اپنا ضلع منتخب کریں۔

    بیوہ و طلاق شدہ خواتین و ان کے بچوں کے لئے مفت کمپیوٹر تعلیم کا سلسلہ

     سوسائٹی کا ماننا ہے کہ بہت سی بیوہ و طلاق شدہ خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باؤجود ٹیکنکل ایجوکیشن سے واقف نہیں ہونے کے سبب ملازمت کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہتی ہیں ،جس کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    سوسائٹی کا ماننا ہے کہ بہت سی بیوہ و طلاق شدہ خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باؤجود ٹیکنکل ایجوکیشن سے واقف نہیں ہونے کے سبب ملازمت کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہتی ہیں ،جس کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    سوسائٹی کا ماننا ہے کہ بہت سی بیوہ و طلاق شدہ خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باؤجود ٹیکنکل ایجوکیشن سے واقف نہیں ہونے کے سبب ملازمت کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہتی ہیں ،جس کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    بھوپال کی فعال سماجی تنظیم ایجوکیشن پلینٹ نے بیوہ و طلاق شدہ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے اہم قدم اٹھایا ہے ۔ سو سائٹی کے ذریعہ بیوہ و طلاق شدہ خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے جہاں تین ماہ کا مفت کمپیوٹر کورس شروع کیاگیا ہے وہیں ایسی خواتین اور ان کے بچوں کو بھی کمپیوٹر کی تعلیم سےہم آہنگ کرنے کے لئے قدم اٹھاایا گیا ہے۔ سوسائٹی کا ماننا ہے کہ بہت سی بیوہ و طلاق شدہ خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باؤجود ٹیکنکل ایجوکیشن سے واقف نہیں ہونے کے سبب ملازمت کے مواقع حاصل کرنے سے محروم رہتی ہیں ،جس کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سو سائٹی کا مقصد ان خواتین کا سہارا بنانا ہے جنہیں سماج نے چند وجوہات کے سبب اپنے سے دور کردیا ہے ۔ سو سائٹی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے دروازے بلا لحاظ قوم و ملت سبھی کے لئے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں۔

    سو سائٹی کی صدر طیبہ عرفان نے نیوز ایٹین اردو سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ جب انہوں نے کورونا کے بعد کے حالات میں قدیم بھوپال میں تعلیم یافتہ خواتین اور ان کے بے روزگار ہونے کا سروے کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ایسی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہے جو گریجوایٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں لیکن ٹیکنکل ایجوکیشن نہیں ہونے کے سبب انہیں روزگار کے مواقع فراہم نہیں ہو پا رہے ہیں۔ اور ان خواتین میں ایسی بھی خواتین ہیں جو بیوہ ہو چکی ہیں یا طلاق شدہ ہیں اور گھر و سماج کے لوگ ان کے لئے سہارا بننے کو تیار نہیں ہیں توایسی خواتین جو بیوہ ہیں یا طلاق شدہ ہیں انہیں تین ماہ کی مفت کمپیوٹر تعلیم فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے تاکہ یہ خواتین کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرکے اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں ۔ اسی کے ساتھ ان خواتین کے بچوں کو بھی کمپیوٹر تعلیم سے جوڑنے کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے۔ سو سائٹی کے دروازے بلا لحاظ قوم وملت سبھی کے لئے یکساں طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ہمارے پاس جو خواتین ہیں ان میں سبھی مذاہب کی خواتین ہیں۔جب درد سب کاایک جیسا ہے تو انہیں تعلیم اور روزگار کے مواقع بھی ایک جیسے ہی حاصل ہونا چاہئے۔


    وہیں پروگرام کے مہمان خصوصی و مساجد کمیٹی کے انچارج سکریٹری یاسر عرفات کا کہنا ہے کہ پلینٹ ایجوکیشن سو سائٹی نے بیوہ و طلاق شدہ خواتین کو مفت کمپیوٹر تعلیم فراہم کرنے کا جو قدم اٹھایا ہے وہ وقت کی بڑی ضرورت ہے۔یہ سلسلہ شہر کہ ایک حصہ تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اسے راجدھانی کے سبھی خطوں تک لے جانا چاہیئے۔ ہمارا جو بھی تعاون ہوگا اس کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔یہاں پر طیبہ ،شعیب ہاشمی اور سو سائٹی کے دیگر اراکین کی جتنی بھی ستائیش کی جائے وہ کم ہے۔ تعلیم سب سے بڑا ہنر ہے اور جس کمیونٹی نے خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا آج دنیا میں انہیں کی حکومت ہے ۔
    پروگرام میں ماہر تعلیم صہیب قریشی،مفتی علی قدر،سینئر صحافی پرویز باری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: