک فوٹو اسٹوڈيو میں لیا گیا اور پھر اس کا ری کرئیشن کر کے اسے جاری کیا گیاہے۔


      اس تصویر میں گیتا بالکل الگ نظر آ رہی ہے۔ عموما سر پر دوپٹہ رکھنے والی گیتا اس تصویر میں دو چوٹی اور سلوار سوٹ پہنے ہوئے ہے۔ سوروپ نے بتایا کہ گیتا کی ياددداشت کی بنیاد پر یہ تصویر بنائی گئی ہے۔


      غور طلب ہے کہ تقریبا دو ماہ پہلے وطن واپس آئی گیتا ان دنوں اندور کے گنگے بہرے انسٹی ٹیوٹ میں رہ رہی ہے۔ ابھی تک اس کے رشتہ داروں کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔


      بہار کے مہتو خاندان نے گیتا کو اپنی بیٹی بتایا تھا ، لیکن گیتا نے انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا تھا اور بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ میں بھی گیتا ان کی بیٹی نہیں نکلی ۔

      First published: